تاریخ اس بات کا شاہد ہے کہ جب کسی ملک کے اثاثہ جات فروخت ہونا شروع ہو جائے سمجھ جائیں اور ملک کے حکمران نااہل ہیں اور کرپشن نظام کا حصہ گیا ہے، بدقسمتی یہی حال اس وقت پاکستان کا ہے اس حوالے سے آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ بھی موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ اس وقت ملکی اثاثہ جات فروخت کرنے کی حد تو نوبت آئی ہے۔ اس تناظر میں حکومت نے ایک اور اہم قومی اثاثہ نجی کمپنی کو فروخت کردیا۔ لیکن اس بار خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ قومی ایئرلائن پی آئی اے، کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی اور پی ٹی سی ایل کی طرح کسی غیر ملکی کے ہاتھوں فروخت ہونے کے بجائے پاکستان کے ایک مقامی تاجر گروپ کے ہاتھوں میں گئی۔ عین ممکن تھا کہ اگر کوئی غیر ملکی کمپنی بولی میں شامل ہوتی تو یہ قومی اثاثہ بھی غیر ملکیوں کو فروخت ہو جاتا، کیونکہ ایسا تاثر پیدا ہوگیا ہے کہ موجودہ حکومت میں قومی غیرت اور قومی اثاثوں کی حفاظت سے یا تو بے خبر ہے یا اسے کوئی پرواہ نہیں۔ یہ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت معاشی اصلاحات اور نظام کو درست کرنے کے بجائے سیاسی معاملات میں الجھی ہوئی ہے۔ اس اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پاکستان میں ایک عام آدمی کسی طرح زندگی گزار رہے ہیں، جہاں بجلی،پانی گیس ناپید ہوگیا ہے وہیں قومی اثاثوں کی نیلامی بھی جاری ہے۔ پاکستان کا قومی ائیرلائن پی آئی اے ایشیا کی پہلی ایئر لائن تھی جس نے بوئنگ ٹرپل 7 خریدا اور مختلف ملکوں میں اپنے روٹس بنائے۔ پی آئی اے کو مدر آف ایئر لائنز کیوں کہا جاتا تھا کیونکہ اس نے بہت سی ہوائی کمپنیوں کو بنانے میں مدد کی، جیسے سنگاپور، ایمریٹس، اور ائیر لنکا مالٹا آئر شامل ہیں۔ تاریخی دستاویزات کے مطابق میرزا میرزا ابوالحسن اصفہانی جو متحدہ ہندوستان میں اورینٹ ایئرویز کے بانی اور مالک تھے۔ پاکستان کے قیام سے قبل، قائد اعظم محمد علی جناح نے ملک کے لیے ایک قومی ایئرلائن کی ضرورت محسوس کی۔ انہوں نے معروف تاجر میرزا احمد اصفہانی اور آدم جی حاجی داؤد کی مالی مدد سے 23 اکتوبر 1946 کو کلکتہ میں اورینٹ ایئرویز کی بنیاد رکھی۔ یہ برصغیر کی واحد مسلم ملکیت والی ایئرلائن تھی۔ پاکستان کے قیام کے وقت، نئی مملکت مالی طور پر کمزور تھی اور اپنی ایئرلائن قائم کرنے کے قابل نہ تھی۔ تقسیم ہند کے دوران لاکھوں مہاجرین کی نقل مکانی اور مشرقی و مغربی پاکستان کے درمیان فاصلے کو دیکھتے ہوئے ہوائی رابطے کی اشد ضرورت تھی۔ اورینٹ ایئرویز نے تقسیم کے فوراً بعد آپریشنز پاکستان منتقل کر لیے اور ریلیف فلائٹس چلائیں۔ 1955 میں، اورینٹ ایئرویز کو سرکاری ادارے کے ساتھ ضم کر کے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) قائم کی گئی۔ میرزا احمد اصفہانی پی آئی اے کے پہلے چیئرمین بنے اور 1962 تک یہ ذمہ داری نبھائی۔ یہ ضم ایک طرح کا عطیہ تھا کیونکہ نجی ایئرلائن کو قومی مفاد میں سرکاری ادارے میں شامل کیا گیا، جس نے پاکستان کی ہوا بازی کی بنیاد رکھی۔
پوری ایئرلائن وطن عزیز کو تحفے میں دینے پر ان کے حصے میں صرف کراچی کی ایک سڑک کا نام ابوالحسن اصفہانی روڈآیا، جو آج بھی شہر کے مصروف علاقوں میں موجود ہے مگر بہت سے لوگوں کو اس کی تاریخی اہمیت کا علم نہیں۔ کاش کہ یہ واقعات نصاب تعلیم کا حصہ ہوتے تاکہ نئی نسلیں اپنے قومی ہیروز کو جانتیں۔ بدقسمتی سے ایک وقت ایشیا کی بہترین ایئرلائنز میں شمار ہونے والی آئر لائن دہائیوں کی بدانتظامی، سیاسی مداخلت اور قرضوں نے اسے خسارے میں ڈال دیا۔ حکومت نے قومی ہوا باز کمپنی کی فروخت کیلئے نیلامی کا اعلان کیا تو 23 دسمبر 2025 کو اسلام آباد میں شفاف بولی کے عمل میں عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ کی قیادت میں کنسورشیم (جس میں فاطمہ فرٹیلائزر، سٹی سکولز اور لیک سٹی ہولڈنگز شامل ہیں) نے 135 ارب روپے کی بولی دے کر پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔مشیر نجکاری کمیشن کے مطابق، بولی سے حاصل رقم کا 92.5 فیصد حصہ براہ راست پی آئی اے کی بہتری، جدید جہازوں کی خریداری اور آپریشنز کی اصلاح پر خرچ ہوگا، جبکہ صرف 7.5 فیصد (تقریباً 10 ارب روپے) حکومت کو ملے گا۔ یہ پاکستان کی دو دہائیوں میں سب سے بڑی نجکاری ہے، جو آئی ایم ایف کے مطالبات کا حصہ بھی ہے۔ عارف حبیب گروپ نے وعدہ کیا ہے کہ پی آئی اے کو دنیا کی بہترین ایئرلائنز میں شامل کیا جائے گا۔ دوسری طرف کچھ صحافیوں، تجزیہ نگاروں اور سیاسی رہنماؤں کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اس بولی کو اونے پونے داموں فروخت قرار دیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری منظور احمد نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایم سی بی سے بڑا اسکینڈل ہے اور صرف انٹرنیشنل لینڈنگ روٹس کی مالیت 640 ارب روپے سے زیادہ ہے، جو یورپ اور برطانیہ کے کھلنے سے کئی گنا منافع دے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قومی اثاثوں کی ہار ہے، نہ کہ جیت۔ سوشل میڈیا پر جاری بحث میں کہا جارہا ہے کہ قومی ائیرلائن کو سکریپ کی طرح بیچ دیا گیا، جبکہ اس کی حقیقی مالیت (روٹس، فلاٹس اور پوٹینشل) کہیں زیادہ ہے۔ سوشل میڈیا اور کچھ میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ صرف جہازوں کی مالیت ہی فروخت قیمت سے زیادہ ہو سکتی تھی۔ حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ڈیل شفاف تھی اور پی آئی اے کی بحالی کے لیے ضروری تھی، جو دہائیوں سے خسارے میں تھی۔ نئے مالکان فلیٹ کو 65 جہازوں تک بڑھانے کا وعدہ کر رہے ہیں۔ اللہ پاکستان پر رحم کرے اور اس ملک کے حکمرانوں کو عقل اور شعور دے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں