گزشتہ دنوں گلگت بلتستان کے ممتاز قوم پرست رہنما اور سابق رکن اسمبلی نواز خان ناجی کا ایک ویڈیو وائرل ہوا۔ جس میں انہوں نے ہنزہ کو گلگت بلتستان کیلئے ایک رول ماڈل قرار دیا۔ انکا یہ بیان سوشل میڈیا اور مقامی حلقوں میں بہت زیادہ موضوع بحث بنا ہوا ہے، دیکھا جائے تو ہنزہ کو اکثر ترقی، تعلیم اور سیاحت کے حوالے سے ایک مثالی ضلع سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہنزہ واقعی میں گلگت بلتستان کی نئی نسل کے لیے ایک مکمل رول ماڈل ہے؟ یا اس کی چمک دمک کے پیچھے کچھ سنگین مسائل بھی چھپے ہوئے ہیں جو اجتماعی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں؟ ہنزہ کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ راجہ غزل خان سے لے کر راجہ غضنفر علی خان تک، اقتدار کی سیاست زیادہ تر سہولت کاری اور بیرونی قوتوں کے مفادات کا تحفظ اور وابستگی پر مبنی رہی ہے۔ تاریخی طور اٹھارویں صدی کے اواخر میں برطانوی انگریزوں نے ہنزہ نگر مہم (Hunza-Nagar Campaign) کے تحت ہنزہ اور نگر پر حملہ کیا، جس کی بنیادی وجہ والی ہنزہ نگر میر صفدر علی خان کا روسیوں سے روابط رکھنا بتایا جاتا اور برطانویوں کو چین کی طرف راستہ دینے سے انکار کر رہے تھے۔ اس مہم کی وجہ سے میر صفدر علی خان اپنے بھائیوں (محمد نفیس خان اور محمد ناظم خان) سمیت چین (سنکیانگ/کاشغر) کی طرف بھاگ گئے۔ جب وہ پسپا ہوئے تو برطانوی فوج نے ان کے بھائی محمد ناظم خان کو واپس بلایا اور 1892 میں ہنزہ کا میر مقرر کیا۔ یعنی ہنزہ کی چابی ایک غیر ملکی الہ کار کے سپرد کردی اور میر صفدر علی خان سنکیانگ میں غربت میں رہے اور 1930 میں وفات پا گئے۔ اس کے بعد میر غضن خان سے لیکر میر جمال خان اور میر غضنفر علی خاں کی تاریخ میں ہنزہ کی سیاست میں سوائے جمہوریت کے اقتدارِ کیلئے انگریزوں اور ڈوگروں کی سہولت کاری اور عوامی استحصالی کی پوری داستان نظر آتا ہے جو کہ طویل موضع بحث ہے، لیکن جو کام ہنزہ کیلئے آغا خان فاؤنڈیشن آج کرتے آرہے ہیں یقیناً لائق تحسین ہے اور پوری دنیا کیلئے رول ماڈل ہے آج ہنزہ میں اسماعیلی طریقت کی مرہونِ منت ہے کہ کمیونٹی میں تعلیم کا فروغ اور زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کی شرکت عام ہے، جو آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ لیکن معاشرہ آج بھی چند سرمایہ داروں، ہوٹل مالکان اور سیاسی سہولت کاروں کے قبضے میں ہے۔ اگر شاہراہ قراقرم ہنزہ سے نہ گزرتی تو شاید یہ ضلع بھی کھرمنگ یا دیگر دور افتادہ علاقوں جیسا ہی ہوتا، جہاں ترقی اور سیاسی شعور کی شدید کمی ہے۔ اس صورتحال میں نواز خان ناجی کا ہنزہ کو رول ماڈل قرار دینا، گلگت بلتستان کی مزاحمتی سیاست اور عوامی حقوق کی جدوجہد مزاحمت تحریک کے بلکل برعکس ہے۔ہنزہ کی ترقی کو روایتی جی ڈی پی یا سیاحت کے کاروبار سے موازنہ کرنا اور اس کاروبار کی تباہ کاریوں جس میں ماحولیاتی تباہی، پانی کی آلودگی اور قدرتی وسائل پر قبضہ جیسے سنگین مسائل سے نظریں چرانے کے مانند ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق ہنزہ میں نئی تعمیرات کی وجہ سے سیوریج سسٹم فیل ہو رہا ہے، جھیلوں اور دریاؤں کا پانی آلودہ ہو رہا ہے، اور پینے کے پانی کی نجکاری کے خدشات موجود ہیں۔ بجلی اور صحت کی سہولیات بھی اب نجی شعبے کے ہاتھوں فروخت ہورہا ہے جو کہ آنے والے وقتوں میں عام آدمی شدید منفی اثر ڈالے گا۔ پس نواز خان ناجی کا بیان بھی سابق وزیراعلیٰ اور موجودہ گورنر سید مہدی شاہ کے اس بیان کی یاد دلاتی ہے جب انہوں نے کہا تھا کہ ترقی دیکھنی ہو تو گلگت بلتستان آئیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہنزہ کے نوجوانوں میں انفرادی سطح پر شعور تو موجود ہے، مگر اجتماعی سیاسی اور معاشی تربیت کا فقدان شدید ہے۔ نتیجتاً خودکشی اور منشیات جیسے سماجی مسائل تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ اس وقت تعلیم یافتہ نوجوانوں میں روزگار کے بہتر مواقع نہ ہونے اور دیگر سماجی معاشرتی اور نفسیاتی مسائل کی وجہ کے خودکشی جیسے واقعات پیش آرہے ہیں اور ہنزہ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں بلکہ یہاں یہ شرح زیادہ ہے۔ لیکن بدقسمتی سے جس ضلع کو رول ماڈل قرار دیا جارہا ہے وہاں اس قسم کے مسائل کی روک تھام کیلئے اسماعیلی کونسل اور سیاسی قیادت کی طرف سے کوئی جامع لائحہ عمل نظر نہیں آتا۔ لہٰذا، نواز خان ناجی کا بیان ذاتی رائے تو ہو سکتا ہے، مگر حقیقت سے دور ہے۔ ہنزہ کی ترقی کو رول ماڈل بنانے سے پہلے مہنگی تعلیم و صحت، وسائل کی نجکاری، ماحولیاتی تباہی اور نوجوانوں کے سماجی مسائل پر غور اور اس حوالے مذہبی بنیادوں پر سمینار کا انعقاد ضروری ہے۔ گلگت بلتستان کی نئی نسل کو ہنزہ کے چکاچوند سے متاثر ہونے کے بجائے سرخ نعروں سے نکل کر اپنے معاشرے کی تشکیل نو اور قومی سیاست کی فروغ کیلئے جدوجہد کرنی چاہیے، تاکہ ترقی حقیقی طور پر عوام دوست اور پائیدار ہو

حوالہ جات۔ تاریخ گلگت بلتستان کشمیر اور دیگر ذرائع ابلاغ
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں