والدین؛رحمت کا سایہ/اُمِ عباد

ابو کے آپریشن کی جونہی اطلاع ملی ، دل پریشان سا ہو گیا۔ کسی صورت قرار ہی نہیں آرہا تھا۔ آنکھوں میں نمی اور دل میں اداسی سی تھی۔ لبوں پہ تسبیح اور بس صحت و عافیت کی دعا تھی۔
ہم نے میاں سے التجائی نظروں سے دیکھا اور پوچھا چلی جاؤں ابا سے ملنے ؟
وہ ہمیشہ کی طرح خاموش رہے۔سوچ کے جواب دیا کرتے تھے ۔
ہم نے پھر زبان کو محو ذکر کر لیا اور اللہ کے سپرد کر دیا ۔ اگلے دن انھوں نے بیٹے کو کہہ کے ہماری اسلام آباد کے لئیے بوکنگ کرا دی۔
دل سے اتنا شکر نکلا اور اپنے جیون ساتھ کے لئیے دعا نکلی جنھوں نے اپنے آرام کو ترک کر کے میری خواہش کا احترام کیا۔
اور ہم اپنی بیٹی اور چھوٹے بیٹے کے ہمراہ لاہور سے اسلام آباد روانہ ہو گئے۔
وہاں پہنچی تو ابا ہسپتال سے ڈسچارج ہو کے گھر آ گئے تھے۔
انکو دیکھ کر جو آنکھوں کو ٹھنڈک ملی اور دل کو تقویت ملی۔ بیان سے باہر ہے۔
جاتے ہی لپٹ گئی  ابو سے ،11 مہینے بعد ملاقات ہو رہی تھی۔
امی سے بھی لپٹ کے ملی۔
اف، جو سکون تھا امی کی بانہوں میں ،بیان کرنے سے قاصر ہوں۔
دل چاہ رہا تھا دیکھے جاؤں اور جی بھر کے دیکھتی رہوں انھیں۔
جوں جوں والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں،ان کی ہر تکلیف کا سن کے دل ایسے جیسے مٹھی میں آ جاتا ہے۔ ۔کہ کہیں انکا بلاوہ تو نہیں آ گیا اللہ کے یہاں سے۔کیا معلوم کتنے دن کے مہمان ہیں۔ خاص کر ہم بیٹیاں جو کم عمری میں ہی بیاہ دی جاتی ہیں۔۔ دل میں اک حسرت سی لئیے رکھتی ہیں، کہ کاش کچھ وقت اپنے والدین کو دے سکیں،جنھوں نے ہمیں پالا، پڑھایا، اور پھر کسی اور کے حوالے کر دیا بنا کسی بدلے کی تمنا کے۔۔
امی سے ابو کے آپریشن کی ساری تفصیل معلوم کی۔ ابو کی رپورٹس پڑھیں ان کو کھانے کے بعد اپنے ہاتھوں سے دوائی کھلائی اور انھیں یقین دلایا کہ وہ ٹھیک ہو جائیں گے جلد۔
شام کی چائے پہ ہم بہنوں کا ابو امی کے کمرے میں اکھٹا ہو جانا اور باتیں کرنا، بچوں کی شرارتیں انجوائے کرنا بڑا لطف دیتا تھا۔
رات کے کھانے کے بعد امی ابو کی ٹانگیں دباتے ہوئے ان سے ان کی  زندگی کے تجربے سننا۔
ابا حضور جو کالم نگار بھی ہیں ، انکی ادبی باتوں سے فیضیاب ہونا اور امی سے درس قرآن و تجوید کے اصولوں پر بات چیت کرنا۔
امی کی سوئیٹر بننے کی سلائیوں کو غور سے دیکھنا اور ساتھ انکی زندگی کے نچوڑ کی سبق آموز باتوں کو سننا۔
کیا کیا بتاؤں، کیا کیا ہیرے موتیوں کی مالائیں لگتی ہیں امی ابو کی باتیں۔
انکے کمرے کا سکون۔۔۔ ان کے بار بار دعا دیتے ہونٹ، ان کی پُرنم محبت بھری نظریں ۔۔
ان کی آج بھی اولاد کے منہ سے نکلی فرمائش کو پورا کرنے کی جستجو۔۔۔۔
ایک رات میری چھوٹی بہن نے کہا کہ گلاب جامن کھانے کا دل کر رہا ہے تو امی کو بے چینی لگ گئی  گلاب جامن بنانے کی۔ بڑی مشکل سے روکا  کہ آپکو زکام ہے، ابھی دوائی لی ہے ،آارام کریں آپ۔ ورنہ وہ تو کچن میں رات کے 11 بجے گلاب جامن بنانے چل دی تھیں۔
آج بھی دل کرتا ہے امی کی گود میں سر رکھنے کو۔ آج بھی دل کرتا ہے ابا کے کندھے لگ کر ٹی وی دیکھنےکو۔
پہلے ان سے اپنے امتحانوں کے لیے دعا کرواتی تھی اب اپنے بچوں کے لئیے کرواتی ہوں۔
پہلے ابا میرے سرٹیفیکیٹ اور رزلٹ دیکھ کر خوش ہوتے تھے، حوصلہ افزائی کرتے تھے اب وہ میرے بچوں کی  تعلیم کے لئیے فکرمند اور دعا گو رہتے۔
کتنی بڑی نعمت ہیں ماں باپ ۔جن کے پاس نہیں وہ آنسوؤں سے روتے ہیں۔
اور جن کے پاس ہیں وہ قدر نہیں کرتے۔
مگر سچ یہی ہے کہ والدین چھاؤں جیسے ہیں، تپتی دھوپ میں  والدین کنارہ ہیں، بپھرے ہوئے سمندر
میں، والدین وہ چراغ ہیں جو اندھیروں میں بھی روشنی بن کر ہمیں کامیابی کے راستے پر چلتے دیکھنا چاہتے ہیں۔
جب تک میرے پیچھے یہ دعا کرنے والے ہاتھ ہیں تب تک میں بے پرواہ سی ہوں۔ مجھے پتا ہے مجھے ڈھانپا ہوا ہے میرے والدین کی دعاؤں نے۔ جس روز یہ ہاتھ نہ رہے مجھے خود کو مضبوط کرنا پڑے گا۔۔۔ تاکہ میں اپنی نسل کو ڈھانپ سکوں۔۔۔ یہی زندگی کا پہیہ ہے۔
رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
اللہ میرے والدین کا سایہ مجھ پر قائم رکھنا۔ یہ دعاؤں والے ہاتھ سلامت رکھنا۔ اور مجھے توفیق دینا کہ میں انکی خدمت کا حق ادا کر سکوں جتنا بھی ممکن ہو۔
آمین
ایک ہفتے کا وقت گویا پر لگا کے اڑ گیا۔ ہماری واپسی تھی لاہور کی۔
لاہور میں میاں اور بچے ہمارے منتظر تھے اور یہاں والدین کی سوال پوچھتی آنکھیں ،کہ پھر کب آؤ گی؟
بڑا کٹھن ہوتا ہے والدین کو اللہ حافظ کہنا۔۔۔
گویا ہر بار رخصتی ہو رہی ہو میری۔۔
ہر بار ہی آنکھیں نم ہوتی ہیں۔ ہر بار اس دل کو یہ ڈر سا ہوتا ہے کہ کیا معلوم پھر کب ملیں۔
والدین کو بوڑھا ہوتے دیکھنا۔۔۔ بیمار دیکھنا، ضعیف دیکھنا رلا دیتا ہے اور بچوں کی طرح بلک بلک کے رونے کا دل کرتا ہے ۔مگر رونا نہیں ہے۔ انکے سامنے خود کو مضبوط رکھنا ہوتا ہے، آنسو چھپانے ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ گاڑی چل پڑتی ہے ،گھر اور گیٹ پہ  لاٹھی کے سہارے کھڑے ہوئے ابا جب نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں ۔۔۔
پھر قطرہ قطرہ آنکھوں سے وہ اشک گرتے ہیں جنھیں والدين سے چھپا کے رکھا تھا۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”والدین؛رحمت کا سایہ/اُمِ عباد

Leave a Reply