زندگی میں مقصد یا میننگ ایک رمز ہے۔ ایک کنایہ دراصل زندگی کا مطلب ہے۔ نصب العین ایک بڑی اصطلاح ہے۔ اس اصطلاح کے نیچے بھی میننگز ڈھونڈنے ہوتے ہیں مثلاً کسی کا مقصد کسی پہاڑ کی چوٹی پہ پہنچنا ہے تو وہاں پہنچنے سے پہلے کئی موڑ آئیں گے۔ کئی چھوٹی چھوٹی چوٹیاں سر کرنے کے بعد بالآخر آپ اصل یعنی مرکزی نکتے پہ پہنچیں گے۔ ہمارے قریب میں مشکپوری ہے۔ جب ڈونگہ گلی سے مشکپوری کا سفر شروع کرتے ہیں تو بالکل آغاز میں بازار ہے جہاں انواع و اقسام میں اشیاء دستیاب ہوتی ہیں۔ وہاں سے سب سے پہلے ایک سوٹی خریدنی ہوتی ہے۔ خشک میوہ جات لینے ہوتے ہیں۔ ایک عدد بیگ لینا ہوتا ہے۔ اس بیگ میں دیگر اشیائے خوردونوش بھرنی ہوتی ہیں۔ یہ سب ہو جائے تو گھوڑے نظر آجاتے ہیں۔ چند لوگ گھوڑوں پہ تو کئی بے شمار لوگ یہ سفر اپنے پیروں پہ طے کرتے ہیں۔ کچھ لوگ بیچ راستے سے واپس آجاتے ہیں جبکہ کچھ لوگ چلے جا رہے ہوتے ہیں۔ اس چیز کو بھی مد نظر رکھا جاتا ہے کہ کتنے گھنٹوں کا سفر ہے۔ مغرب کے بعد جنگل میں انسان نظر نہیں آتے چونکہ یہ دیگر جنگلی جانوروں کا وقت ہوتا ہے۔ کچھ لوگ چوٹی پہ پہنچ کے بھی سوچ رہے ہوتے ہیں یہاں کریں تو کیا کریں تو کچھ کے لیے یہ ایک یادگار سفر ہوتا ہے۔ کچھ مقامی رہنما یا گائیڈز ہوتے ہیں ان کا مقصد مختلف ہوتا ہے اور وہ اسی مقصد کے تحت وہاں گھوم رہے ہوتے ہیں۔ چند لوگ یہ بھی طے کر لیتے ہیں کہ وہیں کیمپنگ کر لی جائے اور اگلے روز سورج کی روشنی میں ناشتے کے بعد واپس جایا جائے۔ اکثر تعلیمی اداروں سے منسلک لوگ تفریحی دورے پہ آتے ہیں جو بیک وقت تعلیمی و تربیتی دورے بھی کہلاتے ہیں۔ اسی طرح سردیوں گرمیوں بہار خزاں کے موسموں میں اس سفر کی نوعیت بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔ ایک ہی انسان بار بار جائے گا تو شاید اسے لگے گا کہ کیا فایدہ ہو گا لیکن کوئی دوسرا بھلا آدمی بار بار مطالب ڈھونڈ لے گا۔ ایک بار میں جا رہا تھا۔ چونکہ آس پاس باڑ ہوتی ہے تاکہ لوگ راستے سے بھٹک نہ جائیں تو وہاں کچھ لوگ اپنی بکریوں کے ساتھ آئے ہوئے تھے۔ یکدم ایک بکرا بھاگنے لگ گیا تھا۔ وہ نشے میں دھت بھاگ رہا تھا۔ جب دیکھا کہ وہ قریب پہنچ آیا ہے تب بھی بھاگ رہا ہے تو میں بھی بھاگنے پہ مجبور ہو گیا تھا۔ میں اپنے قافلے سے کٹ چکا تھا اور تقریباً اکیلا بھاگ رہا تھا۔ یاد نہیں پڑ رہا لیکن یہی کوئی چار پانچ بج رہے تھے۔ بھاگتے بھاگتے چند موڑوں کے بعد ایک قافلہ آرہا تھا جو اس شش و پنج میں تھا آیا وہ پہنچ بھی پائے گا چونکہ مغرب قریب آ چکی تھی۔ اس قافلے کو میں نے صورتحال سے آگاہ کیا تو وہ بھی بھاگنے لگ گئے تھے۔ اسی طرح مختلف لوگوں کے ساتھ یہی سفر کا مطلب بھی الگ ہوتا ہے۔ اساتذہ کے ساتھ نوعیت دوستوں سے مختلف ہوتی ہے۔ یہ کہانی باندھنے کا مقصد یہ ہے کہ میننگ میکنگ ایک سکل ہے۔ اسے تلاش کرنا پڑتا ہے۔ یہ تلاش بذاتِ خود بھی مطالب سے بھرپور ہوتی ہے! ایک کہانی کی بڑی کتاب ہوتی ہے اور اس کہانی میں دیگر کئی کہانیاں ہوتی ہیں مثلاً مشکپوری اور اس کا ٹریک اور اس کی خوبصورتی اور اس کا جمال و جلال و زیبائی ایک کہانی ہے جبکہ اسی جنگل میں طرح طرح کے پرندے اور ان کے گیت اور ان گیتوں کا گھنے درختوں سے ٹکرانا کہانی کی ایک مخلتف نوع ہے۔ ان عظیم کہانیوں کا بھی ایک خالق ہے اور اس کہانی میں تیرنے والی دیگر کہانیاں بھی ہیں مثلاً جنگل میں ایک مخصوص حصے کو اس قابل بنادیا گیا ہے تاکہ یہ لوگوں کی توجہ حاصل کر سکے گا۔ ایسا ماہرین نے کیا ہے۔ اس الگ کہانی کے بھی مختلف کردار ہیں۔ ان کرداروں نے اپنا کردار نبھایا ہے اور غائب ہو گئے ہیں۔ اب اس کہانی میں دیگر کئی ہزاروں کہانیاں ہیں۔ سینکڑوں مزید کردار ہیں جو انسانی شکل و صورت میں روزانہ آتے اور چلے جاتے ہیں! ان کہانیوں میں بھی ہمارے لیے بہت سارے رمز موجود ہیں! انھیں سمجھنا اور اپنی کہانی بنانا ایک دلچسپی سے بھرپور سفر ہے جو فراموش نہیں ہونا چاہیے! آج سولہ دسمبر ہے اور ساڑھے پانچ بجے یہ تصویر اتاری ہے جو مشکپوری کی چوٹی ہے جہاں گھپ اندھیرا ہے! یہ بھی ایک کہانی ہے اور اس کے بھی کردار ہیں!
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں