فائیو جی کے فوائد کیا ہیں؟ ۔۔۔ پرویزبزدار

مجھے یقین ہے کہ آپ نے فائیو جی ٹیکنالوجی کے بارے میں ضرور سنا ہوگا۔ آپ نے یہ بھی سنا ہوگا کہ اس ٹیکنالوجی کے آنے سے انٹرنیٹ کی سپیڈ بہت تیز ہوگی۔  یہ بات بالکل صحیح ہے مگر سوال یہ ہے کہ انٹرنیٹ کے تیز ہونے  سےاتنا کیا فائدہ ہوگا کہ سب لوگ دن رات فائیو جی کے بارے میں بات کرتے دکھائی دیتے  ہیں۔آئیے عام فہم انداز میں فائیو جی کے فوائد سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔


سب سے پہلی بات سمجھنے کی یہ ہے کہ انٹرنیٹ صرف ویڈیوز دیکھنے اور ڈاؤنلوڈ کرنے کی چیز نہیں بلکہ اصل میں اس  جدید مواصلاتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ جس طرح اگر دو شہروں کے درمیان اچھی سڑک ہو تو چیزیں ایک شہر سے دوسرے شہر تک  کم وقت  میں آسانی سے پہنچائی جا سکتی ہیں اسی طرح اگر انٹرنیٹ کی سپیڈ تیز ہو تو بہت ساری اہم معلومات یا ڈیٹا ایک جگہ سے دوسری جگہ باآسانی اور تیز پہنچائی جا سکتی ہیں۔  معلومات تیزی سے پہنچنے کے کیا فوائد ہونگے  یہ  بات ایک مثال کے ذریعے دیکھتے ہیں۔

فرض کریں کوئی شخص بلوچستان کے ایک ایسے علاقے میں  بیمار ہے جہاں ہسپتال تو ہے مگراس مرض کے ماہر ڈاکٹرز نہیں۔ اُس مریض کو ایک لیزر سرجری کی ضرورت ہے اور اُس  سرجری کےلیے درکار مشین اسی  ہسپتال میں موجود ہے۔ فرض کریں کہ پشاور میں ایک ڈاکٹر اس مرض کا آپریشن کر سکتے ہیں مگر  مسئلہ یہ ہے کہ وہ  ڈاکٹر پشاور سے بیٹھ کر آپریشن کس طرح کرے؟  اگر بلوچستان کے ہسپتال میں موجود مشین کو انٹرنیٹ سے کنیکٹ کیا جا سکتا ہو تو پشاور میں بیٹھا ڈاکٹر  اسےوہیں  بیٹھ کر اپنے کمپیوٹر سے چلا سکیں گے۔ اب ایسے میں اگر انٹرنیٹ کی سپیڈ کم ہو تو پشاور سے دیے گئے کمانڈ کو بلوچستان تک پہنچنے میں اگرایک  سیکنڈ نہیں تو ایک  سیکنڈ کا کچھ حصہ ضرور لگتا ہے، اور پھر اُس ڈاکٹر تک دیے گئے کمانڈ کا نتیجہ پہنچنے میں بھی اِتنا ہی وقت لگے گا۔ آپ تصور کر سکتے ہیں  کہ کسی بھی  سیریس آپریش میں یہ تاخیر ناقابل برداشت ہے کیونکہ ہر کمانڈ کا تعلق پہلے کمانڈ کے رزلٹ سے ہے۔  اگر اس تاخیر کو ختم کیا جائے تو وہاں سے ڈاکٹر جیسے ہی کمانڈ دیں گے وہ اسی وقت بغیر کسی تاخیر کے مشین تک پہنچے گا  اور ڈاکٹر اسی وقت اس کا رزلٹ دیکھ کر اگلا کمانڈ دے سکے گا اور یوں  باآسانی  پشاور میں بیٹھا ڈاکٹر بلوچستان میں موجود مریض کا   آپریشن کرنے میں کامیاب ہوسکے گا۔ یہ محض ایک کہانی نہیں ؛ کیونکہ چین کے اندر حقیقت میں ایک شخص کے دماغ کا  کامیاب آپریشن اس طرح کیا جا چکا ہے۔

علاج کےلیے فائیو جی کا استعمال تو یقیناً  فائیو جی ٹیکنالوجی کا سب سے اہم استعمال ہے مگر یہ اس کا واحد استعمال نہیں، آیئے ذرا کچھ اور چیدہ چیدہ مثالیں  دیکھتے ہیں۔

خود مختار گاڑیاں۔ مجھے امید ہے آپ نے اِن کا نام بھی سنا ہوگا اور آپ جانتے ہیں کہ یہ خود کار یا آٹومیٹک گاڑیوں سے زیاہ طاقتور ہوتے ہیں۔ یہ ایسی گاڑیاں ہیں کہ آپ  اپنی گاڑی میں بیٹھیں اور اسے بتائیں کہ آپ نے کہاں جانا ہے اور اس کے بعد بے شک  آپ سو جائیں وہ آپ کو منزل مقصود تک پہنچائے گی۔ اگر آپ نوٹ کریں تو گاڑی چلاتے ہوئے ہم بہت سی چیزیں ایک ہی وقت میں کر رہے ہوتے ہیں۔  گئیر، ریس اور بریک تو ایک طرف اس کے علاوہ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ ہم سے آگے جانے والے ڈرائیور  کا رویہ کیسا ہے ؟ وہ اچانک بریک تو نہیں لگا رہا اور ہمیں اس سے کتنا محتاط رہنا چاہیے؟ اور پھر جب  ہم خود بریک لگانا  چاہیں تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ پچھلی گاڑی سے ہمارا  فاصلہ کتنا ہے اور وہ کس سپیڈ سے آرہی  ہے۔ اس طرح لائن چینج کرنے سے پہلے بھی ہم اچھی طرح سائیڈ مررز  دیکھ کر یقین کرتے ہیں کہ ہمیں کسی دوسری گاڑی سے  کوئی خطرہ  تو نہیں؟ یہ سب معلومات خود مختار گاڑیوں کو بھی درکار ہونگی اور ان کے حصول کےلیے ان  گاڑیوں میں سینسرز لگے ہوتے ہیں ۔ ان سینسرز کی معلومات سے نتائج نکالنے کےلیے بعض اوقات انہیں انٹرنیٹ کے ذریعے کسی دوسرے ملک میں موجود کمپیوٹر پر بھیجنا ہوتا ہے اور اگر انٹرنیٹ کی سپیڈ تیز نہ ہو تو یہ سب ممکن نہیں ہو سکے گا۔  آپ کی معلومات کےلیے بتا دوں کہ گوگل اور اوبر جیسی کمپنیاں اپنا بہت پیسہ ان خود مختار گاڑیوں پر لگا رہی ہیں۔

اس سے ملتی جلتی ایک اور  مثال ڈرونز کی ہے۔ ڈرونز سے معلومات لینے اور بھیجنے کےلیے بھی انٹرنیٹ کی تیز رفتار درکار ہوتی ہے، تاکہ صحیح وقت میں ڈرون سے صحیح فیصلہ کروایا جا سکے۔

فائیو جی کے استعمال کی ایک اور مثال جس سے ہر فرد کی زندگی پر اثر ہوگا وہ فیکٹریوں کی اسمبلی لائن میں جدت ہوگی۔ تیز انٹرنیٹ کی سپیڈ سے اسمبلی لائن میں موجود مشین ایک دوسرے کے ساتھ رئیل ٹائم میں کمیونیکیٹ کر سکیں گی۔ فرض کریں کسی ایک مشین میں خرابی آ جائے تو وہ  اس پر منحصر باقی سب مشینوں  کو اسی وقت روک سکتی ہے۔ لازمی نہیں کہ اس سے منحصر مشینیں صرف اسی کمپنی میں ہوں بلکہ کسی دوسرے ملک اور دوسری کمپنی کی  منحصرمشینیں بھی اسی لمحے روکی جا سکتی ہیں ۔  اس کے علاوہ اسمبلی لائن کی مشینیں براہ راست مارکیٹ میں چیزوں کی کھپت کے بارے میں معلومات لے سکتے ہیں اور ان معلومات سے   مشینیں خود یہ فیصلہ کر سکیں گی کہ ہمیں اپنی رفتار بڑھانی چاہیے یا کم کرنی چاہیے۔ اور یوں  صرف اُتنی ہی چیزیں بنی گی جتنی ضرورت ہوگی۔ اس کے  نتیجے میں بجلی اور خام مال جیسے وسائل کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔

آپ اگر کھیلوں کے شوقین  ہیں تو کھیلوں کی دنیا میں بھی فائیو جی سے بہت خوشگوار بہتریاں ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر کرکٹ  میچ میں ایل بی ڈبلیو کے فیصلہ دیکھنے میں تھرڈ ایمپائر کو بہت دیر تک بال ٹریکر  تیار ہونے کا انتطار کرنا پڑتا ہے۔ اس تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ بال کو ٹریک کرنا عام کمپیوٹرز کےلیے ایک مشکل کام ہے اور سٹیڈیم میں وہی کمپیوٹرز دستیاب ہو سکتے ہیں۔  فائیو جی ٹیکنالوجی سے باآسانی  بال ٹریکنگ کا ڈیٹا  براہ راست کسی بھی ملک میں موجود کسی  تیز سپر کمپیوٹر کو بھیجا جا سکتا ہے اور اسی وقت اس کا رزلٹ ایمپائر  کے دیکھنے کےلیے دستیاب  کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ فائیو جی سے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارے پاس سٹیڈیم کے تمام کیمروں کی ویڈیوز ایک ہی قت میں آئیں اور ہم اپنی مرضی سے جس کیمرے کا ویو یا  ری پلے دیکھنا چاہیں دیکھ سکیں گے۔

یہ محض چند مثالیں ہیں اس کے علاوہ سینکڑوں ایسے شعبے ہیں جن میں فائیو جی سے  انقلابی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔

پرویز بزدار
پرویز بزدار
مضمون نگار کائسٹ جنوبی کوریا میں پی ایچ ڈی کا طالب علم ہے۔ وہ موبائل اور کمپیوٹر کے پروسیسرز بنانے میں آرٹی فیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت) کو استعمال کرنے کے طریقوں پر تحقیق کر رہے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *