• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • یورپ کی ایک کہانی سے سبق: پاکستان میں اینٹی بائیوٹکس کے غلط استعمال کی تباہ کاریاں/ڈاکٹر مسلم یوسفزئی

یورپ کی ایک کہانی سے سبق: پاکستان میں اینٹی بائیوٹکس کے غلط استعمال کی تباہ کاریاں/ڈاکٹر مسلم یوسفزئی

حال ہی میں ایک قریبی دوست نے پولینڈ کے سفر کا ایک دلچسپ واقعہ سنایا۔ وہاں چھوٹی موٹی چوٹ لگنے پر ہسپتال گئے تو ڈاکٹر نے زخم دیکھ کر آرام سے کہا کہ یہ خود ہی ٹھیک ہو جائیں گے، اگر درد رہے تو ایکس رے کروا لینا۔ گردن کے شدید درد کی شکایت پر پین کلر دینے کی بجائے فزیوتھراپسٹ کے پاس بھیج دیا۔ کوئی اینٹی بائیوٹک نہیں، کوئی جلد بازی نہیں—بس جسم کی قدرتی طاقت پر بھروسہ۔
یہ سن کر دل میں پاکستان کی تصویر ابھر آئی، جہاں ہلکا سا بخار بھی ہو تو لوگ فوراً اینٹی بائیوٹک کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ خود میرے ساتھ پچھلے چند سالوں میں بار بار شدید بخار ہوا، مگر میں نے صرف پیناڈول اور بروفن سے کام چلایا۔ ڈاکٹرز سے ملنے پر بھی اب وہ احتیاط کرتے ہیں۔ یورپ میں اتنی سختی اور یہاں اتنی لاپرواہی—یہ فرق کیوں؟
اصل مسئلہ ہے اینٹی بائیوٹکس کا بے جا استعمال، جس سے بیکٹیریا مزاحمت پیدا کر رہے ہیں۔ یہ خاموش وبا پاکستان میں ہر سال لاکھوں لوگوں کی جان لے رہی ہے، عام بیماریاں جان لیوا بن رہی ہیں، اور اگر نہ روکا گیا تو ایک دن علاج ہی نہ بچے گا۔
پاکستان میں غلط استعمال کی جڑیں
یہاں اینٹی بائیوٹکس میڈیکل سٹور سے آسانی سے مل جاتی ہیں۔ لوگ خود ڈاکٹر بن جاتے ہیں، ہلکا زکام ہو تو سیپروفلوکساسن یا ایزیتھرومائیسن کھا لیتے ہیں۔ ڈاکٹرز بھی اکثر کمیشن کی خاطر براڈ سپیکٹرم ادویات تجویز کر دیتے ہیں، حالانکہ زیادہ تر بخار وائرس کی وجہ سے ہوتے ہیں جن پر یہ ادویات بیکار ہیں۔
جانوروں کی فارمنگ میں بھی بے تحاشا استعمال ہوتا ہے، جو خوراک کے ذریعے انسانوں تک مزاحمت پہنچاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ بیکٹیریا ارتقاء کر کے طاقتور ہو رہے ہیں۔
سپر بگز کا عروج
پہلے ٹائیفائیڈ یا نمونیا جیسے مرض ایک کورس سے ٹھیک ہو جاتے تھے، اب کئی ادویات کام نہیں کرتیں۔ 2016 سے سندھ میں ایکسٹینسیولی ڈرگ ریزسٹنٹ ٹائیفائیڈ پھیلا، جو پانچ طرح کی اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحم ہے۔ ٹی بی، ہسپتال انفیکشن، ای کولی—سب مزاحمتی کا شکار۔
بچے، بوڑھے، کمزور قوت مدافعت والے سب سے زیادہ متاثر۔ بار بار غلط ادویات سے جسم کی قدرتی لڑنے کی طاقت کمزور پڑ جاتی ہے۔ معاشی نقصان الگ—طویل علاج، مہنگی ادویات، کام چھوٹنا۔
یورپ کا ماڈل: احتیاط کی مثال
پولینڈ جیسے ملکوں میں قوانین سخت ہیں۔ اینٹی بائیوٹکس صرف لیب ٹیسٹ کے بعد، تصدیق شدہ بیکٹیریل انفیکشن پر دی جاتی ہیں۔ ہلکے مرض میں آرام، پانی، علامات کنٹرول کرنے والی ادویات۔ عوام کو بھی سکھایا جاتا ہے کہ وائرس پر اینٹی بائیوٹک بیکار۔
اس احتیاط سے وہاں مزاحمت کم ہے۔ ہمارے ہاں قوانین تو ہیں مگر عمل نہیں، میڈیکل سٹورز پر پابندی نہیں، زراعت میں بھی کوئی روک ٹوک نہیں۔
ذاتی تجربہ اور جسم کی طاقت
میں نے تین سال سے اینٹی بائیوٹک نہیں کھائی۔ بخار ہو تو آرام کرتا ہوں، خوب پانی پیتا ہوں، اچھی خوراک لیتا ہوں—جسم خود لڑ لیتا ہے۔ یہ کوئی معجزہ نہیں، فطرت کا قانون ہے۔ جب موقع دیں تو قوت مدافعت مضبوط ہوتی ہے۔
مگر ہمارے معاشرے میں “جلدی ٹھیک ہونے” کی دوڑ نے ہمیں کمزور بنا دیا۔
آگے کا راستہ
اب وقت ہے کہ ہم سب مل کر بدلیں۔ میڈیکل سٹورز پر اوور دی کاؤنٹر فروخت بند ہو۔ ڈاکٹرز ٹیسٹ کے بغیر نہ لکھیں، کمیشن نہ لیں۔ عوامی مہم چلے کہ بخار پر فوراً اینٹی بائیوٹک نہ کھائیں۔ ویکسینیشن بڑھائیں، حفظان صحت سکھائیں۔ جانوروں میں غیر ضروری استعمال روکیں۔
ڈاکٹرز، فارماسسٹ، مریض—سب کی ذمہ داری ہے۔ یورپی احتیاط اپنائیں تو ہم بھی یہ ادویات آنے والی نسلوں کے لیے بچا سکتے ہیں۔ ابھی عمل نہ کیا تو کل بہت دیر ہو جائے گی۔ ہمارے بچوں کی صحت داؤ پر ہے—آئیے مل کر اس وبا کو روکیں۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply