ہمارے بزرگوں نے جب اپنی زندگی گزاری تھی تو شاید انہوں نے کبھی یہ تصور بھی نہ کیا ہو کہ ان کے بعد آنے والی نسلیں اتنی چپ، اتنی تھکی ہوئی اور اتنی اداس ہوں گی۔ انہوں نے تو دن رات محنت کی، مشکل وقت برداشت کیا، صبر کو زندگی کا حصہ بنایا اور امید کو سینے سے لگا کر رکھا۔ انہیں لگتا تھا کہ وہ جو بیج بو رہے ہیں ان کی آنے والی نسلیں اس کے پھل کھائیں گی، ہنسیں گی، سکھ کا سانس لیں گی۔زمانہ بدلا، منظرنامہ بدلا مگر دِلوں میں جمع دکھ اپنی جگہ قائم رہے۔۔۔ یہ بات انہیں پہلے کہاں معلوم تھی۔
جو لوگ ادھیڑ عمر میں دنیا سے چلے گئے، انہوں نے جوانی دیکھی تھی، چاہے وہ مختصر ہی کیوں نہ ہو۔ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کے بچوں کو جوانی کا وہ مرحلہ شاید ملے ہی نہ۔ آج کا نوجوان عمر کے حساب سے جوان ہے، مگر اندر سے پہلے ہی تھک چکا ہے۔ اس کے کندھوں پر ذمہ داریاں وقت سے پہلے آن پڑی ہیں اور اس کے خواب اکثر حالات کی نذر ہو جاتے ہیں۔ وہ ہنسنا چاہتا ہے مگر ہنسی آتی نہیں۔ وہ بولنا چاہتا ہے مگر الفاظ ساتھ نہیں دیتے۔ کبھی وقت زخموں کا مداوا سمجھا جاتا تھا،اب وہی وقت انہیں ناسور بنا دیتا ہے۔ دن گزرتے جاتے ہیں اور انسان کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس نے آخری بار دل کھول کر سکون کب محسوس کیا تھا۔
بڑھاپا اب خاموشی کا نام نہیں رہا۔ بزرگ بولتے ہیں، سمجھاتے ہیں، یاد دلاتے ہیں، مگر سننے والا کوئی نہیں۔ ان کے تجربے کو پرانا کہہ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ وہ باتیں کرتے ہیں اس امید میں کہ شاید کوئی سیکھ لے، مگر اکثر ان کی آواز شور میں دب کر رہ جاتی ہے۔ اسی لیے بڑھاپا آج محوِ کلام ہے، کیونکہ اسے نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ہر چہرے پر ایک کہانی لکھی ہے، مگر کوئی پڑھنے والا نہیں۔ مسکراہٹیں اکثر عادت کے تحت ہوتی ہیں، خوشی کے تحت نہیں۔ آنکھوں میں سوال ہیں، دل میں خوف ہیں اور زبان پر خاموشی۔ لوگ اپنے دکھ اس لیے نہیں چھپاتے کہ وہ چھوٹے ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ جانتے ہیں کہ سننے والا کوئی نہیں۔ اس لیے ہر شخص اپنے اندر ایک راز لیے پھرتا ہے۔
ہم دیکھتے بہت کچھ ہیں، مگر سمجھتے کم ہیں۔ سنتے ہیں، مگر دھیان نہیں دیتے۔ بولتے ہیں، مگر دل کی بات نہیں کرتے۔ چھوتے ہیں، مگر احساس نہیں ہوتا۔ یہ حواس خمسہ کی وہ بدحواسی ہے جو آہستہ آہستہ ہمیں انسان سے مشین بناتی جا رہی ہے۔ ہم جاگتے ہوئے بھی جیسے سوئے رہتے ہیں۔چاروں طرف ایسی بے قراری پھیلی ہے کہ یوں لگتا ہے دل کے کسی گوشے میں ایک انجانا سا ڈر بغیر آواز کے چیخ رہا ہو۔
یہ وہ دور ہے جہاں سب کچھ میسر ہے، مگر دل مطمئن نہیں۔ موبائل ہاتھ میں ہے، مگر اپنوں سے بات نہیں۔ علم موجود ہے، مگر سمجھ نہیں۔ سہولتیں ہیں، مگر سکون ندارد۔ ہمارے بزرگ شاید غریب تھے، مگر اتنے بے چین نہیں تھے۔ ان کے مسائل واضح تھے، آج کے مسائل نظر نہیں آتے، مگر اندر ہی اندر انسان کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔
جوانی جو کبھی خواب دیکھنے کا وقت تھی، اب حساب کتاب کا دور بن چکی ہے۔ بچے وقت سے پہلے بڑے ہو گئے ہیں اور بڑے وقت سے پہلے بوڑھے۔ کھیل، ہنسی، لاپرواہی اب فضول سمجھی جاتی ہے۔ ہر چیز کو فائدے اور نقصان کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔ جینے کا شوق کہیں پیچھے رہ گیا ہے، بس گزارا کیا جا رہا ہے۔
ہم نے خاموشی کو سمجھداری اور سوال کو بدتمیزی سمجھ لیا ہے۔ جو بولتا ہے وہ مشکل میں آتا ہے، جو چپ رہتا ہے وہ محفوظ رہتا ہے۔ اسی لیے لوگ اندر ہی اندر ٹوٹتے رہتے ہیں، مگر باہر سے مضبوط نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سچ بولنا مشکل ہو گیا ہے اور احساس ظاہر کرنا کمزوری سمجھا جانے لگا ہے۔
وقت کا بہاؤ اب فطری نہیں رہا۔ ہم یا تو ماضی میں اٹکے رہتے ہیں یا مستقبل کے خوف میں جیتے ہیں۔ حال ہمارے ہاتھ سے پھسلتا جا رہا ہے۔ بزرگوں کو سنا نہیں گیا، نوجوانوں کو سمجھایا نہیں گیا اور بچوں کو وقت نہیں دیا گیا۔ہر نسل کی زندگی میں کوئی نہ کوئی ادھورا شکوہ ضرور سانس لیتا ہے۔
یہ بے چینی کسی ایک انسان کی نہیں، یہ پورے معاشرے کی ہے۔ خبروں میں، گفتگو میں، رویوں میں، ہر جگہ ایک تھکن جھلکتی ہے۔ ہم نے دل کی بات کو دبا کر رکھنا سیکھ لیا ہے، اور خود کو مصروف دکھا کر خود سے بچنے لگے ہیں۔
سوال ماضی کے شعور کا نہیں، سوال حال کی سمت اور مستقبل کے سفر کا ہے۔ کیا ہم واقعی یہی زندگی چاہتے ہیں، یا بس عادت کے تحت اسے قبول کیے بیٹھے ہیں۔ اگر ہم نے اب بھی رک کر سوچنے کی کوشش نہ کی، تو ہماری اداسی ہمارے بچوں کو وراثت میں ملے گی۔
وقت ابھی ہاتھ سے نہیں نکلا۔۔۔آئیں رکیں، سنیں، سمجھیں اور ایک دوسرے کے قریب آ جائیں۔ سادہ باتیں کریں، دل کی بات کہیں اور دوسروں کی بات سنیں۔ شاید یہی چھوٹے قدم اس وحشت کے شور کو کم کر سکیں۔بصورتِ دیگر، کل کی نسلیں بھی یہی کہیں گی کہ ہمارے بزرگوں کو کیا معلوم تھا،اور جواب پھر بھی ادھورا رہے گا۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں