یوم علی ع، کرونا اور مکتب تشیع کی ذمہ داری۔۔علیم رحمانی

چونکہ مراجع عظام نے کروناکےحوالے سے احتیاطی تدابیر کی سختی سے پابندی کولازم قرار دیاتھااس لئےاس وبا کی پاکستان آمد کیساتھ ہی احتیاط کے حوالے  سے حقیر ان کی ہدایات پہ خودبھی عمل پیرارہااور دیگر احباب کوبھی ان پہ سختی سے عمل کی ترغیب دیتارہا،بحمد للہ اس حوالے سےمجھ سمیت مکتب تشیع کاکوئی فردکسی الجھن کاشکار نہ ہوا۔

مگر اب مقطع میں سخن گسترانہ بات یہ آپڑی ہے کہ مولائے کائنات علیہ افضل التحیات والسلام کے ذکرشہادت کی مجالس اور یوم علی کے جلوس کے حوالے سے کیاحکمت عملی اختیار کی جائے ؟

اگر ہم اپنے مذہبی جذبات اورمولاسے اپنی بے پناہ عقیدت کی آنکھ سے اس سارے منظر نامے کودیکھیں تویہ کہے بنارہانہیں جاسکتاکہ صورتحال کچھ بھی ہو ہمیں مجالس اور جلوس عزاء کامکمل اہتمام اور ان میں بھرپور شرکت کرنی چاہیے لیکن اگر جذبات کوایک طرف رکھ کر خود مولاعلی علیہ السلام کی حیات مبارکہ کی روشنی میں موجودہ حالات میں اجتماعات کے انعقاد میں کوئی موہوم نہیں بلکہ یقینی خطرے کاادراک کریں تو ہماری یہ مشکل آسان ہوجاتی ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے عمومی مصالح کی خاطر خود امیرالمومنین علیہ السلام نے کئی مواقع پہ وہ اقدامات اٹھانے سے گریز کیاجوآپ کا شرعی حق تھا یوں آپ کی سیرت سے الہام لیتے ہوئے مومنین کے تحفظ کی خاطر اب کےہرقسم کے اجتماعات سےمکمل گریزکیاجاسکتاہےجبکہ مراجع عظام کی ہدایات بھی اس حوالے سے بالکل واضح ہیں اور ابھی تک پوری دنیا بشمول ایران وعراق میں ان پہ مکمل عمل کیاجارہاہے۔

دوسری طرف یہ خدشہ بھی بیجانہیں کہ اگر اب کے مرکزی جلوس کومعطل کیاگیاتو آئندہ بھی حکومتوں کو جلوسوں کی راہ میں روڑے اٹکانے کا بہانہ اور حوالہ دستیاب ہوگا جو ہمارے برسوں سے جاری مذہبی اجتماعات کے تسلسل کے لئے نیک شگون نہ ہوگاخصوصاًایسی صورتحال میں جب کچھ تکفیری عناصران پہ پابندی کے حوالے سے مسلسل ناکام کوششیں بھی کرتے رہے ہوں۔

زمینی حقائق کے حوالے سے اپنی مذہبی ذمہ داری سے قطع نظر سندھ حکومت نے علمائے کرام اور مذہبی جماعتوں سے بغیر کسی مشورے کے یوم علی علیہ السلام کی مجالس اور جلوسوں پہ پابندی کا نوٹیفیکیشن جس بھونڈے انداز سے جاری کیاہے اس سے حکومت کے اخلاص اور عوامی تحفظ کے جذبے کی بجائے جلدبازی اور جلوس سے چڑ کاپہلو نمایاں نظر آتاہے اس لئے علامہ شبیر میثمی صاحب نے ایکسپریس ٹی وی پہ بجاطور پہ حکومت سندھ کی پالیسی پہ تنقید کی اور ہمارے جذبات کی خوب ترجمانی کی کہ اگر پابندی والے حالات ہیں بھی توحکومت کو علمائے تشیع سے مشورہ کرلیناچاہییے تھا ۔یہ حکومت کاکام ہے ہی نہیں کہ وہ ہمیں بتائے کہ ہمارے مکتب میں کیافرض ہے اور کیانہیں۔

ان کے علاوہ دیگر ِملی تنظیموں اور ماتمی انجمنوں نے بھی حکومت کے اس یکطرفہ فیصلے پہ شدید تنقید کی ہے۔

جہاں تک حکومت کی طرف سے بغیرمشورے کے پابندی کاتعلق ہے تو یہ واقعی قابل مذمت ہے کیونکہ اسے مجالس اور جلوسوں کے حوالے سے ملت جعفریہ کے احساسات کاعلم ہوناچاہیےتھاجس سے بوجوہ یہ عاری نکلی۔

مگر حکومتی اقدامات سے قطع نظر سوال یہ ہے کہ بحیثیت مسلمان اور شیعہ ہماری اپنی ذمہ داری کیاہے؟ کیاہمارے لئے اتنے بڑے اجتماع اور کئی کلومیٹر جلوس میں کسی بھی ایس او پی کی پاسداری کرواناممکن ہے؟

اگر ممکن ہے تواس کی ذمہ داری کون لے گا؟
کیامراجع عظام کے فتاوی اور ہدایات کااطلاق ان اجتماعات پہ نہ ہوگا؟
جب تبلیغی جماعت کی لاپروائی سے ،اس کے اجتماع کی وجہ سے کروناپھیلاتو ہم نے اسےہدفِ تنقید بنایا توکیاآج ہمارے لئے وہی اقدام کرنادرست ہوگاجس پہ ہم تنقید کرتے آئےہیں؟

جب خطرے کے پیش نظر نماز جمعہ وجماعت جن میں صرف چند سو افراد کی ہی شرکت ہوتی ہے معطل کردی گئی ہیں تو جس جلوس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہوتے ہوں اور کروناکے پھیلاؤ کاحقیقی خطرہ بھی موجود ہو توایسےمیں شرعی طور پہ اس کے انعقاد کی کیاحیثیت ہوگی؟

اگر اس پابندی سے جو یقیناً کسی دشمنی کی بناپر نہیں بلکہ عوام کے تحفظ کی خاطر لگائی گئی ہے کچھ تکفیری خوش ہورہے ہیں توکیاایسے  لوگ  اس لائق ہیں کہ ہم ان کی مخالفت میں اپنی پالیسی تبدیل کریں اور مجتہدین کے واضح احکامات کی خلاف ورزی کریں؟

باقی یہ یقین رکھیں بقول علامہ شبیر میثمی کہ عزاداری کوبنوامیہ اور بنوعباس نہ روک سکے تویہ ان کی مٹھی بھر اولاد کیاروکے گی، اس حوالے سے فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ حکومت اس کومخالفت میں نہیں حفاظت کے لئے روکناچاہتی ہے۔

پھر بھی اگر ایس اوپی کی پاسداری کرتے ہوئے جلوس کے انعقاد کی کوئی صورت بن جاتی ہے تونعرہ حیدری یاعلی۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *