ہجرت نامہ /علی عباس کاظمی

ہجرت انسانی تاریخ کا سب سے پرانا اور سب سے المناک عمل ہے۔ یہ صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کا نام نہیں، بلکہ ایک مکمل زندگی کو پیچھے چھوڑ دینے کا فیصلہ ہے۔اکثر ایسا فیصلہ جو خوشی سے نہیں، مجبوری میں کیا جاتا ہے۔ جب کوئی انسان اپنا گھر چھوڑتا ہے تو وہ اینٹوں اور دیواروں کے ساتھ ساتھ اپنی زبان، اپنی پہچان، اپنے رشتے، اپنے ماضی اور اپنے مستقبل کے کئی امکانات بھی وہیں دفن کر آتا ہے۔ 18 دسمبر، مہاجرین کا عالمی دن، دراصل انہی دفن شدہ زندگیوں کی یاد دہانی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق آج دنیا میں دس کروڑ سے زائد انسان ایسے ہیں جو کسی نہ کسی شکل میں بے گھر ہیں۔ یہ صرف جنگوں کے مارے ہوئے لوگ نہیں، بلکہ وہ بھی ہیں جو آمریت، سیاسی جبر، مذہبی تعصب، معاشی ناانصافی اور ماحولیاتی تباہی کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنے وطن چھوڑتے ہیں۔ مگر دنیا انہیں ایک ہی نام دیتی ہے۔۔۔مہاجر۔ایک ایسا لفظ جو آہستہ آہستہ انسان کی جگہ لے لیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی انسان شوق سے مہاجر نہیں بنتا۔ کوئی ماں خوشی سے اپنے بچوں کو رات کے اندھیرے میں سرحد پار نہیں کراتی، کوئی باپ فخر سے اپنا گھر بند نہیں کرتا اور کوئی نوجوان اپنی مٹی کو غیر کی زمین پر بدلنے کا خواب نہیں دیکھتا۔ یہ سب فیصلے خوف، بمباری، بھوک، قید اور ناانصافی کے دباؤ میں کیے جاتے ہیں۔ ہجرت ہمیشہ ایک مجبوری ہوتی ہےچاہے اسے سیاسی پناہ کہا جائے یا معاشی نقل مکانی۔
دنیا کا المیہ یہ ہے کہ آج کا مہاجر ایک انسان کم اور مسئلہ زیادہ سمجھا جاتا ہے۔ سیاست اور میڈیا نے اسے خوف کی علامت بنا دیا ہے۔ اسے دہشت گردی، جرائم اور عدم استحکام سے جوڑ دیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سب سے زیادہ تشدد خود مہاجر پر ہوتا ہےریاستوں کے ہاتھوں، قانون کے نام پر اور خاموش اکثریت کی رضامندی سے۔ سمندروں میں ڈوبتی کشتیاں، سرحدوں پر لگتی گولیاں، حراستی مراکز میں قید بچےیہ سب ہمارے اجتماعی ضمیر پر سوالیہ نشان ہیں۔
ترقی یافتہ دنیا، جو انسانی حقوق کی سب سے بڑی علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، آج اپنی سرحدوں پر دیواریں کھڑی کر رہی ہے۔ اسلحہ ساز طاقتیں تب خاموش ہو جاتی ہیں جب انہی کی جنگوں کے متاثرین پناہ مانگتے ہیں۔ یہ کیسا انصاف ہے؟ کیا انسانی حقوق صرف ان لوگوں کے لیے ہیں جو محفوظ شہروں میں پیدا ہوئے؟
پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ سوال اور بھی تلخ ہے۔ ہمارا وجود خود ہجرت کی بنیاد پر قائم ہوا۔ 1947ء میں لاکھوں انسانوں نے جان و مال، عزت و آبرو کی قربانیاں دے کر نئی ریاست کا رخ کیا۔ وہ مہاجر تھے، مگر ان کے خواب واضح تھے۔۔۔تحفظ، برابری اور وقار۔ افسوس کہ آج ہم خود اس تاریخی تجربے کو بھلا بیٹھے ہیں۔ افغان مہاجرین، جو دہائیوں سے یہاں رہ رہے ہیں، جن کے بچے یہیں پیدا ہوئے، یہیں بڑے ہوئے، آج بھی شناخت کے بغیر، خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ وہ مہمان ہیں، مگر ایسا مہمان جسے کبھی مستقل ٹھکانہ نہیں دیا جائے گا۔
مہاجرین کو پالیسیوں اور رپورٹس تک محدود کر دیا جاتا ہے، جہاںمہاجر انسان نہیں رہتا صرف ایک اندراج بن جاتا ہے۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ جب ایک بچہ بغیر وطن کے بڑا ہوتا ہے تو وہ کس ریاست سے وفاداری سیکھے گا؟ اس کی زبان لہجہ بن جاتی ہے، اس کی یادیں بوجھ اور اس کی شناخت ایک سوال۔
ہجرت کا سب سے دردناک پہلو اس کے نفسیاتی زخم ہیں۔ مہاجر نہ مکمل طور پر نئے معاشرے کا حصہ بن پاتا ہے، نہ پرانے سے ناتا توڑ پاتا ہے۔ وہ درمیان میں لٹکا رہتا ہے۔۔۔ایک ایسی جگہ جہاں کوئی نقشہ مدد نہیں کرتا۔ کیمپوں میں پلنے والے بچے ۔۔۔ انہیں نہیں معلوم ان کا ملک کہاں ہے، مگر یہ ضرور جانتے ہیں کہ وہ جہاں ہیں، وہاں کے نہیں۔
مہاجرین کا عالمی دن دراصل ایک آئینہ ہے۔ یہ آئینہ ہمیں دکھاتا ہے کہ ہم انسان کو کس آسانی سے “دوسرا” بنا دیتے ہیں۔ ہم سرحدوں کو مقدس اور انسان کو مشکوک سمجھنے لگے ہیں۔ ہم نے ہمدردی کو نعروں تک محدود کر دیا ہے اور ذمہ داری سے منہ موڑ لیا ہے۔
سچ یہ ہے کہ ہجرت کوئی عارضی مسئلہ نہیں، بلکہ موجودہ عالمی نظام کی مستقل پیداوار ہے۔ جنگ، عدم مساوات اور ناانصافی جب تک موجود ہیں، مہاجر بھی موجود رہیں گے۔ سوال یہ نہیں کہ ہم ہجرت کو روک سکتے ہیں یا نہیں۔۔۔سوال یہ ہے کہ کیا ہم اسے باوقار بنا سکتے ہیں؟
کیا ہم مہاجر کو صرف ایک دن یاد رکھنا چاہتے ہیں، یا اسے انسان ماننے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں؟
کیونکہ آج وہ بے گھر ہے، کل حالات ہمیں بھی اس صف میں کھڑا کر سکتے ہیںاور تاریخ یاد رکھتی ہے کہ مشکل وقت میں کس نے دروازے بند کیے تھے، اور کس نے دل

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply