سال کے آخری دن ہمیشہ ایک خاص کیفیت لے کر آتے ہیں۔ کیلنڈر کا آخری ورق پھاڑتے ہوئے ہم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ شاید مسائل بھی اسی کاغذ کے ساتھ ردی کی ٹوکری میں چلے جائیں گے۔ ٹی وی چینلز پر “سالِ گزشتہ کی جھلکیاں” چلتی ہیں، سوشل میڈیا پر کامیابیوں کے خودساختہ سرٹیفکیٹ بانٹے جاتے ہیں، اور ہم سب اجتماعی طور پر خود کو تسلی دیتے ہیں کہ چلو، ایک اور سال گزار لیا۔ مگر اصل مسئلہ یہی ہے کہ ہم سال گزارتے ہیں، مسائل ہمیں گزار دیتے ہیں۔
یہ سال بھی یوں ہی ختم ہوا۔ شور کے ساتھ، نعروں کے ساتھ، دعوؤں کے ساتھ۔ لیکن اگر ذرا خاموشی سے پیچھے مڑ کر دیکھیں تو سوالات کا ایک ہجوم کھڑا نظر آتا ہے جو نہ صرف ہمارا راستہ روکے کھڑا ہے بلکہ ہم سے جواب مانگ رہا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ سوال ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے سوال پوچھنے کی عادت ہی ترک کر دی ہے۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ہر نیا سال پرانے وعدوں کے ری میک کے ساتھ آتا ہے۔ تعلیم بہتر ہوگی، صحت عام آدمی کی دسترس میں ہوگی، مہنگائی کنٹرول میں ہوگی، نوجوانوں کو روزگار ملے گا، انصاف دروازے پر دستک دے گا۔ مگر سال کے اختتام پر پتا چلتا ہے کہ تعلیم اب بھی تجربہ گاہ ہے، صحت اب بھی سفارش مانگتی ہے، مہنگائی اب بھی جیب سے پہلے عزت نکالتی ہے، نوجوان اب بھی بیرونِ ملک ویزے کی قطار میں کھڑے ہیں اور انصاف اب بھی تاریخ پر تاریخ لیتا ہے۔
ہم ناکامی کو بھی جشن کی شکل میں منانے کے عادی ہو چکے ہیں۔ اگر معیشت گرتی ہے تو ہم اسے “ایڈجسٹمنٹ” کہتے ہیں، اگر ادارے کمزور ہوں تو اسے “ٹرانزیشن” کا نام دے دیتے ہیںاور اگر عوام پس جائیں تو اسے “قربانی” قرار دے دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ قربانی ہمیشہ عوام ہی کیوں دیتے ہیں؟ اور کامیابی کا کریڈٹ ہمیشہ مخصوص چہروں کو کیوں ملتا ہے؟
اس سال بھی نوجوانوں کے لیے بڑے بڑے منصوبے بنے۔ اشتہارات میں نوجوان مسکراتے رہے، اسٹیج پر تقاریر ہوتی رہیں، مگر زمینی حقیقت یہ رہی کہ نوجوان سب سے زیادہ بے یقینی کا شکار رہا۔ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود وہ خود کو غیر ضروری محسوس کرتا رہا۔ ڈگری ہاتھ میں تھی، مگر مستقبل ہاتھ سے پھسلتا رہا۔ سوال یہ ہے کہ اگر نوجوان ہی غیر محفوظ ہو تو قوم محفوظ کیسے ہو سکتی ہے؟
ہم نے اس سال بھی عورت کے حقوق پر سیمینار کیے، بینرز لگائے، قراردادیں پاس کیں، مگر گھریلو تشدد، ہراسمنٹ اور غیرت کے نام پر قتل کی خبریں نہیں رکیں۔ عورت کے تحفظ پر بولنے والے بہت ہیں، مگر عورت کو محفوظ بنانے والے کم۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے مسائل صرف تقریروں سے حل ہوں گے یا ہمیں واقعی اپنے سماجی رویوں کا احتساب کرنا ہوگا؟
میڈیا نے اس سال بھی اپنا کردار نبھایاہر چیز کو بریکنگ نیوز بنانے کا کردار۔ اصل مسائل پس منظر میں چلے گئے اور غیر ضروری تنازعات سرخیوں میں آ گئے۔ شور اتنا زیادہ رہا کہ سچ کی آواز دب کر رہ گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا میڈیا عوام کی رہنمائی کے لیے ہے یا صرف توجہ حاصل کرنے کی مشین بن چکا ہے؟
سیاسی منظرنامہ بھی کچھ مختلف نہ تھا۔ الزامات، جوابی الزامات، جلسے، دھرنے اور وعدوں کی بارش۔ عوام ایک بار پھر تماشائی بنے رہے۔ ہر فریق خود کو نجات دہندہ اور دوسرے کو مسئلے کی جڑ قرار دیتا رہا۔ مگر کسی نے یہ نہیں بتایا کہ مسئلہ حل کیسے ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا سیاست صرف اقتدار کا کھیل رہ گئی ہے یا واقعی خدمت کا نام بھی ہے؟
معاشی اعتبار سے یہ سال عام آدمی کے لیے خاصا بھاری رہا۔ تنخواہ وہی، اخراجات دگنے۔ بجلی، گیس، پٹرول سب نے مل کر عام آدمی کی نفسیات پر حملہ کیا۔ صبر کا درس دینے والے آرام دہ کمروں میں بیٹھے رہے اور صبر کرنے والا پسینے میں بھیگا رہا۔ سوال یہ ہے کہ پالیسی بنانے والوں اور پالیسی بھگتنے والوں کے درمیان یہ فاصلہ کب کم ہوگا؟
اور پھر ہم خود۔۔۔ ہاں، ہم عوام۔۔۔ ہم نے بھی اس سال خود سے بہت کم سوال پوچھے۔ ہم نے آسان راستہ اختیار کیا، خاموشی کو حکمت سمجھا اور مصلحت کو دانشمندی کا نام دیا۔ ہمیں شکایت تو بہت ہے، مگر شرکت کم۔ تنقید تو بہت ہے، مگر ذمہ داری قبول کرنے کا حوصلہ کم۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہم خود نہیں بدلیں گے تو تبدیلی کہاں سے آئے گی؟
سال کا ختم ہونا دراصل وقت کا رک جانا نہیں، بلکہ ایک موقع ہےسوچنے کا، سمجھنے کا اور سوال کرنے کا۔ سوال اس لیے نہیں کہ مایوسی پھیلے، بلکہ اس لیے کہ سمت درست ہو۔ اگر ہم نے اگلے سال بھی انہی سوالوں کو نظرانداز کیا تو امکان ہے کہ اگلے سال کے آخر میں بھی ہم یہی لکھ رہے ہوں گے: سال ختم ہوا، سوال باقی ہیں۔
اصل کامیابی یہ نہیں کہ سال گزر جائے، بلکہ یہ ہے کہ ہم کچھ سیکھ کر آگے بڑھیں۔ ورنہ کیلنڈر بدلتے رہیں گے، تقریریں ہوتی رہیں گی اور سوال ہمیشہ کی طرح۔۔۔ہمارا انتظار کرتے رہیں گے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں