حضورﷺ کا آخری تبسّم۔۔محمد یاسر لاہوری

محبوب کی زندگی کا آخری دن ہے۔ سب ہی دیوانے اپنے محبوب کے مرض کی وجہ سے جِی چھوڑے بیٹھے ہیں۔ یہ دیوانے دیدار کو بھی ترس رہے ہیں۔ محبوب بیماری میں اس قدر کمزور ہو چکے ہیں کہ بستر سے اٹھا نہیں جا رہا۔ فجر کی نماز کا وقت ہے۔ مسجد میں تمام مسلمان فجر کی نماز میں مشغول ہیں۔ مصلی امامت پر ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہیں۔ پیچھے صفیں باندھے تمام صحابہ کھڑے ہیں۔ نماز ہو رہی ہے۔

حضور اپنے مرض الموت میں ہیں۔ بیماری کی شدت ہے۔ تاہم جسم میں حرکت کرنے کے لیے کچھ جان محسوس ہوئی تو حضور بستر سے اُٹھے۔ اپنے حُجرے کا پردہ اٹھایا۔ ایک حسین منظر دیکھا کہ ابو بکر کی اقتدا میں تمام صحابہ صف در صف نمازِ فجر ادا کر رہے ہیں۔ مسجد کے ماتھے پر نمازیوں کا جھومر سجا ہوا ہے۔ نمازی بھی وہ کہ جو ایمان کی حلاوت سے بھرپور ہیں۔

tripako tours pakistan

ابو بکر مصلی امامت سے پیچھے ہٹنے لگنے۔ حضور کی موجودگی سے خیال گزرا کہ اگر حضور موجود ہوں تو پھر ابو بکر کا مصلی امامت پر کیا کام؟ لیکن حضور نے اشارے سے منع فرما دیا اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا۔

مرض کی شدت بہت ہے۔ بہت دن سے بخار نے توڑ کر رکھ دیا ہے۔ لیکن مسلمانوں کو نماز میں مشغول دیکھ کر چہرہ پُرنور پر خوشی آ گئی ہے۔ صحابہ کو نماز میں دیکھ کر کائنات کا سب سے حسین چہرہ کِھل اُٹھا ہے۔ برسوں پہلے ایک پہاڑی پر چڑھ کر لوگوں کو مورتیوں کی عبادت کرنے کی بجائے رب کی طرف بلایا تھا ناں۔۔۔ آج ان میں سے بہت سے لوگ حضور کی صدا کی بدولت اپنی پیشانیاں مورتوں کے سامنے جھکانے کی بجائے اپنے رب کے سامنے جُھکائے ہوئے ہیں۔ ایسے میں حضور کا چاند سا چہرہ کِھلکِھلاتا نہ تو بھلا اور کیا ہوتا۔

ذرا ادھر دیوانوں کا حال بھی جان لیجیے۔ اپنے محبوب کی بیماری اور جدائی کے اندیشوں نے ان دیوانوں کے سینوں پر غم کی آندھیاں بَرپا کر رکھی ہیں۔ حضور بیماری کی شدت سے اپنے حُجرے میں بند ہو کرجو رہ گئے ہیں، سو اِن دیوانوں کی اپنے محبوب کے دیدار کو ترسی آنکھیں لمحہ لمحہ اپنے محبوب کو تلاش کر رہی ہیں۔

حضور نے جب اپنے حُجرے کا پردہ اٹھایا اور تمام صحابہ کو نماز میں دیکھ کر مسکرائے تو پتا ہے ایک دیوانہ (انس رضی اللہ عنہ) کیا بیان کرتا ہے؟
“حضور کے اس اچانک جلوے اور آمد سے مسجد میں نماز ادا کر رہے مسلمان اتنے خوش ہوئے کہ سب کی خواہش تھی کہ نماز توڑ کر اپنے محبوب کے قدموں میں پہنچ جائیں اور ان سے ان کی خیر و عافیت دریافت کریں” مگر حضور نے ہاتھ کے اشارے سے منع فرما دیا۔ سو مسلمان نماز میں مشغول رہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ حضور کی زندگی کا آخری دن اور آپ کی زندگی کی آخری نماز تھی۔ اس کے بعد حضور کی زندگی میں کوئی دوسری فرض نماز نہیں آئی۔ چاشت کا وقت ہوا تو اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنھا سے پیار محبت کی باتیں کیں۔ حسنین کریمین سے پیار کیا۔ روح اور جسم کی جدائی کا وقت ہوا تو امی عائشہ رضی اللہ عنھا نے حضور کو اپنے وجود سے سہارا دیا۔ نزع کی حالت ہے۔ اتنے میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبدالرحمن مسواک کرتے ہوئے حضور کے سامنے آئے۔ حضور نے مسواک کرنے کی خواہش کی۔ امی عائشہ رضی اللہ عنھا نے مسواک نرم کر کے دی۔

حضور نے مسواک مکمل کی تو حضور کی پاکیزہ انگلی آسمان کی طرف اُٹھی۔ نگاہیں بھی بلندی کی جانب ہو گئیں۔ پیارے ہونٹ جنبش میں آئے۔ حضور اپنے رب سے کچھ کہہ رہے ہیں۔ امی عائشہ رضی اللہ عنھا نے اپنے کان حضور کے لبوں کے پاس کر دیے۔ حضور اپنی روح اللہ کے حوالے کرتے وقت اللہ سے دعا مانگ رہے ہیں:
“(میرا انجام) ان انبیاء صدیقین شھداء اور صالحین کے ساتھ کر جن پر تُونے انعام کیا۔ اے اللہ! مجھے بخش دے۔ اے اللہ! مجھ پر رحم کر۔ اے اللہ مجھے رفیق اعلی میں پہنچا دے۔ اے اللہ! رفیق اعلی”

اُٹھا ہوا ہاتھ لٹک گیا۔ پاک روح پرواز کر گئی۔ نبوّتوں کا تاجدار اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔

کائنات کی عظیم ترین ہستی اپنی امت کی فکر میں ہزاروں مشقتیں اور مصیبتیں اٹھانے کے بعد، اپنا فریضہ پورا کر دینے کے بعد اور اپنے رب کی رضا میں زندگی وقف کر دینے کے بعد اپنے مخلص دیوانوں (صحابہ) سے جدا ہو گئی۔ دیوانوں کی دیوانی آنکھیں بھر آئیں۔ سینے غموں سے چھلنی ہو گئے۔ محبوب کی جدائی میں دیوانے ہوش و حواس کھو بیٹھے۔

مگر حجرے کا پردہ اٹھا کر اور مسلمانوں کو نماز میں دیکھ کر حضور کے لبوں پر آئی ہوئی وہ آخری مسکراہٹ آج چودہ صدیاں بعد بھی میں محسوس کر سکتا ہوں۔ گویا وہ منظر کائنات کا حسین ترین منظر تھا۔ جب حضور نے مخلوق کو نماز میں اپنے خالق کے سامنے جُھکے ہوئے دیکھ کر تبسّم فرمایا تھا۔ اس آخری تبسّم کے کیا کہنے کہ جو تبسم حضور کے لبوں پر بندوں کی اپنے رب سے بندگی دیکھ کر واقع ہوا۔۔

Advertisements
merkit.pk

مضمون صحیح بخاری کی مستند احادیث کی مدد سے لکھا گیا ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

محمد یاسر لاہوری
محمد یاسر لاہوری صاحب لاہور شہر سے تعلق رکھتے ہیں۔ دینی و دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بہت عرصہ سے ٹیچنگ کے شعبہ سے منسلک ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سائنس، فلکیات، معاشرتی بگاڑ کا سبب بننے والے حقائق اور اسلام پر آرٹیکلز لکھتے رہتے ہیں۔ جس میں سے فلکیات اور معاشرے کی عکاسی کرنا ان کا بہترین کام ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply