قلم ٹوٹ گیا!!

درد ہے کہ سینے کو پھاڑے چلا جا رہا ہے، ہر لمحہ ایک گرز کی مانند دل و دماغ پر پڑتا ہے اور میں دوڑ کر جا کر اپنے وجود کی کرچیاں اٹھا لاتا ہوں اور اگلا لمحہ مجھے پھر بکھیر دیتا ہے۔ ہر لمحے میں اپنے جذبات اور احساسات کو جمع کر رہا ہوں۔ اور شدت ہے کہ بڑھتی چلتی جا رہی ہے۔ دن کی روشنی میں رات کا اندھیرا دیکھنے والی آنکھوں کے آنسو جم چکے ہیں۔ الفاظ ہیں کہ جمع نہیں ہو پا رہے، شائد کسی کی انگلیوں کے ساتھ میرا قلم بھی ٹوٹ گیا ہے۔ میں لکھنا چاہتا ہوں، لکھ کر مٹا دیتا ہوں۔ یقین مانو، تم نہیں سمجھو گے، ایسے کرب میں ہوں کہ زبان پر لاؤں تو تم خون کے آنسو رو دو۔ اور اگر نہ لاؤ تو گھٹن سے مر جاؤں، سمجھ نہیں آتا زہر کا یہ پیالہ پیوں تو کیسے؟ میری سوچ پر تالے اور ماتھے پر شکنیں پڑ چکی ہیں۔ سمجھ نہیں آتی کس کو دل دکھاؤں؟ کس کے ہاں فریاد کروں؟
تم نے بھی تو اسکی ماں کے ہاتھ دیکھے ہونگے جب اس نے آگے بڑھ کر انہیں چومنا چاہا ہوگا؟ اور ایک کرنٹ کی لہر نے اسکی ماں کے جسم کا پور پور ہلا دیا ہوگا۔ بھلا بتاؤ تو، وہ کچھ بولی ہوگی؟ اس نے بین کیا ہوگا بھلا؟ وہ روئی ہوگی؟ اسکے آنسو اسکے حلق میں نہ اٹک گئے ہونگے۔ اور خود بتاؤ، اب کبھی رات کو جب وہ اسکا نام لیتے اٹھتی ہوگی اور اسکے ہاتھ میں وہی ٹوٹا ہاتھ ہوتا ہوگا تو وہ کس سے لپٹ کر روتی ہوگی؟ وہ روتی بھی ہوگی یا صرف فضاؤں میں گھورتی ہوگی؟ ایک لاش ہوگی، شائد، یا اس سے بھی بدتر؟ نجانے کیا، کب، کہاں اور کس حال میں ہوگی، جو بھی ہو، تھی تو ماں ہی نہ۔ بلکل ویسی ہی جیسی تمہارے گھر میں بھی ہوگی۔
ایسے کتنے مشعال، میرے اور آپکے جوش کی نظر ہوگئے اور لاعلم کتنے ہوجائینگے۔ اسلئے میں بولتا نہیں، اپنے الفاظ کو اپنے سینے میں چھپا لیتا ہوں، کیونکہ اب قلم میں ہمت نہیں، وہ واقعی ہی ٹوٹ چکا ہے۔ ہاں بس اتنا ضرور ہے، میرے دل میں شکایت ہے، جس دن صور پھونکا گیا اور میں اور تم آمنے سامنے ہوئے، میں اس تمہارے چہرے کا رنگ ضرور دیکھونگا جب مشعال خان سے سوال ہوگا بائ ذنب قتلت؟

محمد حسنین اشرف
محمد حسنین اشرف
ایک طالب علم کا تعارف کیا ہوسکتا ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *