عمران خان مرتا کیوں نہیں؟ انعام رانا

ہزاروں برس سے شمال کی جانب سے حملہ آور آتے تھے اور حکمران بن جاتے تھے۔ اس خطے، کہ جس میں اب پاکستان کا بیشتر اور انڈیا کا کافی حصہ شامل ہے، نے کوئی بہت بڑی عوامی مزاحمت کم ہی کی۔ انفرادی مزاحمتی کردار البتہ موجود ہیں۔ اس کے اسباب پہ خیر ایک الگ مضمون باندھا جا سکتا ہے۔ البتہ اس خطے نے ایک عجب نفسیاتی مزاحمت کو اپنایا، “خاموش نفرت”۔ یہ حکمران سے فائدے بھی اٹھاتے، مار بھی کھاتے، خوشامد بھی کرتے مگر اس سے شدید نفرت بھی رکھتے۔ چنانچہ جیسے ہی کوئی نیا حملہ آور آتا، یہ پہلے سے نفرت میں اسکا عملی ساتھ یا کسی طرح سے مدد بھی دے دیتے اور اپنی نفرت کا اظہار کرتے۔ البتہ نئے کے ساتھ نفرت کا دور بھی شروع ہو جاتا جو اس سے نئے والے کی آمد تک جاری رہتا۔

اسی نفرت کا ایک مظہر تھا کہ گو اس خطے کے عوام خود لڑنا نہیں چاہتے تھے، لیکن انہیں ہمیشہ ایک ایسا بپھرا ہوا شیر یا ایک ایسا اتھرا کردار پسند آیا ہے جو نتائج سے بے پرواہ ہو کر طاقتور کے سامنے جا کھڑا ہو۔ یہ دراصل ہماری وہ مشترکہ جبری کمزوری تھی، وہ ادھورے پن کا خلا تھا جسے بھرنے کے لیے ہم مزاحمت کاروں کو لوک ادب کا حصہ بنا لیتے تھے۔ ایسا ہیرو جس نے ہماری نفرت کی نمائندگی کی۔ دُلا بھٹی سے بھگت سنگھ تک تاریخ گواہ ہے کہ عوام نے ہمیشہ اُس کردار کو سینے سے لگایا ہے جس نے اقتدار کی چمکتی چین آف کمانڈ کو للکارا، بھلے وہ للکار ذاتی محرکات پر مبنی ہی کیوں نہ ہو۔
ہماری اسی نفسیاتی گرہ کو بھٹو نے بھانپ لیا تھا۔ جب اس نے روٹی، کپڑا، اور مکان کا نعرہ لگایا تو یہ صرف ایک سیاسی منشور نہیں تھا، بلکہ ایک طاقتور اشارہ تھا کہ وہ “اسٹبلشمنٹ” کے خلاف مزاحمتی کردار سنبھال رہا ہے۔۔ ایک ایسا طاقتور اشارہ جو اس وقت کی مقتدر قوتوں کے لیے ایک جھٹکا تھا۔ بھٹو صاحب کو ہیرو پنجاب اور سندھ کے کچھ حصوں نے بنایا، جو اس “روایت “ پہ کاربند تھے اور طاقتور کو للکارنے والا بھٹو ان کو پسند آیا۔ بھٹو صاحب نے دوران اقتدار کئی ایسے اقدامات کیے جن سے انکی مقبولیت کم ہو چکی تھی۔ لیکن جب اُن کو تخت سے اتارا گیا اور وہ موت کے قریب پہنچے تو وہ ایک بڑے قومی ہیرو بن چکے تھے، کیوں کہ انھوں نے جبر کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ بھٹو کی شاید کسی ’نظریاتی عظمت‘ کا نتیجہ نہیں تھا، یہ محض اس قوم کی دبی ہوئی خواہش تھی کہ کوئی تو ان کے لیے اُس طاقت سے ٹکرائے جس کے سامنے یہ قوم صدیوں سے سجدہ ریز ہے۔ بھٹو کی بیٹی اسی مزاحمتی استعارے کے طور پہ اقتدار میں آئی اور پھر اسکی شہادت نے اسکی مزاحمت کو لوک داستان بنا دیا۔ نواز شریف کو بھی جب ’ظلِ سبحانی‘ کی گود سے نکال کر پرے دھکیلا گیا، اور اس نے اپنے خلاف ہونے والے ’ناپاک اتحاد‘ کی کہانی سنائی، تو اسے بھی اسی بغاوتی رگ نے ہیرو بنا دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب قوم نے اپنے غم و غصے کو ان کرداروں کے ذریعے باہر پھینکا۔ مگر جیسے ہی نواز شریف “تعاون” کے راستے پہ چلے، اپنے ہی ورکرز میں بھی ناپسند کیے گئے۔

اور آج، جب چاروں طرف فوجی، سیاسی و عدالتی استحصال کا شور اٹھا ہے، تو اسی تسلسل میں عمران خان ایک ’اسیر‘ کی صورت میں سامنے ہے۔ عمران کی بت سازی کی گئی، اقتدار کے سنگھاسن پہ بٹھایا گیا، اسکے اقدامات یا “نااقدامات” کی وجہ سے وہ اقتدار کے اخیر میں شدید نامقبول ہو چکا تھا، یہ سب اب معنی نہیں رکھتا۔ اس کی مقبولیت کی وجہ اس کا کوئی خاص سیاسی منشور یا “پرفارمنس” نہیں ہے بلکہ یہ دراصل اداروں اور ملک کے طبقاتی نظام سے سماجی بیزاری کا وہ شدید کرشمہ ہے جو اس شخص کے پیچھے کھڑا ہو گیا ہے۔ جتنی سختی اس پر بڑھائی جاتی ہے، جتنا اس کا راستہ روکا جاتا ہے، اتنی ہی عوامی نفرت اسے ایک ’مردِ حر‘ اور ’حریت کا استعارہ‘ بنا کر امر کر دیتی ہے۔ یہ دراصل عوامی غصے کی وہ شدت ہے جو اَب عمران خان کے چہرے پر نظر آتی ہے، اور قوم اس غصے میں اپنا عکس دیکھتی ہے۔ آپ جس ہتھکڑی کو اس کے ہاتھ میں ڈالتے ہیں، وہ کروڑوں لوگوں کے بازوؤں کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس لیے، جب تک یہ قوم خود کو اس جبر اور خوف سے باہر نہیں نکالتی، جب تک یہ ’خوفزدہ نسلیں‘ اپنے فیصلے خود کرنا نہیں سیکھتیں، یہ کردار مرنے والا نہیں ہے، یہ صرف ’امر‘ ہوتا رہے گا۔

julia rana solicitors london

اگر “آپ” اس گہری کھائی سے باہر نکلنا چاہتے ہیں تو آپ کو یہ حقیقت سمجھنی ہو گی۔ عمران خان کو مارنا یا “مرنے میں مدد دینا” کسی ایک فرد کو مارنا نہیں ہے؛ یہ قومی اجتماعی غصے کی روح کو چیلنج کرنا ہے۔ عمران اپنی طبعی موت بھی مرا تو اب وہ لوک کہانی کا کردار بن چکا ہے۔ آپ کا جبر نہ عمران کو “موت” دے گا اور نہ ہی عوامی نفرت کو کم کرے گا۔ جب تک آپ اس قوم کو عزت، انصاف، اور بنیادی آئینی حقوق اور حق حکمرانی نہیں دیں گے، ان کے دماغ سے اپنے اعمال کے ذریعے یہ تاثر ختم نہیں کریں گے کہ “آپ “حملہ آور حکمرانوں کا ایک تاریخی تسلسل ہیں، یہ اپنی نفرت اور بغاوت کا اظہار کسی نہ کسی ’ہیرو‘ کی شکل میں کرتی رہے گی۔ لہٰذا، انفرادی کرداروں کو ختم کرنے اور سزا دینے کے بجائے، اس نظام کو ختم کیجیے جو اس قوم کو ہمیشہ ایک ’باغی‘ کا متلاشی رکھتا ہے۔

Facebook Comments

انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply