ہجروفراق کے مارے ہوؤں کا وصال/سراجی تھلوی

ہجرو فراق کی ازیت ناک داستانیں خلقتِ انسانی کے ساتھ ازل سے جڑی ہوئی ہیں۔ابو البشر حضرتِ آدم و حوا کی جدائی سے شروع ہونے والا یہ سفر حضرت یوسف و یعقوب سے ہو کر ہنوز جاری ہے۔
میں جب پاکستان میں ہوا کرتا تھا۔تب میری انٹرنیٹ پر ماسٹر صادق ہرداس کے ساتھ گفت و شنید ہوتی تھی۔ماسٹر صادق صاحب بلتی ادب و ثقافت کے ساتھ نہایت دلچسپی رکھتے ہیں۔کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔غالبا انہوں نے پاکستان کا سفر بھی کر رکھا ہے۔تب میں سوچتا تھا کہ ان کرگل و لداخ میں بسنے والوں کے ساتھ ملاقات کیسے ہوگی؟سرحدوں کی بندشیں کیا صرف ہمارے لیے ہے؟پانی تو یہاں سے وہاں ،وہاں سے یہاں سفر کرتا ہے۔دریا بہتے ہیں۔ہوائیں گزرتی ہیں۔پرندے اُڑ کر جاتے ہیں۔کیا انسان اتنا سنگِ دل ہے؟اپنوں سے ملاقاتیں ہونے نہیں دیتا۔بلتستان کے لوک گیت،داستانیں انہی جدائیوں کا نوحہ ہے۔
میں نے ان لوک گیتوں،داستانوں کو پڑھنے کے بعد کرگل و لداخ اور بلتستان کی جدائی پر اس وقت شاعری کرنے کی کوشش کی۔جو اب بھی سوشل میڈیا پر موجود ہے۔سینے میں موجود یہ حسّاس دل ہمیشہ تڑپتا رہتا تھا۔پنجاب میں کرتاپور باڈر کھول دیتے ہیں۔لیکن بلتستان میں کچھ قدم کے فاصلے پر ہوتے ہوئے ماں بیٹی سے،بوڑھا باپ جوان بیٹے سے نہیں مل سکتے۔کچھ طویل جدائیوں کے بعد ملاقات کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔لیکن ملاقات کی خوشی سے بڑھ کر پھر سے جدائی کا صدمہ انسان کو جینے نہیں دیتا۔
جب سے میں ایران آیا ہوں ۔اک سنگم ہے جہاں ہماری ملاقاتیں ہوتی ہیں۔
پچھلے پانچ ،چھے سالوں میں کرگل ،لداخ کے متعدد دوستوں سے ملاقاتیں ہوئی ،بہت سوں کے ساتھ رہنے ،سہنے کا موقع ملا ۔زبان و فرہنگ اک ،آداب و اقدار ایک ،شکل و شمائل اک لیکن سرحدوں کی لکیریں جدائیوں کا سامان الگ شناخت پر مجبور
ہمارے دوست حسین صاحب کا تعلق ہندوستان سے ہے۔وہاں کے نوربخشی مدرسے سے فارغ التحصیل ہیں۔علم و ادب سے شغف رکھتے ہیں۔مطالعہ و تحقیق سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ہم دونوں پچھلے تین سالوں سے اک ساتھ ایران کے شہر قُم میں ہوتے ہیں۔ہمارا شب و روز اک ہے ۔ساتھ کھانا ،ساتھ پینا ۔ہمارا دُکھ درد اک ہے۔ہمارا فکر اک ہے۔ہم دونوں ہی اک مشن کے سپاہی ہیں۔ہم دونوں شاہ سید محمد نوربخش رح کے ماننے والے ہیں۔لیکن سرحد کی لکیر ہم دونوں کی شناخت الگ کرتے ہیں۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply