مذہبی بحث مباحثے اور مناظرے بہت سنے اور دیکھے، لیکن ان کا فائدہ یا افاقہ کہیں نظر نہیں آیا۔ مناظروں اور بحث مباحثوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ اور مدِ مقابل کو بولنے کا موقع نہ دینے کی صورت میں ہمیشہ انتشار ہی دیکھا گیا۔
جب معاشرہ برداشت سے عاری ہو اور سننے کی سکت نہ رکھتا ہو، تو وہاں مناظرے اور مباحثے سود مند ثابت نہیں ہوتے، بلکہ وہاں درس و تدریس اور اخلاقیات کے ان مدرسین کی ضرورت ہوتی ہے جو لوگوں کو شعور دیں اور انھیں اس لائق بنائیں کہ وہ ان سچائیوں کا سامنا کر سکیں جن اصولوں پر ہم نے اپنی زندگیوں کی عمارت گڑھ رکھی ہے۔ جب ہم میں سننے کا حوصلہ نہیں ہوگا تو مدِ مقابل سے بحث کیسی؟ مباحثے، مکالمے اور مناظرے تو نام ہی برداشت اور تحمل کا ہیں۔ اگر یہی صفات کج روی کا شکار ہو جائیں، تو مکالمہ، مباحثہ اور مناظرہ کیسا؟
ہمارا معاشرہ اصولوں کی بات تو کرتا ہے اور اصول طے بھی کرتا ہے، لیکن ان پر عمل ہوتا کہیں نظر نہیں آتا۔ مناظرے، مباحثے اور مکالمے کسی کو ‘زیر’ کرنے کے لیے نہیں بلکہ سننے والوں کو ‘بیدار’ کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ انھیں یہ احساس دلانے کے لیے ہوتے ہیں کہ جھگڑوں اور مسئلوں کو نمٹانے کا یہ بھی ایک خوبصورت اور علمی طریقہ ہے۔ جیت دراصل کسی کی نہیں ہوتی، جیت کے پیمانے تو سننے والوں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں، وہی منصف ٹھہرتے ہیں کہ جیت لفظوں کے شور کی تھی یا دلیل کی؟ یہ سب وہاں بیٹھے ان تماش بینوں پر منحصر ہے جنھوں نے تالیوں کی گونج سے ثابت کرنا ہوتا ہے کہ منبر و محراب سے کوئی صاحبِ علم ‘بول’ رہا ہے یا محض کوئی ‘چنگھاڑ’ رہا ہے۔
ایسا ہی ایک علمی مکالمہ اور مباحثہ حال ہی میں ہندوستان کے شہر دہلی میں منعقد ہوا۔ ایک طرف ہندوستان کی معروف شخصیت، ممتاز شاعر اور نغمہ نگار محترم جناب جاوید اختر صاحب تھے جو اپنی چرب زبانی کے لیے کافی مشہور ہیں، اور دوسری طرف ایک ایسے صاحبِ علم تھے جن کا شہرہ فی الحال عالمی سطح پر کوئی خاص نہیں تھا، لیکن ہندوستان کے علمی و مذہبی حلقوں میں وہ اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں؛ یعنی مولانا شمائل ندوی صاحب۔ وہ ندوہ اور دیوبند کے علمی فیضان کا ایک خوبصورت امتزاج ہیں۔
ان دو شخصیات کے درمیان ہونے والی بحث ‘وجودِ باری تعالیٰ’ پر تھی کہ آیا خدا اپنا وجود رکھتا ہے؟ جہاں جاوید اختر ملحدانہ انداز اپنائے ہوئے تھے، وہیں مولانا صاحب الحاد کی جڑیں کاٹنے والی ایک توانا شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کی نظریں اس مباحثے پر ٹک گئیں کہ آج یہ حق و باطل کا معرکہ کس کے حق میں جائے گا؟ اس ڈیبیٹ کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ تھی کہ اس کے میزبان خود ایک ہندو تھے اور وہاں بیٹھے مہمانوں میں بھی اکثریت غیر مسلموں اور ملحدوں کی تھی، لیکن وہ بھی شمائل ندوی کے مدلل ‘پینچوں’ پر داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔
اس مباحثے سے قبل مولانا شمائل ندوی کی شناخت ندوہ کے علمی گوشوں اور مخصوص حلقوں تک محدود تھی، لیکن اس ایک ‘مکالمے’ نے گویا ان کی علمی صلاحیتوں پر سے پردہ اٹھا دیا۔ وہ جو محض چند ہزار فالورز کے ساتھ ایک خاموش مدرس کی زندگی گزار رہے تھے، دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا کے افق پر ایک درخشندہ ستارہ بن کر ابھرے۔ ان کی مقبولیت کا گراف اس قدر تیزی سے اوپر گیا کہ وہ لاکھوں دلوں کی دھڑکن بن گئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر دلیل میں وزن اور لہجے میں متانت ہو، تو دنیا آپ کے علم کی پیاسی ہو جاتی ہے۔
لیکن پھر کیا ہوا؟ جونہی اس مباحثے سے شہرت پانے والا یہ صاحبِ علم سوشل میڈیا کی زینت بنا اور غیروں نے ان کی علمیت کو سراہا، تو ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملا۔ وہ ڈیبیٹ جس سے متاثر ہو کر کئی بھٹکے ہوئے راہی توبہ تائب ہوئے، اسے اپنوں ہی کی نظر لگ گئی۔ افسوس! جس فکری دیوار کو تعمیر ہونے میں ایک عرصہ لگا تھا، اسے مسلکی تعصب کے علمبرداروں نے پل بھر میں زمین بوس کر دیا۔ ہمارے ہاں المیہ یہی ہے کہ صاحبِ علم چاہے کیسا ہی سماں کیوں نہ باندھ لے، کتنا ہی معقول نکتہ کیوں نہ پیش کر دے، آخرکار اسے ‘مسلک کی بھینٹ’ ہی چڑھا دیا جاتا ہے۔ ہم دلیل کی طاقت تو دیکھ لیتے ہیں، مگر اس ‘مسلکی عینک’ کو اتارنے کے لیے تیار نہیں جو ہمیں ایک ہی صف میں کھڑا ہونے سے روکتی ہے۔
ہمارے ہاں مولوی اور گویّے کے مابین عوامی برتاؤ میں ایک عجیب اور تکلیف دہ تضاد پایا جاتا ہے۔ ایک عالمِ دین کتنا ہی بڑا فلسفی کیوں نہ بن جائے، اسے مسلک کے تنگ دائرے سے باہر نہیں نکلنے دیا جاتا؛ اسے اس کے علم سے نہیں بلکہ اس کے گروہ سے پہچانا جاتا ہے۔ دوسری طرف، اگر گانے والا کوئی ‘چاہت فتح علی خان’ ہی کیوں نہ ہو، اس پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی جاتی۔ وہاں نہ کوئی تعصب آڑے آتا ہے اور نہ ہی کسی مسلکی عینک کی ضرورت پڑتی ہے۔ گویا ایک فنکار کے لیے تو ہمارے رویے نہایت فراخ ہیں، مگر جو شخص شعور اور ہدایت کی شمع روشن کرنے نکلے، اسے ہم اپنے تنگ نظر رویوں کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ کام دونوں ہی اپنی اپنی صلاحیت کے مطابق کر رہے ہوتے ہیں، مگر ایک کو ‘عوامی مقبولیت’ کا پروانہ ملتا ہے اور دوسرے کو ‘مسلک کے کٹہرے’ میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں