گلگت بلتستان میں ایک بار پھ فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھ رہی ہے، جو تشویشناک ہے۔ 5 اکتوبر 2025 کو اہل سنت والجماعت (ASWJ) گلگت بلتستان اور کوہستان کے امیر قاضی نثار احمد پر حملہ ہوا، جو یہاں کے امن کو خراب کرنے کی کوشش تھی۔ یہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں تھا، پورے ریجن کے امن کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ گزشتہ دنوں گلگت بلتستان پولیس نے پریس کانفرنس کرکے بتایا کہ حملے میں ملوث افراد کو پکڑ لیا گیا ہے پولیس نے مبینہ ماسٹر مائنڈ سمیت کئی ملزمان کو گرفتار کر کے پیش کر دیا۔ اس حملے کے خلاف گلگت بلتستان میں احتجاج ہوا، جس میں شیعہ، سنی، اسماعیلی، نوربخشی اور اہل حدیث نے مل کر مذمت کی اور کہا کہ سفاکانہ اقدام علاقے کے امن کو خراب کرنے کی کوشش ہے۔ شیعہ کمیونٹی نے قاضی نثار کی حمایت ریلی نکالی، لیکن سوشل میڈیا پر کچھ باتوں اور ویڈیوز سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا جب خود قاضی نثار نے ان پر حملہ کرنے والے ایران فرار ہونے کا دعویٰ کیا جو نیک شگون نہیں بلکہ جلتی آگ پر مزید تیل چھڑکانے کے مانند تھا۔اگرچہ یہ مسئلہ نیا نہیں ہے گلگت بلتستان جیسے حساس اور اہم علاقے میں جہاں عوام آج بھی بنیادی سیاسی معاشی اور انسانی حقوق سے محروم ہیں وہاں مولویوں کے غلط بیانات تقاریر اس طرح کے اندوہناک واقعے کی وجہ بنتی ہے لہذا تمام المسالک کے علمائے کرام کی اوّلین زمہ داری بنتی ہے کہ اپنے مذہبی جلسوں، منبروں سے ایک دوسرے کے عقائد اور مقدسات کا احترام کا سبق اور درس دیں، کیونکہ چھوٹی سی بات بھی خطے میں آگ لگا سکتی ہے۔ جس کی تازہ مثال قاضی نثار احمد کا قراقرم یونیورسٹی میں طلباء کے درمیان جھگڑے کو فرقہ وارانہ رنگ دیکر جنگی لباس پہن کر سڑکوں پر نکلنا ہے۔اس پہلے انہوں نے ایک بڑے اجتماع میں اہل تشیع کے بارہویں امام مہدی علیہ السلام کی شان میں بدترین گستاخی کی تھی، سوشل میڈیا پر متحرک اہل تشیع کے کچھ علماء اور دیگر لوگوں کی جانب سے ان پر ہونے والا حملہ کو بھی چند افراد انفرادی طور اسی سلسلے کی کڑی بھی بتایا جارہا ہے۔ حالانکہ اہل تشیع عقیدے اس قسم کے کاروائیوں کی کسی بھی طور اجازت نہیں بلکہ حرام ہے۔ اس تمام صورتحال میں گلگت بلتستان پولیس کا ان پر حملے کرنے والے دہشتگردوں کی گرفتاری کو عوامی حلقوں خاص طور اہل تشیع کمیونٹی کی جانب سے اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ لیکن یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں بلکہ ریاست سے پوچھا جارہا ہے کہ قانون اور انصاف میں یہ فرق کب تک رہے گا؟ گلگت بلتستان کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ 1988 میں کوہستان سے ایک مسلح گروہ نے گلگت پر حملہ کیا اور سینکڑوں شیعہ مارے گئے۔ آج تک اس واقعے کی جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات نہیں ہوئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 200 سے 400 لوگ مارے گئے، لیکن غیر سرکاری اندازوں کے مطابق یہ تعداد 700 سے 1000 تک بتایا جاتا ہے ہے۔ اسی طرح 2005 میں آغا ضیاء الدین رضوی کو ساتھیوں سمیت قتل کردیا، 2009 میں ڈپٹی سپیکر سید اسد زیدی قتل ہوئے، 2009 سے 2019 تک چلاس اور کوہستان میں 200 سے زائد شیعہ مارے گئے، اور 2022 میں آغا راحت حسین کے قافلے پر حملے میں ملوث قاتل ابھی تک آزاد ہیں۔ سوشل میڈیا پر ویڈیوز موجود ہیں، لیکن کوئی گرفتاری نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی جوڈیشل کمیشن بنا۔ اس صورتحال سے شیعہ کمیونٹی میں سوال اٹھا ریے ہیں کہ کیا ادارے اور پولیس اہل تشیع کو دہشت گرد ثابت کرنے کا ٹاسک ملا ہوا ہے یا ان واقعات میں ملوث لوگ اتنے طاقتور ہیں کہ قانون بھی ان تک نہیں پہنچ سکتا؟
لمحہ فکریہ اور سوچنے کا مقام یہ ہے پاکستان میں فرقہ واریت کا ناسور کب اور کیسے پروان چڑھا، تاریخ کہتا ہے کہ یہ سب کچھ 1980 کی دہائی میں شروع ہوا، جب جنرل ضیاء الحق کی اسلامائزیشن پالیسی کے نتیجے میں جہادی کلچر کو سرکاری سطح پر فروغ دیا گیا، ترقی کی طرف تیزی سے گامزن ملک کو فرقہ وارانہ بھینٹ چڑھایا اور اس کام کیلئے سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی طالبان جیسے جماعتوں کے پرچم تلے دیوبندی مکتبہ فکر کی ایک شاخ کو آگے بڑھایا گیا، جس نے گلگت بلتستان کو بھی فرقہ واریت کی آگ میں جھونک دیا اور مذہبی آزادی کے نام پر انتہا پسندی کو فروغ دیا گیا جس کی وجہ سے علاقے میں تشدد بڑھ گیا۔
لیکن قاضی نثار کی بات کریں تو قومی سیاسی معاملات میں انکا موقف جاندار ہوتا ہے اور تمام مسالک کے لوگ ان کی عزت کرتے ہیں اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ اچانک مسلکی معاملات میں جذبات میں آجاتا ہے جس سے علاقے کے امن کو خطرہ ہوتا ہے۔ ایسے علاقے میں جہاں شیعہ اکثریت میں ہیں، ASWJ جیسی تنظیم کا نام ایک سوالیہ نشان ہے۔ یہ تضاد ان کی سیاست کا حصہ ہے کہ ایک طرف امن کی بات کرنا اور دوسری طرف نفرتوں کا پرچار بھی ہوتا ہے۔ آج گلگت بلتستان کی نئی نسل کے پاس دو آپشن ہیں۔ یا تو وہ نفرت اور عدم برداشت کی سیاست پر چلیں یا پھر برداشت، تعلیم اور بہتری کی راہ پر چلیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ نوجوانوں کو جیسے رہنما ملے، ان میں سے اکثر فرقہ وارانہ ذہنیت کے تھے۔ جب تک یہ سوچ نہیں بدلے گی، یہ سلسلہ چلتا رہے گا اور 1988 جیسے کسی اور واقعے کا ڈر رہے گا۔ نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ فرقہ واریت سے کسی کا فائدہ نہیں ہوتا، صرف تعلیم اور برداشت ہی بہتر مستقبل کی ضمانت دے سکتی ہے۔ اب یہ انتہائی اہم ہے کہ نئی نسل بغیر کسی تعصب کے ایک پرامن اور ترقی یافتہ گلگت بلتستان کی بنیاد رکھے۔ انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ اتحاد میں طاقت ہے اور ایک دوسرے کی عزت کرنے سے ہی ایک اچھا معاشرہ بن سکتا ہے۔گلگت بلتستان امن، ترقی اور اتحاد کا مستحق ہے، نہ کہ فرقہ وارانہ سیاست اور ذاتی مفادات کا۔ یہ علاقہ جغرافیائی لحاظ سے اہم ہے، لیکن فرقہ واریت اس کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ سچائی پر مبنی تحقیقات کرے، سب کو انصاف فراہم کرے اور تمام کمیونٹیز کو برابر کے حقوق دے۔ تب ہی یہ علاقہ اصل میں جنت بن سکتا ہے۔ حکومت اور عوام دونوں کو مل کر کام کرنا ہوگا اور ایک ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں ہر کوئی امن اور سکون سے رہ سکے۔ قانون پر عمل کرنا اور تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
آخر میں، یہ بات ذہن نشین رکھنی ہوگی کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہے۔ انھیں فرقہ واریت کے چکر سے نکل کر ایک ایسا معاشرہ بنانا ہوگا جہاں ہر کسی کو اپنی بات کہنے اور اپنے عقیدے پر عمل کرنے کی آزادی ہو۔ یہ ایک مشکل کام ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں ہے۔ اگر گلگت بلتستان کے لوگ مل کر کوشش کریں، تو وہ اس علاقے کو سب کے لیے ایک مثال بنا سکتے ہیں۔ اس ریجن کے لوگوں کو چاہیے کہ وہ تعلیم کو عام کریں اور نوجوانوں کو اچھا سوچنے کی ترغیب دیں۔ انھیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ اختلافات کو پیار سے حل کیا جا سکتا ہے اور بات چیت سے مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔

حوالہ جات: بی بی سی آرکائیو، ڈان نیوز آرکائیو ہیومن رائٹس واچ۔ دیگر ذرائع ابلاغ ۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں