پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کچھ شخصیات محض نام نہیں ہوتیں، وہ عہد بن جاتی ہیں۔ وقت آگے بڑھتا رہتا ہے، حکومتیں بدلتی رہتی ہیں مگر ان شخصیات کی یاد ہر دور میں زندہ رہتی ہے۔ شہید جمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو بھی ایسی ہی ایک تاریخ ساز شخصیت تھیں، جنہیں یاد کرنا صرف ماضی کی طرف دیکھنا نہیں بلکہ اپنے حال اور مستقبل کا محاسبہ کرنا ہے۔
محترمہ بے نظیر بھٹو ایک سیاسی خاندان کی وارث ضرور تھیں، مگر ان کی اصل پہچان جدوجہد تھی۔ انہوں نے سیاست کو سہولت نہیں بلکہ قربانی کے طور پر اپنایا۔ کم عمری میں والد کی پھانسی کا زخم سہا، جیلوں کی سختیاں برداشت کیں، جلاوطنی کے تلخ دن دیکھے، بھائیوں کے بچھڑنے کا دکھ جھیلا اور پھر بھی ٹوٹ کر بکھرنے کے بجائے وہ مزید مضبوط ہو کر ابھریں۔ یہ حوصلہ کسی عام انسان کے بس کی بات نہ تھی۔
آمریت کے دور میں ایک نوجوان خاتون کا ڈٹ جانا، جمہوریت کے حق میں آواز بلند کرنا اور قید و بند کے باوجود پیچھے نہ ہٹنا، اس دور کا ایک ناقابل فراموش باب ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو جانتی تھیں کہ یہ راستہ آسان نہیں، مگر انہوں نے سہولت کے بجائے سچ کا انتخاب کیا۔ ان کے نزدیک سیاست اقتدار کا کھیل نہیں بلکہ عوام کے حق کی جدوجہد تھی۔
وہ مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں، مگر یہ منصب ان کے لیے فخر سے زیادہ آزمائش تھا۔ اقتدار میں آ کر بھی وہ عام آدمی کے دکھ درد کو نہیں بھولیں۔ مزدور، کسان، خواتین، اقلیتیں اور نوجوان ان کی سیاست کا محور تھے۔ وہ سمجھتی تھیں کہ قوموں کی ترقی تعلیم، صحت اور روزگار کے بغیر ممکن نہیں۔ اگرچہ ان کے دور حکومت میں رکاوٹیں بہت تھیں، مگر نیت صاف تھی اور سمت درست۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کی شخصیت کا سب سے روشن پہلو اُن کی جرات تھی۔ انہیں بارہا جان سے مارنے کی دھمکیاں ملیں، خطرات سے آگاہ کیا گیا، مگر وہ خوف کے سامنے جھکنے والی نہیں تھیں۔ وطن واپسی کا فیصلہ کرتے وقت انہیں معلوم تھا کہ یہ سفر جان لیوا بھی ہو سکتا ہے، پھر بھی انہوں نے عوام کے درمیان جانے کو ترجیح دی۔ ان کا یقین تھا کہ اگر جان بھی چلی جائے تو جمہوریت کا سفر نہیں رکنا چاہیے۔
27 دسمبر 2007 کی شام پاکستان کے لیے قیامت سے کم نہ تھی۔ راولپنڈی میں گولیوں کی آواز، دھماکے کی گونج اور پھر وہ خبر جس نے پورے ملک کو سکتے میں ڈال دیا۔ شہید جمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو ہم سے جدا ہو گئیں۔ وہ لمحہ آج بھی دل کو چیر دیتا ہے، جیسے قوم اپنے سائے سے محروم ہو گئی ہو، جیسے امید کا چراغ اچانک بجھ گیا ہو۔
ان کی شہادت محض ایک فرد کی موت نہیں تھی، یہ جمہوریت پر حملہ تھا۔ یہ اس سوچ کو خاموش کرنے کی کوشش تھی جو عوام کو بااختیار دیکھنا چاہتی تھی۔ ان کے بعد سیاست میں ایک خلا پیدا ہوا، ایسا خلا جو آج بھی محسوس ہوتا ہے۔ ان جیسی جرات، ان جیسا وژن، اور عوام سے ایسا گہرا رشتہ بہت کم رہنماؤں کے حصے میں آیا۔
محترمہ بے نظیر بھٹو صرف ایک سیاسی رہنما نہیں تھیں، وہ ایک ماں، ایک بیٹی اور ایک عورت بھی تھیں۔ اقتدار کے شور میں بھی ان کے دل میں اپنے بچوں کے لیے وہی فکر تھی جو ہر عام ماں کے دل میں ہوتی ہے۔ مگر انہوں نے ذاتی سکون کو قومی مفاد پر قربان کر دیا۔ ان کی زندگی کا المیہ یہ تھا کہ انہیں بار بار صفائیاں دینی پڑیں، الزامات کا سامنا کرنا پڑا اور کردار کشی کی مہمات جھیلنی پڑیں، مگر انہوں نے کبھی شکوہ نہیں کیا۔ انہیں یقین تھا کہ اصل فیصلہ وقت کی عدالت کرتی ہے۔
وہ عوام سے بات کرنے کا سلیقہ جانتی تھیں۔ جلسوں میں ان کی آواز میں درد بھی ہوتا تھا اور حوصلہ بھی۔ وہ نفرت کے بجائے امید کی بات کرتیں، اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھتیں اور سیاست کو دل جوڑنے کا ذریعہ مانتیں۔ ایک ایسا پاکستان ان کا خواب تھا جہاں آئین کی بالادستی ہو، بندوق کے بجائے ووٹ کی طاقت فیصلہ کرے اور کسی کو اپنے وجود کے تحفظ کے لیے خوفزدہ نہ ہونا پڑے۔
ان کی شہادت کے بعد ملک بھر میں جو منظر دیکھنے میں آیا وہ تاریخ کا دردناک باب ہے۔ آنسوؤں میں ڈوبی سڑکیں، خاموش چیخیں اور ایک ایسا سوگ جو لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ غم کسی ایک جماعت کا نہیں تھا، یہ ہر اس شخص کا دکھ تھا جو جمہوریت پر یقین رکھتا تھا۔ اس دن ہمیں احساس ہوا کہ ہم نے صرف ایک لیڈر نہیں کھویا، ہم نے ایک سمت کھو دی ہے۔
آج کی سیاست پر نظر ڈالیں تو محترمہ بے نظیر بھٹو کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ برداشت کم اور تلخی زیادہ ہے، مکالمہ کم اور محاذ آرائی زیادہ۔ شاید اس لیے کہ بے نظیر بھٹو جیسی قیادت تاریخ میں کم ہی پیدا ہوتی ہے، جو اقتدار کو خدمت اور سیاست کو عبادت سمجھتی ہو۔
خراج عقیدت کا یہ لمحہ ہمیں خود سے سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ کیا ہم نے ان کی قربانی کا حق ادا کیا۔ کیا ہم نے جمہوریت کو واقعی مضبوط کیا۔ اگر نہیں، تو یہ یادگار تحریر محض آنسو نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔
شہید جمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو آج بھی ہمیں پیغام دیتی محسوس ہوتی ہیں کہ خوف کے سامنے جھکنا نہیں، ناانصافی پر خاموش نہیں رہنا اور امید کا دامن نہیں چھوڑنا۔ وہ جسمانی طور پر ہم میں موجود نہیں، مگر ان کا نام آج بھی زندہ ہے، ان کا نظریہ آج بھی سانس لیتا ہے اور ان کی قربانی آج بھی ہم سے سوال کرتی ہے۔ شاید یہی شہادت کی اصل پہچان ہے کہ انسان چلا جائے، مگر اس کی سوچ ہمیشہ کے لیے زندہ ہو جائے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں