ایک ظل سبحانی کا ایک نوعمر لیکن بگڑا ہوا صاحبزادہ کروڑوں کی(جعلی نمبر پلیٹ والی) گاڑی لے کر نکلتا ہے، سنیپ چیٹ سے لطف اندوز ہوتا ہوا اندھا دھند گاڑی بھگاتاہے اور دو غریب بچیوں کو کچل دیتا ہے۔موصوف کا نہ تو شناختی کارڈ ہے کیونکہ وہ کم عمر ہے اور ظاہر ہے کہ ڈرائیونگ لائسنس بھی نہیں ہے۔لیکن چونکہ وہ اس ملک کی ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھتا ہے اس لیے اسے کسی کارڈ یا لائسنس کی ضرورت نہیں ہے۔ اتنی مہنگی اور قیمتی گاڑیوں کو روک کر چیک کرنے کی جرا ت کون کرے؟ وہ تو غریب عوام ہے جس کا منھ بھی سونگھاجاتا ہے اور 1990ء ماڈل کی پھٹ پھٹ کرتی موٹرسائیکل کے اشارے بھی چیک کیے جاتے ہیں۔ بہرحال وہ رئیس زادہ بالکل بھی خوفزدہ نہیں کیونکہ اسے یقین ہے کہ اس کے والد صاحب اسے بچا لیں گے۔ اسے اپنے والد صاحب کی طاقت اور اختیارات پر پورا بھروسہ ہے۔ قانون تو ان کے گھر کی باندی ہے۔ وہ تو خود قانون ہیں۔ ان کے منھ سے نکلتا ہواہر لفظ قانون ہے۔وہ منصفی کرتے ہیں، قاتلوں کو پھانسی لگاتے ہیں اورعدل وانصاف کے محافظ ہیں۔ آفرین ہے کہ والد صاحب نے اپنے جگر گوشے کو مایوس نہیں کیا۔ ان کی کوتوالی طاقت اور اثر رو سوخ کام آیا۔ وہ عدالتیں جہاں داداجی کے کیس کافیصلہ پوتے سنتے ہیں، جہاں انصاف کی تلاش میں عمریں گزر جاتی ہیں، جن کی راہداریوں میں لوگوں کے بال سفیدہوجاتے ہیں، وہ عدالتیں فوراً حرکت میں آئیں اور غالباً پہلی ہی پیشی میں بتایا گیا کہ مقتولین کے ورثاء نے قاتل کو معاف کردیا ہے اور یوں قاتل کو گھر بھیج دیا گیا۔ہمیشہ کی طرح طاقت جیت گئی۔ویسے اچھا کیا جوبچیوں کے ورثاء نے قاتل کو معاف کردیا۔ بھلا اس ملک میں انھیں انصاف کہاں ملنا تھا؟ کس عدالت کی جرات ہے کہ ایلیٹ کلاس کے لونڈے کو جو ان کے پیٹی بھائی کا صاحبزادہ بھی اسے سزاسنائے؟اس کیس کی پیروی کرتے کرتے ورثا ء نے رل جانا تھا۔ وہ پہلے ہی غریب ہیں۔ وکیلوں کی فیسوں اور عدالتوں کے اخراجات میں ان کے گردے تک بک جانے تھے لیکن انھیں انصاف نہیں ملنا تھا۔ بہت اچھا کیا جو انھوں نے معاف کردیا۔اور جہاں تک بات ان بچیوں کی ہے تو کوئی بات نہیں۔ غریبوں کے بچے بھی کوئی بچے ہوتے ہیں! ان کی جان بھی کوئی قیمتی ہوتی ہے!
ہمارے ملک میں اہل اختیارواقتدار نے جو اندھیر نگری مچارکھی ہے، اس پرپورا معاشرہ انگشت بدنداں ہے۔ امیروں کے بگڑے بچے غریبوں کے بچوں کا شکارکرتے پھررہے ہیں۔ بہت سارے واقعات رونما ہوچکے ہیں اور ابھی یہ سلسلہ تھما نہیں۔ پھر جب یہ نوابزادے پکڑے جاتے ہیں تو وی وی آئی پی سلوک پاتے ہیں۔ حکومت اور حکومتی ادارے ان کے بچاؤ کے لیے فوراً حرکت میں آجاتے ہیں۔اور نہایت مختصر وقت میں دھونس، زبردستی اور دباؤ کے ذریعے مقتولین کے ورثا کو چند لاکھ روپے دے کریہ بری ہوجاتے ہیں۔جیسے وطن عزیز میں مارخور کے شکار کے لیے لائسنس جاری ہوتا ہے، حکومت کو چاہے کہ ان امیروں کو بھی غریبوں کے بچوں کا شکار کرنے کے لیے لائسنس جاری کرے تاکہ لائسنس کی فیس سے حکومت اپنے بجٹ خسارے کو پورا کرسکے۔ غریب عوام کو بھی چاہیے کہ وہ عقل کا مظاہرہ کیاکریں۔ ساری غطی ان کی ہوتی ہے وہ کیوں سٹرکوں پر سفر کرتے ہیں؟ ان کو چاہیے کہ وہ ہوا میں اڑاکریں یا پانی میں تیرا کریں۔ سٹرکیں تو رئیس زادوں کے لیے ہیں۔ بلاوجہ ان کی قیمتی گاڑیوں کے نیچے آکر ان کا موڈ نہ آف کیا کریں۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں