طاہر مجید ۔ ہجر اور ہجرت کے شاعر/ڈاکٹر خالد سہیل

کیا آپ طاہر مجید جانتے ہیں؟
کیا آپ ان کی شاعری سے واقف ہیں ؟
کیا آپ ان کی شاعری میں چھپے راز سے آگاہ ہیں ؟
سچی بات تو یہ ہے کہ دو ماہ پیشتر میں بھی ان سب سے ناواقف تھا لیکن پھر ان کا فون آیا اور مجھے پتہ چلا کہ وہ نہ صرف ایک شاعر ہیں بلکہ دو شعری مجموعوں
خوشبو کا سفر
اور
آسماں سوچ میں گم ہے
کے خالق بھی ہیں۔ پھر انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کے دونوں مجموعے پرویز صلاح الدین کے پاس امانت کے طور پر پڑے ہوئے ہیں اور وہ خود چند ہفتوں کے لیے ٹورانٹو تشریف لا رہے ہیں۔ اس فون کی گفتگو کے اگلے دن درویش خود پرویز صاحب کے نئے دولت کدے پر حاضر ہوا اور دونوں شعری مجموعے لے آیا۔
میں نے طاہر مجید کی شاعری پڑھی تو میں اداس ہو گیا اور کئی دن تک اداس رہا۔ میں شہر کی گلیوں اور بازاروں میں گھومتا ناصر کاظمی کا یہ شعر گنگناتا رہا
؎ دل تو میرا اداس ہے ناصرؔ۔۔۔۔۔ شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے

جب میری طبیعت قدرے بہتر ہوئی تو میں نے دوبارہ طاہر مجید کی شاعری پڑھی تا کہ اپنی اداسی اور ان کی شاعری میں چھپے راز جان سکوں۔
جوں جوں میں ان کی شاعری پڑھتا گیا مجھے احساس ہوتا گیا کہ ان کی دل کے نہاں خانوں میں ہجر اور ہجرت کے بہت سے دکھ’ بہت سے غم اور بہت سے کرب چھپے ہوئے ہیں جو ان کی شاعری میں ظاہر ہوئے ہیں۔
طاہر مجید ایک روایتی مشرقی عاشق کی طرح اپنے محبوب کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور اداس رہتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ ہجر سے اتنا اداس ہو جاتے ہیں کہ وہ وصل سے بھی ڈرنے لگتے ہیں۔ انہیں یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ اگر محبوب سے ملاقات ہوئی بھی تو وہ مختصر ہوگی جس کے بعد ان کی اداسی اور تنہائی لوٹ آئے گی کیونکہ ان کا محبوب انہیں چھوڑ کر چلا جائے گا۔ وہ اپنے ماضی کے تجربات کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ
؎ جو ملے گا وہ کسی روز جدائی دے گا

کیونکہ وہ محبت کے رشتوں کو عارضی رشتے سمجھتے ہیں۔
طاہر مجید کی شاعری میں ہجر کا دکھ ہجرت کے دکھ کے ساتھ مل کر دو آتشہ ہو گیا ہے۔ ؎ نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں
طاہر مجید دیارِ غیر میں بہت سے ایسے مہاجروں سے مل چکے ہیں جو دن رات اپنے گاؤں’ اپنے شہر اور اپنے ملک کو یاد کرتے رہتے ہیں اور نوسٹلجیا کی چادر اوڑھ کر اداس ہو جاتے ہیں۔
؎ چھوڑ کر جاتے ہیں کچھ لوگ اپنے گاؤں کو
پھر ترستے ہیں ہمیشہ وہ اس کی چھاؤں کو

نجانے کتنے مہاجر اپنی ماں اور دھرتی ماں کی چھاؤں کو یاد کرکر کے اداس ہو جاتے ہیں۔
طاہر مجید ایک حساس انسان اور شاعر ہیں وہ اس لہجے سے بھی دکھی ہو جاتے ہیں جس لہجے سے محبوب جدا ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ وہ لہجہ جدائی سے زیادہ اداس کر دیتا ہے
؎ بچھڑے ہیں جس طریق سے افسوس اس کا ہے
اس سے بچھڑ گئے ہیں دکھ اس بات کا نہیں

طاہر مجید ان مہاجروں کو جانتے ہیں جو دیارِ ٖغیر میں اکلاپے کی چادر اوڑھے احساسِ تنہائی کا شکار رہتے ہیں۔نہ کوئی دوست ’نہ کوئی ہمراز ’نہ کوئی ہم زباں ’ نہ کوئی ہم خیال۔ بعض دفعہ تو اپنے شہر کے لوگ ہوتے ہوئے بھی دور دور رہتے ہیں اور اجنبی لگتے ہیں۔
؎ تنہائی پردیس کی ظالم ہوتی ہے
آپس میں جب ربط نہ ہوں ہم وطنوں میں

طاہر مجید اس دور سے بھی گزرتے ہیں جب ان کا خیال تھا کہ وہ اپنے سب غم ’سب دکھ اور سب کرب اپنے پرانے گھر اپنے دیس چھوڑ آئے ہیں لیکن ایک دن وہ سب دکھ درد اور غم پردیس میں ان کے نئے گھر کے دروازے پر دستک دینے آ جاتے ہیں
؎ پار کر آیا جو میں سات سمندر طاہر
غم بھی آ پہنچا وہیں پھر میرا پیچھا کرتا

طاہر مجید کو اندازہ نہ تھا کہ بعض غم سائے کی طرح ہوتے ہیں آپ جہا ں جائیں وہ آپ کے ساتھ وہیں پہنچ جاتے ہیں۔
طاہر مجید کو اس دکھ بھرے سفر میں صرف اس بات کی تسلی ہے کہ وہ خود ہی اداس نہیں ان کے بغیر ان کا محبوب اور ان کا گاؤں بھی اداس ہیں

؎ مرے بغیر تو وہ بھی اداس لگتا تھا
اسے بھی مجھ سے بچھڑنے کا دکھ ضرور رہا

طاہر مجید اس نفسیاتی حقیقت سے بھی واقف ہیں کہ اگر کسی انسان کو ایک طویل عرصے تک دکھوں کی عادت ہو جائے تو وہ ان کا اتنا عادی ہو جاتا ہے کہ اگر اس کی زندگی میں سکھ آنے لگیں تو وہ ان کا خیر مقدم نہیں کر سکتا
؎ طاہر جسے دکھوں کی ہی عادت سی پڑ گئی
اس کو جو سکھ ملا تو وہ سکھ بھی نہ سہہ سکا

طاہر مجید محبت اور وصل کے سرابوں اور ہجر اور ہجرت کے عذابوں سے گزر کر اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ زندگی میں خوشی کے لمحے مختصر اور غم کے لمحے طویل ۔۔۔ وصل کے لمحے مختصر اور ہجر کے لمحے طویل ہوتے ہیں۔
طاہر مجید کی شاعری پڑھ کر مجھے پابلو نرودا کی نظم کا ایک مصرعہ یاد آ گیا
LOVING IS SHORT FORGETTING IS LONG
جس کا منظوم ترجمہ ضمیر احمد نے یوں کیا تھا
؎ عشق ہوتا ہے مختصر لیکن
دیر لگتی ہے بھول جانے میں

طاہر مجید نے اپنی شاعری میں روایتی شاعری کے دکھوں کے ساتھ اپنے ذاتی اور مہاجروں کے اجتماعی غموں کو بھی شامل کر لیا ہے۔
میں نے جب طاہر مجید کی شاعری تیسری بار پڑھی تو سوچا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ طاہر مجید نے ان عاشقوں اور مہاجروں کی کہانی رقم کی ہو جو محبت اور ہجرت میں ناکام رہے ہوں کیونکہ میں ایسے عاشقوں اور مہاجروں کو بھی جانتا ہوں جو محبت اور ہجرت دونوں میں کامیاب رہے۔
کامیاب محبت کرنے والوں کا موقف تھا
؎ ہجر کے برسوں پر بھاری
وصل کا میں اک لمحہ ہوں

اور ہجرت کے بارے میں ان کا تجربہ تھا
؎ نئے مقام پہ محبوب بھی نئے پائے
جزائیں ملتی رہی ہیں ہمیں یہ ہجرت کی

طاہر مجید نے ہجرت کی سزاؤں کا ذکر کیا ہے جزاؤں کا نہیں۔
میں ایسے مہاجروں سے بھی ملا ہوں جو ہجرت میں اتنے کامیاب ہوئے کہ انہوں نے اپنے بچوں کو بھی ہجرت کا مشورہ دیا
؎ ہم نے کچھ اتنی پائیں تمنا کی منزلیں
دیتے رہیں گے بچوں کو ہجرت کا مشورہ!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *