شام کا محاذ۔۔۔۔اورنگزیب

شام برسوں  سے کئی اندرونی اور بیرونی طاقتوں کی چیرہ دستیوں کی آماجگاہ بنا   ہوا ہے اور شاید ایک پرانی روایت کے مطابق مسلمان عیسائی اور یہودی دنیا کے کسی حصے میں آباد ہوں انکی روح شام کی طرف لوٹتی ہے کی انتہائی بھیانک تصوير  ہمارے سامنے ہے۔امریکہ، روس ،سعودی  عرب ،ایران، اسرائیل اور ترکی اس کھیل کے بڑےکھلاڑی  ہیں لیکن امپائر شايد کوئی بھی نہیں۔ اس پوری تباہی کے چند بنیادی اسباب کیا  ہیں؟ عرب بہار اور اس کے ساتھ پُر تشدد انقلابی تحريک ،اسد کی خوفناک آمریت ،ایران اور سعودی عرب کی مسلکی جنگ،امریکہ کا مشرق وسطی میں اثرو رسوخ برقرار رکھنے کی کوششیں ،روس کا بین الاقوامی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے کی خواہش اور ترکی کا کردوں اور پناه گزینوں کے عفریت کا مقابلہ کرنا۔

شام کی سیاسی مذہبی اور جغرافیائی اہمیت نے اسے ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیا ہے  جس میں اگر کسی فریق نے سب سے زیادہ جبر کا سامنا کیا ہے تو وہ شامی عوام ہیں۔ایران شام میں مضبوط علوی  حکومت بٹھا کر بحیرہ روم تک براہ راست رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے ، جو سعودی عرب کو کسی صورت منظور نہیں۔اس مکمل طور پر سیاسی اور معاشی مقصد کے حصول کے لیے جس قدر بے حیائی اور ڈھٹائی سے فرقہ وارانہ کارڈ استعمال کیا گیا وہ پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو چکا ہے ۔سعودی عرب عراق کی شیعہ حکومت کو پہلو میں بٹھا چکا ھہے اور ایران پاکستان جیسے سنی ممالک کی قربت کے لیے بےقرار ہے۔حقیقتاً شام کا مسئلہ ان دو ممالک کے لیے معاشی اہمیت کا ہے اور پوری دنیا سے شیعہ اور سنی لوگوں کو مذہب کے نام پر ایک بے رحم جنگ میں جھونک دیا گیا ہے۔اس جنگ نے پاکستان جیسے ممالک پر بھی نہایت منفی اثرات مرتب کیے ہیں اور مذہب کے نام پر لڑنے اور مرنے والوں کو ان دو ممالک نے مفادات کی بھینٹ چڑھایا ہے ۔روس اور امریکہ کی جنگ بھی سیاسی اور معاشی مفادات کے تابع ہے ۔سابق سوویت یونین جس نے دوسری جنگ عظيم کے بعد مشرقی یورپ کے بہت سارے ممالک کو اپنی چھتری تلے جگہ دی تھی اب بھی اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنا چاہتا  ہے۔یورپ روسی گیس کی سب سے بڑی منڈی ہے  اور روس کی معیشت کے لیے گیس آکسیجن کی حیثیت رکھتی ہے۔امریکہ روس کو اب بھی اپنا حریف سمجھتا ہے اور دونوں طاقتیں ایک دوسرے کو زک پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔امریکہ یورپ کا گیس کے لیے روس پر انحصار ختم کر کے مشرق وسطی کی توانائی یورپ منتقل کرنا چاھتا ہے۔اس مقصد کے لیے ایک گیس پائپ لائن کا منصوبہ ہے  جو قطر سے گیس یورپ منتقل کرے۔اس منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اسد حکومت ہے جسے ہٹانے کے لیے یہ بھیانک کھیل کھیلا جا رہا ہے۔روس کے انتہائی اقدامات اسد حکومت سے کسی خاص رومانس کا نتیجہ نہیں بلکہ پیوٹن نے امریکہ کے ہاتھوں اپنی شہ رگ بچانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا رکھی ہے۔

ترکی بھی اس کھیل کا اک اہم کھلاڑی ہے جسکا حقیقی سر درد کرد باغی ہیں جو شام،عراق اور ترکی کے سرحدی علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ترکی کا کردار اس جنگ میں ابتدائی طور پر اسد مخالف رہا لیکن روس آخر کار اردوان کو اپنے کیمپ میں لانے میں کامياب ہو چکا ہے۔اس جنگ کے شعلوں نے لاکھوں انسانوں کی جان لی ہے۔القائدہ داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ ساتھ ان باعزت ممالک نے اکیسویں صدی میں بربریت کی نئی مثال قائم کی ہے۔اب یہی لیڈر اور حکومتیں تہران میں سر جوڑ کر بیٹھنے جا رہی ہیں اور شامی روحیں اجنبی ممالک میں بھٹک رہی ہیں۔اب اس محاذ کو بند ہونا چاہیے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *