گلگت بلتستان میں 24 جنوری 2026 کو ہونے والے اسمبلی انتخابات کا شیڈول جاری ہو چکا ہے، اور سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ نامزدگیاں جمع کرانے کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے، پارٹی وفاداریاں تبدیل ہو رہی ہیں، اور امیدوار عوام کے دروازوں پر دستک دے رہے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا پچھلی اسمبلی کے پانچ سالہ دور سے سبق سیکھا گیا ہے؟ 2020 میں منتخب ہونے والے نمائندوں نے جو پالیسیاں بنائیں، ان سے علاقے کے عوام کو کتنا فائدہ ہوا، اور کتنا نقصان؟ گلگت بلتستان کی تقریباً 70 فیصد پڑھی لکھی آبادی، جو ملک کے دیگر حصوں سے زیادہ باشعور سمجھی جاتی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ وہی پرانی پارٹیاں اور چہرے منتخب کرے گی یا نئی، عوام دوست قیادت کو موقع دے گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ باشعور لوگ پچھلی اسمبلی کے تجربات سے سبق سیکھ کر ایک نئی قیادت کا انتخاب کرتے ہیں یا پھر وہی پرانی غلطیاں دہراتے ہیں۔ 2020 کے انتخابات میں جو نمائندے منتخب ہوئے، انہوں نے ایسی عوام مخالف قراردادیں پاس کیں جن کی مثال نہیں ملتی۔ ان فیصلوں سے نہ صرف لوگوں کے حقوق پامال ہوئے، بلکہ گلگت بلتستان کی قانونی حیثیت کو بھی نقصان پہنچا۔ عوام کو اچھی طرح معلوم ہے کہ سابق حکومت نے عوامی مفادات کو سامنے رکھ کر کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے براہ راست عام آدمی کو فائدہ ہو اور نہ ہی حکومت نے کوئی خاص ترقیاتی کام نہیں کیا، البتہ عوام اور خطہ مخالف پالیسیاں بنانے، علاقے کی قانونی حیثیت کو نظر انداز کرنے اور کشمیر کے معاملے پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ یہ حکومت کشمیر کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزیوں میں بھارتی حکومت سے بھی آگے نکل گئی۔ ظلم یہ ہوا کہ انہوں نے قومی اثاثوں کو بھی لیز پر دے کر نہ صرف گلگت بلتستان کی قانونی حیثیت کو نقصان پہنچایا، بلکہ قدرتی وسائل جیسے معدنیات، جنگلات اور سیاحتی مقامات سے بھی عوام کو محروم کر دیا۔ اس کے نتیجے میں تمام اضلاع میں مسلسل احتجاج ہوتے رہے۔ لوگوں نے زمینوں اور معدنیات پر قبضے کے خلاف مظاہرے کیے، لیکن حکومت نے عوام کی بات سننے کے بجائے انسداد دہشت گردی قوانین کا استعمال کر کے گرفتاریاں کیں اور انسداد دہشت گردی ایکٹ (ATA) لگایا گیا، جو پر امن احتجاج کو دبانے کا ایک ذریعہ بن گیا۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس بھی گلگت بلتستان میں بنیادی آزادیوں کی پامالی کی تصدیق کرتی ہیں۔ اسی طرح اگست 2025 میں 63 سرکاری افسران کو نوکریوں سے برطرف کر دیا گیا، جس پر پورے علاقے میں احتجاج ہوا۔ پولیس افسران نے یومیہ الاؤنس دو گنا کرنے کے وعدے کی خلاف ورزی پر احتجاج کیا تو 35 اہلکاروں کو معطل کر کے ان کی تنخواہیں روک دی گئیں۔ یہ احتجاج ایک مہینے سے زیادہ جاری رہا، جو حکومت پر عدم اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ تاریخی اور قانونی طور پر گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کی وجہ سے اس کو پاکستان کے قومی دھارے میں شامل نہیں کیا جا سکا مگر اس کے باوجود صوبے کا نام دے کر ٹیکس لگائے جا رہے ہیں۔ خنجراب پاس سوست ڈرائی پورٹ پر تاجروں نے ٹیکس میں چھوٹ کے لیے مہینوں احتجاج کیا، جسے شدت پسندی قرار دے کر میڈیا میں غلط خبریں پھیلائی گئیں اور علاقے کی بدنامی کی گئی۔ سیاحت کے شعبے میں بھی مخلوط حکومت نے عوام کے حقوق کو پامال کیا۔ 2024 میں گرین ٹورزم لمیٹڈ نامی کمپنی، جو SIFC کے زیر انتظام ہے اس ادارے کا قیام کے ساتھ کی کرپشن میڈیا کی زینت بن چکی ہے، کو بہت سے سیاحتی مقامات، ریسٹ ہاؤسز اور جنگلات 30 سال کی لیز پر دے دیے گئے۔ تقریباً 37 سے 44 جگہیں شامل تھیں، جن میں PTDC موٹلز، فارسٹ گیسٹ ہاؤسز اور غذر کے 20 ریسٹ ہاؤسز تھے۔ یہ معاہدہ اپریل 2024 میں ہوا۔ عوام نے اسے سیاحت کا شعبہ چھیننے کے مترادف قرار دیا اور مئی جون 2024 میں زبردست احتجاج کیے، لیکن حکومت نے اس پر کوئی توجہ نہ دی۔ گلبر خان نے میڈیا پر کہا کہ اس سے چند کروڑ روپے ملیں گے، مگر مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ زمینوں پر قبضہ اور حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ یہ معاملہ آزاد کشمیر کی طرح بغاوت کا سبب بن سکتا ہے۔معدنیات کے شعبے میں بھی احتجاج جاری رہے۔ 2024 اور 2025 میں حکومت پاکستان نے سونا، یورینیم، مولیبڈینم اور لیتھیم جیسی معدنیات کی کان کنی کے لیز غیر ملکی کمپنیوں کو دے دیے۔ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ علاقے کے دو تہائی معدنیات والے حصے لیز پر دے دیے گئے ہیں۔ مائنز اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر مقامی لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم کر رہا ہے، جو اقوام متحدہ کے کشمیر چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔ سب سے زیادہ متنازعہ اقدام لینڈ ریفارمز بل 2025 تھا، جو مئی 2025 میں اسمبلی کے 36 ویں اجلاس میں پیش کر کے 21 مئی کو اپوزیشن کی مخالفت اور احتجاج کے باوجود منظور کر لیا گیا۔ اپوزیشن اور تمام جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ اسٹیٹ سبجیکٹ رول کی خلاف ورزی ہے، جو کشمیر کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری سے پہلے جغرافیائی تبدیلی کی اجازت نہیں دیتا۔ 2026 کے انتخابات گلگت بلتستان کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔ باشعور عوام کو چاہیے کہ اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کر کے علاقے کے حقوق کی حفاظت کریں اور ایسے نمائندوں کو منتخب کریں جو عوام دوست ہوں اور علاقے کی قانونی حیثیت کا احترام کریں۔ یہ انتخابات نہ صرف اسمبلی بلکہ گلگت بلتستان کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں