آج کی اس جدت پسندی میں تعلقات محبت اور رشتے اپنی گہرائی سے بہت دور جاچکے ہیں تیز ترین رابطوں نے جہاں زندگیاں اور کام آسان کیے ہیں وہیں جذبات کو بھی تیز کیا ہے اور بے قدر بھی ۔ نوجوان نسل اکثر ایسے تجربات سے گزرتی ہے جن میں درد بھی ہوتا ہے ۔سیکھ بھی اور خودی کی بیداری بھی
یہ حقیقت ہے کہ موجودہ معاشرہ ٹوٹے ہوئے دلوں؍ نامکمل کہانیوں اور بکھرے جذبات سے بھر ہوا ہے لیکن اس اندھیری فضا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی تکلیف کو روشنی میں بدل کر دوسروں کے لیے امید کا چراغ بنتے ہیں ۔
انسان کی سب سے بڑی ترقی تب ہوتی ہے جب اس کا دل ٹوٹتا ہے یہ بات نئی نہیں ہے یہ وہ حقیقت ہے جسے علامہ محمد اقبالؒ نے اسرارِ خودی میں بارہا بیان کیا ہے کہ درد روح کی بیداری کا دروازہ ہے اور شکست حقیقت میں ایک نئے سفر کا آغاز ہوتی ہے ۔محبت انسان کو کمزور نہیں بناتی بلکہ اسے اس مقام تک لے جاتی ہے جہاں وہ اپنے آپ کو پہچان سکے
مگر افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ آج کے دور میں محبت ایک طاقت کے بجائے کمزوری بن جاتی ہے جو نہ عزت دے سکتی ہے نہ قدر اور نہ ہی مستقبل ۔
بات تو سچ ہے مگر
بات ہے رسوائی کی
اکثر نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ کسی کے چلے جانے سے دنیا ختم ہوجاتی ہے ۔۔۔آج معاشرے میں بے شمار لوگ ایسے ہیں جن کے تعلقات جذباتی الجھنوں حد سے زیادہ expectations اور immature رویوں پر کھڑے ہوتے ہیں اکثر اوقات لڑکے attraction کو محبت سمجھ بیٹھتے ہیں اور لڑکیاں loyalty کو اپنا سب کچھ سمجھ بیٹھتی ہیں دونوں ایک دوسرے سے وہ امیدیں رکھتے ہیں جو شاید ان میں بھی موجود نہیں ہوتی اسی مقام پر پھر دل ٹوٹتے ہیں ذہن بکھر تے ہیں اور اعتماد زخمی ہوتا ہے لیکن بعض اوقات یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں انسان خود سے سوال پوچھتا ہے
میں کون ہوں؟ میری قیمت کیا ہے ؟میں کیا چاہتی یا چاہتا ہوں؟
اور پھر یہی سوال انسان کو خودی کے سفر تک لے جاتا ہے ایسے تجربات سے گزرنے کے بعد انسان دوسروں کے دکھ کو بہتر طریقے سے سمجھ سکتا ہے وہ اپنے ارد گرد کے لوگوں کو صرف مشورہ نہیں دیتا بلکہ ان کی رہنمائی کرتا ہے ان کے زخموں کی نوعیت پہچانتا ہے اور انھیں سکھاتا ہے کہ۔
* جو شخص آپ کی قدر نہیں کرتا وہ آپ کا نصیب نہیں ہوتا
* سچی محبت consistency چاہتی ہے games نہیں
* وقت اور احساسات صدقہ ہوتے ہیں ان کا غلط جگہ استمعال نقصان دیتا ہے
* خود کو کھوئے بغیر محبت کرنا ہی اصل محبت ہے ۔
* اور سب سے بڑھ کر ۔۔۔خاموشی اور صبر کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہوتے ۔۔۔وقار ہوتے ہیں ۔
* جس طرح اقبال کہتے ہیں کہ
زخم اگر عشق کا ہو تو انسان کو نئی آنکھ عطا کرتا ہے
اقبال کے نزدیک اصل عشق پختہ ہوتا ہے
یہ عشق انسان کو اندر سے مضبوط کرتا ہے خودی کو بلند کرتا ہے ﷲ کے قریب کرتا ہے انسان کو مخلوق کا نگہبان اور خیر کا سفیر بنا دیتا ہے
اقبالؒ کہتے ہیں
عشق کامل ہے تو بے حد ہے نہ حد میں سماتا ہے
عشق نامِ ذندگی ہے نہ زندگی سے جدا ہو
اسرارِ خودی
محبت ہمارے دل میں اس وقت اترتی ہے جب ہم خود اس کے لیے تیار نہیں ہوتے وہ ایک نظر ایک مسکراہٹ ایک خیال اور پھر یہ خیال آہستہ آہستہ جڑ پکڑ لیتا ہے کچھ محبتیں خوش نصیبی بن کر ذندگی میں شامل ہو جاتی ہیں لیکن کبھی کبھی یہ ضروری نہیں ہوتا ہر محبت ہوری بھی ہو اور یہ بھی ضروری نہیں ہر مکمل محبت نصیب بن جائے بعض محبتیں دل میں رہ کر انسان کو بہتر بنا دیتی ہیں اور بعض انسان کو اندر سے توڑ کر دوبارہ بنانے کا عمل شروع کردیتی ہیں
ٹوٹنے کے بعد سنبھل جانا کمزوری نہیں طاقت ہوتی ہے ۔۔۔یہی طاقت انسان کو اس مقام پر کے جاتی ہے جہاں نہ کوئی اسے توڑ سکتا ہے اور نہ ہی کوئی اسے گرا سکتا ہے ۔

محبت زندگی کا حصہ ضرور ہے لیکن زندگی نہیں اور عزت ؍ خود داری اور خودی یہ وہ ستون ہیں جن پر انسان اپنی دنیا دوبارہ کھڑی کر سکتا ہے ۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں