سرد رات کے اس پہر صحرا میں چلنے والی تیز ہواؤں کا شور عجیب بے چینی پیدا کر رہا ہے- کبھی سوچتا ہوں کہ انھیں نظر انداز کروں اور لحاف اوڑھ کر سو جاؤں، لیکن پھر خیال آتا ہے کہ اس شور میں بھی فطرت کا کوئی پیغام، کیفیات کا کوئی انتظام ہو سکتا ہے جو کسی نئے راز سے آشنا کر دے- اسی انتخاب کی کشمش میں مجھے ایک نظم کا خیال آیا جس کا عنوان تھا،
” The Road not Taken”
انسانی تاریخ کو اگر ایک لفظ میں سمیٹا جائے تو وہ لفظ شاید انتخاب ہو۔ انسان نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، وہ دو راستوں کے بیچ کھڑا ہے؛ ایک جو سامنے صاف دکھائی دیتا ہے، اور دوسرا جو مانوس و آزمودہ کم اور پُر خطر زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ رابرٹ فراسٹ کی یہ نظم بھی اسی خاموش لمحے کی شعری تمثیل ہے- مگر یہ تمثیل محض جنگل، پگڈنڈی یا سفر کی نہیں، بلکہ انسانی شعور، تاریخ اور خود فریبی کی ہے۔ نظم کا آغاز ہی ایک ایسی تصویر سے ہوتا ہے جو بظاہر سادہ مگر معنوی طور پر بہت گہری ہے،
“Two roads diverged in a yellow wood,
And sorry I could not travel both”
یہ “پیلا جنگل” فقط موسمِ خزاں کا منظر نہیں، بلکہ زوال، ٹھہراؤ اور عبوری کیفیت کی علامت ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان نہ مکمل ماضی میں رہتا ہے، نہ واضح مستقبل میں داخل ہو پاتا ہے۔ وہ رک جاتا ہے؛ سوچنے کے لیے، تولنے کے لیے، اور شاید اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے لیے بھی۔ میں سوچتا ہوں کہ کیا انسان واقعی آزاد ہے، یا وہ صرف انتخاب کے وہم میں مبتلا ہے؟ انتخاب بعض اوقات “تقریباً ایک جیسے” راستوں میں سے کسی کا کرنا ہوتا ہے-
ہمارا بنیادی المیہ یہ ہے کہ ہم فیصلے ایسے عالم میں کرتے ہیں جہاں فرق واضح نہیں ہوتا۔ قدیم انسان کے پاس روایت، مذہب اور اجتماعی تجربہ تھا؛ مگر اب ہم صرف خود اپنی ذات تک محدود ہو گئے ہیں- اور یہی “خود” سب سے غیر یقینی چیز ہے۔ شاعر بھی یہاں کسی رومانوی بغاوت کا اعلان نہیں کرتا، بلکہ آہستگی سے ایک نفسیاتی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے- ہم اکثر “منفرد راستے” کا انتخاب اور اس کی خواہش اس لیے نہیں کرتے کہ کہ وہ واقعی مختلف ہو، بلکہ اس لیے کہ ہم مستقبل میں اپنی کہانی کچھ خاص بنا سکیں- شاید یہی وجہ ہے کہ نظم کا سب سے مشہور مصرعہ بھی سب سے زیادہ فکری سوالات کو جنم دینے لگا ہے-
“I took the one less traveled by,
And that has made all the difference.”
یہ “مختلف” کیا ہے؟ کامیابی؟ ناکامی؟ مسرت؟ ندامت؟ یہاں جواب نہیں بس خاموشی ہی خاموشی ہے- اور یہی خاموشی سب سے بڑی دانش ہے۔ تاریخ بھی کچھ اسی طرح لکھی جاتی ہے- جو راستہ اختیار کر لیا جائے، بعد میں اسی کو ناگزیر، عظیم اور درست ثابت کرنے کے لیے فلسفے گھڑ لیے جاتے ہیں- انسان اپنے فیصلے سے زیادہ، اپنے فیصلے کی تعبیر پر جیتا ہے۔
پھر میں نظم کے آخری حصے پر پہنچتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ راوی خود اعتراف کر رہا ہے کہ وہ مستقبل میں بیٹھ کر “آہ بھرتے ہوئے” اپنی کہانی سنائے گا
“I shall be telling this with a sigh
Somewhere ages and ages hence”
یہ “sigh” فتح کی سانس بھی ہو سکتی ہے اور حسرت کی بھی؛ یا شاید دونوں ایک ساتھ۔ یہی انسانی شعور کی پیچیدگی ہے- ہم ایک راستہ چنتے ہیں، مگر دوسرے راستے کو دفن نہیں کر پاتے۔ وہ نہ چنا گیا راستہ ہمارے اندر ایک متوازی زندگی بن کر زندہ رہتا ہے۔
یہ وہ کرب ہے، وہ جدیدیت ہے، جس میں انسان کو اختیار تو دے دیا گیا، مگر سکون چھین لیا گیا۔ آزادی ایک نعمت نہیں بلکہ ایک امتحان بن گئی۔ یہی کرب انسان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے ماضی کو معنی پہنا کر خود کو مطمئن کرے۔ مجھے احساس ہوتا ہے جیسے یہ نظم ہمیں کوئی اخلاقی سبق نہیں دیتی، کوئی واضح پیغام نہیں سناتی۔ یہ بس ہمیں آئینہ دکھاتی ہے- ایک ایسا آئینہ جس میں ہم خود کو دو راستوں کے بیچ کھڑا دیکھتے ہیں، ہاتھ میں فیصلہ، دل میں اندیشہ، اور آنکھوں میں مستقبل کی ایک مبہم تصویر۔ شاید اسی لیے یہ نظم آج بھی زندہ ہے۔ کیونکہ ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں، اسی جنگل میں،اسی موڑ پر، اور اسی سوال کے ساتھ؛ کیا واقعی راستہ فرق پیدا کرتا ہے، یا فرق صرف وہ کہانی ہے جو ہم خود کو سناتے ہیں تاکہ زندگی قابلِ برداشت لگے؟

انسان کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ وہ غلط راستہ چن لیتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ نہ چنے گئے راستے کو ہمیشہ اپنے شعور کے کسی گوشے میں زندہ رکھتا ہے۔ “کاش” اور “اگر” انسانی ذہن کی وہ تاریخی بیماریاں ہیں جو ہر دور میں موجود رہی ہیں۔ سلطنتوں کے زوال، نظریات کی شکست، اور شخصی ناکامیاں- ان سب کے پیچھے یہی احساس کارفرما رہا ہے کہ شاید کوئی اور راستہ بہتر ہوتا۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں