مورگن ہائوزل کی کتاب ”سیم ایز ایور“ (Same As Ever) میں ایک باب میں وہ لکھتے ہیں کہ آئیزک نیوٹن (Issac Newton) کی وفات کے بعد ان کے کمرے سے تقریباً ایک ملین الفاظ پر مشتمل مواد برآمد ہوا جو ”الکیمی“ (Alchemy) پر لکھا گیا تھا، ایک کٹر سائنسدان کے کمرے سے اس قسم کی طلسماتی اور خفیہ (Esoteric) قسم کے مواد کے ملنے کی توقع نہیں تھی اور اس وقت کے ان کے چاہنے والے جو سائنس کی پوجا کرتے تھے، نے اس بات کو شرمندگی کی وجہ سے راز رکھا کہ ان کے کٹر سائنسی لیڈر رات کی تاریکی میں چھپ چھپا کر ”الکیمی“ جیسی خرافات پر لکھا کرتے تھے۔ نیوٹن جیسا ذہین انقلابی سائنسدان کیسے آخر الکیمی جیسی جادوئی سوچ میں پڑ سکتا تھا؟
اس حرکت یا پھر کیفیت کو کارل یونگ (Carl Jung) نفسیات کی زبان ”شیڈو“ (Shadow) کہتے ہیں (اس پر میرے چینل پر آپ کو کئی وڈیوز دیکھنے کو مل سکتی ہیں)، یوں سوچیے کہ دن کی روشنی میں آپ کا کوئی مذہبی رہنما مذہب پر جوشیلا لیکچر دیتا ہو اور رات کے اندھیرے میں کچھ ایسی سرگومیوں میں ملوث ہو جو اس کے لیکچر سے متضاد ہوں۔ اس لیے توازن، اعتدال اور خود-آگاہی نہایت اہم ہوتی ہے۔ جب بھی کسی ایک طرف جھکاؤ حد سے تجاوز کر جائے گا تو اس کا خمیازہ آپ کو بھگتنا ہوگا۔
میں نیوٹن کی طرح ذہین اور انقلابی تو نہیں، ایک عام سی نفسیات دان ہونا البتہ کسی وقت میں کٹر سائنسی سوچ رکھتی رہی ہوں، مجھے عادت ہے ہر بات میں منطق کو لانے کی، منطق بیشک برتر ہے، لیکن اس کے متضاد میں جذبات اور غیر منطق ہے اور اس کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں، ہمیں جذبات اور منطق دونوں کو اعتدال میں رکھنا چاہیے۔ نفسیات دان بننے کے بعد مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ میرا سائنس اور مغربی فلسفہ کی جانب جھکاؤ ضرورت سے زیادہ ہے اور مجھے اس میں اعتدال لانے کے لیے اپنے مطالعے کا دائرہ وسیع کرنا ہوگا اور وہیں سے شروعات ہوئی مختلف فلسفوں اور مذاہب کو پڑھنے کی، سب سے آخر میں ہندو فلسفہ اور جوتش کا چناؤ کیا کیونکہ نجانے کیوں لیکن لاشعوری طور پر ہندو اور ہندوازم سے ایک کھچاؤ یا کچھ عجیب نفرت بھرے جذبات آڑے آجاتے تھے۔
آپ ہندو جوتش کو تب تک نہیں سمجھ سکتے جب تک آپ نے ہندو فلسفہ اور انکی دیومالائی کہانیوں کو سمجھ اور پڑھ نہ رکھا ہو۔ میں نے پہلے فلسفہ پڑھا اور پھر جوتش کو سیکھا ایک علم کی طرح اور یوں مجھے سمجھ آیا کہ ہندو آج بھی اس ماڈرن دور میں کیوں جوتش کا سہارا لیتے ہیں۔ حالانکہ اسکا انہیں نقصان زیادہ ہے بنسبت فائدہ کے، لیکن چونکہ یہ انکی ثقافت کا حصہ ہے تبھی وہ اسے یوں آسانی سے رد نہیں کرسکتے۔
مجھے ہندو جوتش میں سب سے دلچسپ تصور ”راہو – کیتو“ کا لگا جو کہ نفسیات دان کارل یونگ کے نظریہ ”انا – سایہ“ (Ego – Shadow) سے ملتا جلتا ہے۔ ویسے تو سوامی ویویک آنند کہتے ہیں کہ جس انسان کو خود-آگاہی (میں اسے ڈیٹا کہتی ہوں) ہو اسے کسی برتھ چارٹ یا جوتش کی ضرورت نہیں، اور میں انکی اس بات سے اتفاق کرتی ہوں۔ کیونکہ سائنسدانوں کے پاس اس وقت انسانیت کی تاریخ میں اب تک کا سب سے زیادہ ڈیٹا موجود ہے، اور انہیں کسی اسٹرالوجی یا جادو کی ضرورت نہیں۔ جس کے پاس ڈیٹا ہے وہی بادشاہ وہی جادوگر ہے۔ تھراپی میں بھی جس کلائنٹ کا سب سے زیادہ ڈیٹا میرا پاس جمع ہوتا ہے میں اتنا ہی بہتر طور پر اسے سمجھ پاتی ہوں اور اسکی مدد کر پاتی ہوں۔
راہو – کیتو میں ہمیشہ سات گھر کا فاصلہ ( 1 – 7 Axis) پایا جاتا ہے۔ جوتش میں راہو آپ کا مستقبل ہے، آپ کی چاہت ہے، آپ کا جنون (obsession )آپ کی زندگی کا وہ پہلو جہاں آپ سیکھنے اور غلطیاں کرنے آئے ہیں، برتھ چارٹ کے جس گھر میں (میں اسے زندگی کا پہلو کہتی ہوں) راہو براجمان ہو وہاں اندھیرا ہوتا ہے، آپ غلطیاں کرتے ہیں، سیکھتے ہیں اور وہی آپ کا مستقبل اور زندگی کا مقصد گردانا جاتا ہے۔ راہو جہاں براجمان ہوں وہاں آپ کو محتاط رہنا پڑتا ہے، آپ کو ہر کام کو دھیان سے چیک کرنا چاہیے، آپ کی ضرورت سے زیادہ خواہشات اور چاہتیں اس گھر میں آپ کو اندھیرے میں کھائی میں دھکیل دیتی ہیں۔ اس لیے راہو یعنی کہ خواہشات اور چاہتوں پر چیک رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر اگر راہو پہلے گھر میں براجمان ہے تو انسان اپنی ذات سے جنون کی حد تک لگاؤ رکھتا ہے، اور اتنی ہی زیادہ غلطیاں بھی کرتا ہے کیونکہ جہاں راہو ہے وہاں اندھیرا، آپ دیکھ نہیں پائیں گے اور غلطیاں کریں گے۔
بلکل اسی طرح دوسرے گھر میں فیملی، پیسہ، کھانے سے جنون
تیسرے میں بہن بھائیوں، گفتگو، سوشل میڈیا، بزنس سے لگاؤ
چوتھے میں گھر، والدہ، گاڑی، پراپرٹی، سکون سے شدید لگاؤ
پانچویں میں طاقت، تخلیق کاری، رومانس، رشتوں، بچوں سے شدید لگاؤ
چھٹے میں راہو کو دشمنوں، کورٹ کچہری سے لڑنے اور انکا خاتمہ کرنے سے جنون ہوتا ہے
ساتویں میں اپنے ہمسفر یا شادی سے شدید لگاؤ
آٹھویں میں راز کھوجنے، گہرے راز معلوم کرنے کا لگاؤ
نویں میں والد، گرو، استاد سے لگاؤ اور مذہبی اداروں پر سوال اٹھانے اور انہیں چیلنج کرنے کا جنون
دسویں میں انسان کو کیرئیر، نام اور شہرت کو حاصل کرنے کا جنون دیتا ہے
گیارہویں میں نیٹ ورکنگ اور بڑا سوشل سرکل بنانے کی چاہ شدید ہوتی ہے
جب کہ بارہویں میں راہو اپنی مہا دشا یا انتر دشا کے چلنے پر ملک سے باہر لے جاتا ہے، باہر اور غیر ملکی کلچر اور غیر ملکی لوگوں سے لگاؤ دیتا ہے
اب راہو کی متضاد انرجی (شیڈو پلینٹ) ”کیتو“ کی بات کریں گے۔
کیتو آپ کا ماضی ہے، کیتو وہ جنیات (Genetics) ہیں جو آپ تک اپنے آباء واجداد سے منتقل ہوئے ہیں۔ کیتو آپ کی جڑیں ہوتی ہیں اور انسانوں کی جڑیں انکی جنیات (Genetics) ہوتی ہیں۔ تبھی آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ کوئی بچہ محض آٹھ سال کی عمر میں پیانو بجانے کا ہنر سیکھ لیتا ہے، کیونکہ وہ ٹیلنٹ اسے کیتو سے ملا یعنی کہ آباء و اجداد سے منتقل ہوا۔
کیتو آپ کا ٹیلنٹ ہے۔ وہ ٹیلنٹ کچا یا خام (raw) ہے، اسے پالش کرنا ضروری ہوتا ہے۔ راہو – کیتو دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں لیکن ایک ماضی (جسم کا حصہ) ہے اور دوسرا مستقبل (سر یا دماغ کہہ لیں) ہے۔ آپ اپنے مستقبل میں تب تک آگے نہیں بڑھ سکتے جب تک آپ اپنے ماضی کو سمجھ کر اس سے منسلک غلطیوں یا مسائل کو حل نہیں کرلیتے۔ جب کیتو میں موجود ٹیلنٹ پالش ہوتا ہے تو وہ راہو کو مدد کرتا ہے مستقبل میں اپنا مقصد حاصل کرنے اور خواہشات پوری کرنے میں۔
برتھ چارٹ میں جس گھر میں کیتو براجمان ہے آپ کی زندگی کے اس پہلو میں آپ ماہر ہیں بس آپ کو اس مہارت کو پالش کرکے اس پہلو کو چھوڑ دینا ہوگا۔ کیونکہ کیتو جہاں بھی براجمان ہوتا ہے برتھ چارٹ میں وہاں سے وقت آنے پر آپ کو الگ (Detach) کردیتا ہے۔ کیتو کا کام آپ کو زندگی کے اس پہلو سے کاٹنا ہے جہاں آپ کو آباء و اجداد سے مہارت جنیات میں ملی ہے، آپ کو مہارت کا استعمال کرتے ہوئے مستقبل کی جانب یعنی راہو کی جانب آگے بڑھنا ہے۔
کیتو اگر پہلے گھر میں براجمان ہے تو انسان کو خود-آگاہی کا ہنر باپ دادا سے جنیات میں ملا ہے، اسے خود کی ذات سے باہر نکل کر دوسروں کو سمجھنا سیکھنا ہوگا
کیتو دوسرے گھر میں اپنے خاندان، پیسہ، گفتگو اور خاندان کے اقدار سے کاٹ کر آپ کو سسرال اور انکے اقدار کو سمجھنے کی جانب دھکیلے گا، ایسا انسان اپنی فیملی کی سکھائی باتوں کو بھول کر سسرال میں کچھ نیا سیکھے گا۔
کیتو تیسرے گھر میں آپ کو بہن بھائیوں سے دوری، بولنے سے زیادہ محسوس کرنے کی صلاحیت دیتا ہے، اور آپ کو روحانیت، استاد، مذہب کی جانب دھکیلتا ہے۔
چوتھے میں جذبات، والدہ، گاڑی گھر، سکون، لگژری سے دور لے جاتا ہے، یہ سب ہو بھی تو انسان اس سے خوشی کو محسوس نہیں کر پاتا، کیتو ان سب سے کاٹ کر آپ کو کریئر کی جانب دھکیلتا ہے، ایسا انسان گھر کی بجائے زیادہ وقت آفس میں گزارتا ہے۔
پانچویں میں کیتو بچوں، رومانس، رشتوں، تخلیق کاری سے دوری دیتا ہے، اور دھکیلتا ہے گھر سے باہر نیٹ ورکنگ کرنے پر، سوشل سرکل بنانے پر، ایسا انسان دوستوں اور سوشل سرکل میں زیادہ پایا جاتا ہے۔
چھٹے میں کیتو دشمن کورٹ کچہری سے لڑنے کی بجائے ان سے کاٹ دیتا ہے، ایسا انسان جہاں بھی تنازعہ دیکھتا ہے وہاں سے فرار حاصل کرتا ہے، کیتو اسے دنیاوی جھگڑوں سے دور روحانیت، فرار اور خاموشی کی جانب دھکیلتا ہے۔
ساتویں میں کیتو آپ کو ہمسفر سے لگاؤ کو ختم کر دیتا ہے، ایسا انسان خود کی ذات میں لگاؤ رکھتا ہے اور شادی چلانا مشکل ہوجاتا ہے۔
آٹھویں میں کیتو آپ کو روحانیت، گہرے راز کی کھوج سے لگاؤ ختم کرکے، مادی دنیا کی جانب دھکیلتا ہے۔
نویں میں والد، گرو، استاد، مذہب سے لگاؤ کو ختم کردیتا ہے، ایسے انسان کو مینٹور یا استاد نہیں ملتے، اسے اپنی ہمت اور شعور سے ہنر سیکھنے ہیں، اسے کوئی سکھانے والا نہیں ملتا۔
دسویں میں کیتو آپ کو کیریئر میں بریک دیتا ہے، انسان کے لیے باقاعدگی سے کام کرنا مشکل ہوتا ہے، اسکا کھچاؤ گھر، سکون اور آرام کی جانب زیادہ ہوتا ہے۔
گیارہویں میں کیتو اپنے نفع سے لگاؤ ختم کرتا ہے، دوستوں سے ان بن دیتا ہے، ایسا انسان مادی نفع کی جانب زیادہ کشش محسوس نہیں کرتا، اسکا جھکاؤ شہرت، رومانس، رشتوں اور بچوں کی جانب زیادہ ہوتا ہے۔
بارہویں گھر میں کیتو اچھا سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ گھر آزادی اور خرچ کرنے، چھوڑ دینے کا ہے، کیتو کو ویسے ہی کچھ حاصل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں، کیتو اس گھر میں آزادی دیتا ہے۔
راہو – کیتو کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے زندگی میں اعتدال….. راہو کی چاہت اور کیتو کی بے تعلقی میں ایک اعتدال ہونا ضروری ہے۔ آپ نے اگر کسی ایک جانب بہت جھکاؤ دکھایا تو اس کے نتائج تکلیف دہ ہوسکتے ہیں۔ زندگی ان دونوں کو توازن میں رکھنے کا نام ہے۔
مثال کے طور پر جسکا کیتو چوتھے گھر اور راہو دسویں میں ہو وہ انسان آفس اور گھر کے بیچ پھنسا رہتا ہے، اگر آفس کو سارا ٹائم دیا اور گھر کو نظر انداز کیا تو آخر کو راہو برم (illusion) ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ معلوم ہوگا کہ آفس سے کچھ ملا نہیں اور گھر فیملی بھی ہاتھ سے چلی گئی۔ اس لیے اگر آفس کو ٹائم دے بھی رہا ہے انسان تو گھر میں اپنی ذمہ داری پوری کرنا بہت ضروری ہے۔ یوں راہو – کیتو میں ایک توازن برقرار رہتا ہے۔ سو فیصد تو کوئی انسان بھی توازن برقرار نہیں رکھ سکتا البتہ زیادہ تباہی ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔
راہو – کیتو کو چھایا گرہ (shadow planet) کہا جاتا ہے تبھی انکو اندھا دھند فالو کرنا نقصان دیتا ہے، آپ کو اپنی عقل کا سہارا لے کر ان دونوں پر ریئلٹی چیک (reality check ) رکھنا پڑتا ہے۔ کیونکہ جب انسان برم میں رہتا ہے لیکن جس حقیقت کا سامنا ہوتا ہے تو کافی نقصان ہوچکا ہوتا ہے۔
جوتش دو قسم کی ہوتی ہے، ایک دقیانوسی مندر کے باہر بیٹھے چند پیسوں میں چارٹ دیکھنے والے پنڈتوں یا ہمارے یہاں پاکستانی جوتشیوں کی جو ویدک جوتش یا ایسٹرولوجی کو اسلامی بنانے کی کوشش کرتے ہیں، جو بنا زندگی کی پیچیدگی کو سمجھے آپ کے مستقبل کی پیشن گوئی کرتے ہیں اور ایک جوتش وہ ہے جو سمجھدار لوگ ریسرچ کرکے پڑھتے ہیں، آج کل جوتش کے ساتھ نفسیات کو شامل کرنے کا رواج عام ہوتا جارہا ہے۔ چونکہ میں نفسیات دان ہوں اور بیشک اس وقت نفسیات اور سائنس کے پاس زیادہ ڈیٹا ہے جوتش کی نسبت اور یہی وجہ ہے کہ نفسیات (Psychology ) بھاری پڑتی ایسٹرولوجی پر کیونکہ جیسا کہ میں نے کہا کہ ”جس کے پاس زیادہ ڈیٹا ہے وہی بادشاہ وہی راجا اور وہی جادوگر اور وہی مستقبل کی پیشن گوئی کرنے والا!
(راہو – کیتو کو سمجھنے کے لیے آپ کو ہندو-ازم میں ”سمندر منتھن“ کی دیولامائی کہانی کو پڑھنا اور سمجھنا ہوگا۔)
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں