کونسل کا کتا اور آوارہ آرٹ/مقصود جعفری

منظر سیدھا سادہ تھا۔ یہ ایک پرانی عمارت تھی۔ جسے شہر کی آرٹس کونسل قرار دیا گیا تھا۔ اس کی سفید سیمنٹ کی دیوار پر جابجا کائی جمی ہوئی تھی۔ اس کائی کے اوپر ایک بورڈ لگا تھا جس پر لکھا تھا: عالمی ثقافتی مکالمے اور فروغِ فنون کا مرکز۔یہ بورڈ، اور نیچے کی دیوار، روزانہ ایک ہی شخص کا انتظار کرتے تھے۔ بشیر عرف بشو صاحب۔ بشیر صاحب کونسل کے اکاؤنٹنٹ تھے، لیکن خود کو آرٹ کا سرپرست سمجھتے تھے۔ ان کی سائیکل روز اسی دیوار سے ٹکر مار کر کھڑی ہوتی تھی۔

بورڈ، اور نیچے کی دیوار کے علاوہ انتظار کرنے والی ایک اور مخلوق بھی تھی۔ایک آوارہ کتا، جسے کونسل کے چوکیدار نےکونسل نام دے رکھا تھا۔کونسل کتا بالکل عام سا تھا۔ پیلا، دُبلا، ہمیشہ تھکا ہوا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی دانشمندی اور تھوڑی سی بیزاری تھی۔ وہ روز شام کو بشیر صاحب کی سائیکل کے ٹائر پر پیشاب کرتا تھا، یہ بشیر صاحب اور کونسل کتے کے درمیان ایک خاموش ثقافتی تبادلہ تھا۔

اس روز کونسل میں بہت شور تھا۔ کسی بہت عظیم و غریب آرٹ کی نمائش تھی۔ بشیر صاحب کا موڈ بےحد خراب تھا۔ آج آٹھویں بار ان کی منظوری کے بغیر ایک ماڈرن آرٹسٹ نے ایک پرانی سائیکل کو جلا کر دیوار پر لٹکا دیا تھا۔ اور اس کا نام رکھا تھا۔جدید شہری زندگی کا جلتا ہوا استعارہ۔

بشیر صاحب نے اپنے گلے میں لٹکا ہوا بڑا سا رومال ٹھیک کیا اور کونسل کتے کو گالی دی۔ کم بخت! تو میری سائیکل پر پیشاب کرتا ہے، مگر اس جلی ہوئی سائیکل کو دیکھ ! اس کی قیمت ایک لاکھ روپیہ ہے۔ آج میں سمجھا، فن اور پیشاب دونوں قدر و قیمت کے تابع ہیں۔کونسل کتے نے اس فلسفے پر کوئی توجہ نہیں دی۔ وہ صرف بشیر صاحب کے ہاتھ میں موجود تندوری نان کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر نگاہیں جمائے ہوئے تھا۔ اس کے نزدیک سارا فن، ساری آرٹ اور ساری فلاسفی اس نان کے ٹکڑے سے شروع ہو کر اسی پر ختم ہوتی تھی۔

تقریب شروع ہوئی۔ ایک لمبے بالوں والا آدمی، جسے سب کیوریٹر کہہ رہے تھے، مائیک پر آیا۔خواتین و حضرات! اس نے گرجدار آواز میں کہا۔ آج ہم اس فن پارے میں آوارہ پن کی آزادی کو دیکھتے ہیں۔ ایک جلتی ہوئی سائیکل – یہ شہری زندگی کی بے بسی ہے۔ یہ بھٹکتے ہوئے انسان کا المیہ ہے۔ یہ ہماری سڑکوں پر آوارہ گھومنے والے لاوارث کتوں کا نوحہ ہے۔

اس نے جذباتی ہو کر اپنا ہاتھ ہوا میں لہرایا، اور اسی لمحے، عمارت کے عین سامنے سڑک پر سے آوارہ کتوں کا گینگ ایک جلوس کی صوت نکلا۔ وہ کسی مقامی بلّی کے تعاقب میں تھے، اور ان کا غصہ ایک بلند اور کریہہ ’باؤؤؤؤؤؤؤ‘ کی شکل میں کونسل کے شیشوں سے ٹکرایا۔کیوریٹر کا جملہ درمیان میں لٹک گیا۔ ایک لمحے کے لیے، نمائشی ہال میں مکمل خاموشی چھا گئی۔بشیر صاحب نے دیکھا۔ ان کا اپنا کتا، کونسل، وہ ہال کے اندر جھانک رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں وہ ہی دانشمندی اور بیزاری تھی۔ جب باہر والا گینگ زور سے بھونکا، تو اندر بیٹھے فنکار سہم گئے۔
بشیر صاحب نے سر ہلایا۔اصل فن سڑک پر ہے اور نقلی آرٹ کونسل کے اندر۔

بشیر صاحب نے جیب سے بچا ہوا تندوری نان کا ٹکڑا نکالا اور اسے کونسل کتے کے سامنے پھینک دیا۔”لے بھئی کتے۔ بشیر صاحب نے کہا۔تُو ہی آوارہ پن کی اصل آزادی ہے۔ یہ کیوریٹر، یہ سائیکل، یہ ساری بکواس – یہ سب دو نمبر ہے۔ یہ سب نان کے ٹکڑے کے بغیر بیکار ہے۔کونسل کتے نے بغیر کسی ڈرامے کے، انتہائی سادگی اور سنجیدگی سے وہ نان اٹھایا اور اسے ایک ہی جھٹکے میں ہضم کر لیا۔ پھر اس نے بشیر صاحب کو دیکھا۔ اس کی خاموش آنکھوں میں جیسے لکھا تھا۔آرٹ کونسل میں نہیں، پیٹ میں ہوتا ہے۔

اس لمحے، کیوریٹر نے مائیک پر کہا۔یہ آواز،یہ آوارہ کتوں کا نوحہ، یہی حقیقی آواز ہے۔ یہ ایک فن پارے سے زیادہ قیمتی ہے۔اور بس۔ وہ آواز، جو ایک بھوکے کتوں کے گینگ کا شور تھا، عالمی ثقافتی مکالمے کا حصہ بن گئی۔ لوگوں نے زوردار تالیاں بجائیں، اور کسی نے فوراً ہی اس بھونکنے والی آواز کو ریکارڈ کرنے کے لیے ایک سٹوڈیو قائم کرنے کا منصوبہ بنا لیا۔

بشیر صاحب ہنس پڑے۔ ایک بالکل سادہ، عام اور بیزار سی ہنسی۔انہوں نے دل میں کہا۔فن! یہ صرف ایک سڑک کے کتے اور ایک تندوری نان کے درمیان کا معاملہ ہے۔ اور ہمارا کام صرف اس سادگی کو کاغذوں میں الجھا کر پیچیدہ بنانا ہے۔کونسل کتا، اپنا فن دکھا چکا تھا۔ اب وہ خاموشی سے بشیر صاحب کی سائیکل کے ٹائر کے پاس گیا، اور انتہائی سنجیدگی کے ساتھ اپنے ثقافتی فرائض انجام دینے لگا۔ وہ جانتا تھا کہ بشیر صاحب کل پھر آئیں گے، اور یہ رشتہ، یہ ثقافتی تبادلہ، اب عالمی ادب کا حصہ بن چکا ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply