شاہِ ہجویرؒ/ڈاکٹر اظہر وحید

ہر دَور کی ایک زبان ہوتی ہے، ہر عہد کا ایک لہجہ ہوتا ہے اور ہر زمانے کا ایک مخصوص اسلوب ہوتا ہے۔ جب تو کوئی اپنے عہد کی زبان، اس کے لہجہ اور اسلوب پر عبور حاصل نہ کرے، اس کی مساعی تبلیغ بالعموم کارگر نہیں ہوتیں، اپنے سامعین وقارئین تک اس کا ابلاغ نامکمل رہتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر عہد کے صوف باصفا نے اپنی تحاریر میں ان تمام امور کو ملحوظ رکھا۔ روحانی تصرف کی داستان الگ ہے۔ روح کا روح سے رابطہ الفاظ کا محتاج نہیں، وہاں توجہ اور سماعت کو ہمارے حواسِ خمسہ کی احتیاج نہیں۔ عالمِ شہود میں ہم لفظ کے محتاج ہیں۔ لفظ تو ایک طرف یہاں معانی کی ترسیل کے لیے لہجہِ کلام اور اسلوبِ بیان ایک الگ اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
اپنے اسلاف اور اصفیا پر کام کرنے والے محققین اگر اس راز سے آگاہ نہ ہوں، تو اْن کی مساعیِ جمیلہ کبھی کمال کو نہ پہنچتیں۔ عقیدت میں لکھنے والے کم نہیں، عقیدت کے ساتھ ساتھ حقیقت کے قریب ہو کر لکھنے والے کم کم ضرور ہیں۔ تسلیم اور تحقیق اگر کسی جا یکجا ہو جائے تو وہ ایک جائے کمال ہے۔ تسلیم اپنوں کے کام آتی ہے، تحقیق غیروں کے۔ اپنی تسلیم اور عقیدت کو غیر کے سامنے بے حجاب نہ کرنا چاہیے، یہ محبت کو بے لباس کرنے کے مترادف ہے۔ اِس دَورِ بے حجابی میں کم از کم محبت پردے میں رہنے کی چیز ہے۔ محبت رسوا ہوتی ہے تو حرف محبوب پر آتا ہے، اس لیے اہلِ محبت اپنی محبت کو اشاروں، کنائیوں، دلیل ، منطق اور علمِ کلام کے پردے میں چھپائے رکھتے ہیں۔ وہ زمانے کے سامنے آتے ہیں تو ان ہی کی زبان ، ان ہی کے لہجے اور ان ہی کے اسلوب میں کلام کرتے ہیں۔ دورِ حاضر تحقیق کا دور ہے، یہاں اسی کا وجود مانا جاتا ہے جو حاضر و موجود ہو۔ تجرید کو تجسیم کے پیرائے میں بیان کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔
مغرب کا دور دورہ ہے۔ فی زمانہ اْن ہی کا اندازِ تحقیق سکولوں ، کالجوں، یونیورسٹیوں اور ذہنوں میں رائج ہے۔ ہم اہِل مشرق کو اپنی بات مغرب تک پہنچانے کے لیے اْن ہی کے اسلوب میں بات کرنا ہوتی ہے۔ شاعرِ مشرق نے بھی اپنی بات اپنے دور کے طلب اور تقاضوں کے مطابق مروجہ اسلوبِ بیان
کو ملحوظ رکھتے ہوئے مشرق و مغرب تک پہنچائی ہے۔ روحِ بیان کو لفظوں کا قالب درکار ہوتا ہے اور لفظوں کے قالب کو اس دور کے فیشن کے مطابق اسلوب اور لہجے کا لباس زیبِ تن کرنا ہوتا ہے، تا آنکہ وہ دنیا کے بازار میں آزادی سے گھوم پھر سکے۔ ہم شہر میں گاؤں کا لباس پہنے پھریں تو ہم پر اکثر دروازے نہیں کھلتے… بالخصوص وہ دروازے جو بالعموم بڑے کہلاتے ہیں… اسی طرح گاؤں میں شہری لباس معیوب سمجھا جاتا ہے۔
یہ تمہیدی کلمات اس کتاب پر بات کرنے کیلیے سپردِ قلم کیے ہیں جو اس وقت میرے سامنے ہے۔ محکمہ اوقاف کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والی کتاب بابت ’’شاہِ ہجویرؒ …سوانح و معارف حضرت سیّد علی بن عثمان الہجویری داتا گنج بخش ‘‘ امسال 982ویں عرس کے موقع پر شائع ہوئی ہے۔ مذکورہ کتاب کے مصنف و مؤلف مفتی محمد رمضان سیالوی صاحب ہیں۔ مفتی صاحب ایک صاحبِ نسبت آدمی ہیں۔ ایک عرصے سے مرکزی جامع مسجد حضرت داتا گنج بخشؒ میں بطور خطیب اپنی ذمہ داریاں بطریقِ احسن نبھا رہے ہیں۔ ایک بلند پایہ خطیب ہونے کے باوصف موصوف اپنی تحریر میں روایتی خطیبانہ انداز سے گریز کرتے ہیں۔ میں اسے ریاضتِ نفس سے تعبیر کروں گا۔ عقیدت اور حقیقت کا حسین امتزاج ان کی تحریر کا وصفِ امتیاز ہے۔ مفتی رمضان سیالوی صاحب پی ایچ ڈی سکالر بھی ہیں۔ یورپ اور امریکہ کے دوروں پر بھی اکثر رواں رہتے ہیں، اس لیے اہلِ مغرب کے فکری زاویوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔ بنابریں اس مختصر کتاب میں مفتی صاحب نے خالصتاً تحقیقی انداز اپنایا ہے۔ فقط مستند بات ہی بیان کی ہے ، عقیدت مندوں کی طرف سے اضافہ شدہ غیر مستند بیانات سے اپنے قلم کو آزاد کیا ہے۔ کتاب میں ایک تحقیقی مقالے کی طرح ہر واقعے کا کتابی حوالہ بھی درج کیا ہے۔
اس مختصر کتاب میں صاجبِ کشف المحجوب کی سوانح بھی ہے اور معارف بھی، نیز کشف المحجوب کا ایک مختصر تعارف اور اس کی تاریخ و تدوین پر بھی ایک تحقیقی مواد موجود ہے۔ قدیم سرمائے کو جدید اسلوب میں پیش کرنا آج کے دور کی ایک فکری و علمی ضرورت ہے۔ ستم ہے کہ تصوف سے منحرف فکری طبقہ اپنا اظہاریہ جدید پیرائے میں کر رہا ہے جبکہ تصوف کے قائلین اہلِ تصوف کی بابت چند کہی سنی باتیں روایتی اور رسمی طور پر ، dogmatic belief کے طور پر، بیان کرنا ہی کافی تصور کرتے ہیں۔
دہلی میں حضرت خواجہ نظام الدین اولیائؒ کے عرس کے موقع پر حاضری کے دوران میں سجادہ نشین خواجہ طاہر نظامی صاحب سے ملاقات ہوئی ، وہ بھی انتہائی تاسف سے اس امر کی نشاندہی کر رہے تھے کہ اب ہم نے فقط خواجہ صاحبؒ کی فاتحہ دلوانے اور چھٹی شریف پر شیرینی تقسیم کرنے ہی کو تصوف کی خدمت سمجھ لیا ہے اور تحقیق و تصنیف سے ہاتھ اٹھا لیا ہے۔ اْن کی بات قابلِ توجہ ہے۔ حضرت نظام الدین اولیائؒ تو ’’محبوبِ الٰہی‘‘ کی مسندِ پْرجمال پر فائز ہو نے کے باوصف علمی کاموں سے دستبردار نہیں ہوتے اور درجنوں کتب تحریر کرتے ہیں، اور ان کے ماننے والے تحقیق و وجستجو سے خود کو بے نیاز محسوس کرتے ہیں… دراں حالے کہ بے نیازی تو محبوب لوگوں کو زیبا ہوا کرتی ہے۔ نیاز مندوں کے لیے بے نیازی کسی طور روا نہیں۔ دراصل علم ، تحقیق اور جستجو روحانیت کا ہراول دستہ ہوا کرتا ہے۔ قلوب کے ساتھ ساتھ اذہان کی تسخیر بھی اہم ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کا پیغام ہے:
ہوشیار اہلِ جنوں ! اہلِ خرد سے ہوشیار
اہلِ جنوں پر لازم لے کہ وہ اہلِ خرد کے لیے تحقیق ودلیل کا کوئی مورچہ خالی نہ کریں، مبادا کوئی فکری تخریب کار وہاں خود کش ہتھیار نصب کر دے۔ دین ظاہر و باطن میں مکمل ہوتا ہے… اسی لیے مکمل ضابطہِ حیات ہے۔ اگر اہلِ ظاہر باطن کے بغیر نامکمل ہیں تو اہلِ باطن کے پیغام بروں کو بھی اپنے ظاہر کو مکمل کیے بغیر دم نہیں لینا چاہیے۔
مفتی رمضان سیالوی صاحب کی مرتب شدہ کتاب اس پیغام کا ایک عملی ثبوت ہے۔ تحقیق کو فائق کرتے ہوئے انہوں نے ہماری تسلیم کو ایک پناہ گاہ مہیا کر دی ہے۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔ شنید ہے کہ اس کتاب کا عربی ، انگریزی اور فارسی میں ترجمہ بھی زیرِ ترتیب ہے۔ یہ امر یقیناً خوش آئند ہے کہ داتا دربارحاضری دینے والے زائرین کو صاحبِ دربار کی سوانح اور ان کے معارف مستند ذرائع سے ہر زبان میں میسر ہوں گے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply