گلگت بلتستان کے پرسکون پہاڑوں پر ایک بار پھر خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ دیامر کے گھنے جنگلوں میں دہشتگرد گروہ منظر عام پر آیا ہے۔ ایک ویڈیو پیغام میں، مقامی شینا زبان میں بات کرتے ہوئے، جدید اسلحوں سے لیس ایک جنگجو نے اپنے عزائم کا اعلان کچھ یوں کیا۔ ترجمہ میں تانگیر کا رہائشی ہوں۔ ہمارا مقصد علاقے میں اسلامی قوانین کا نفاذ ہے۔ موجودہ حکومت اور فوج دونوں مبینہ طور پر امریکہ کے مفادات کے لیے کام کر رہے ہیں۔ میں تانگیر کی ماؤں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے بیٹوں کو فوج کی ملازمتوں سے واپس بلائیں، کیونکہ ہم جہاد کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ یہ معاملہ صرف تانگیر تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ پورے گلگت بلتستان میں پھیلے گا، اور ہم جلد ہی پیش قدمی کریں گے۔ تعجب کی بات یہ ہے اس نام نہاد کمانڈر کی تائید کرتے ہوئے دیامر کے ایک اور مولوی نے بھی سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغام جاری کردیا جس میں وہ کہتے ہیں اگر گلگت بلتستان میں زینبیون کو نہ روکا گیا تو ہم ان مجاہدین کی بھرپور حمایت اور تعاون کریں گے، دراصل یہ اموی بیانیہ ہے جو عراق اور شام سے شروع ہوکر گلگت بلتستان تک پہنچا ہے، جنہیں دنیائے انسانیت میں مزاحمت کی استعارہ زینب بنت علی سلام اللہ علیہا نے دربار شام میں یزید کے سامنے جو خطبہ دی تھی، آج بھی بنو امیہ کے درباروں اور ان کے درباری مولوی کی صفوں میں لرزہ طاری نظر آتا ہے ۔ حالانکہ گلگت بلتستان میں نہ ایسی کوئی بات ہے نہ کوئی ثبوت۔ البتہ ان دہشتگردوں کی گردوں کی شدت پسندی کے شواہد ویڈیوز کی شکل میں سوشل میڈیا پر بھری پڑی ہے۔ دیکھا جائے تو یہ محض ایک فرد کا بیان نہیں ہے، بلکہ ایک سوچ اور سوچی سمجھی تحریک کا حصہ ہے جو ریاست پاکستان کو چیلنج کر رہی ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس گروپ کی کفالت اور تربیت کون رہا رہا ہے جن لوگوں کو گلگت بلتستان کے قومی پرستوں کے بیانات میں راء نظر آتا ہے انکی نگاہیں ان شدت پسند عناصر سے اوجھل کیوں ہے؟۔ نیشل ایکشن پلان کہاں غائب ہے ۔ دیکھا جائے تو ان شدت پسند گروہ کا فکر تکفیری نظریات سے ہم آہنگ ہے، جنھوں نے ماضی سے لیکر آج تک میں پورے پاکستان میں تباہی مچائی ہوئی ہے۔ ایسی صورتحال میں علاقے کے معصوم لوگوں کے امن اور حفاظت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ ان عناصر نےضلع دیامر داریل تانگیر میں ہمیشہ سے ریاستی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے اسکول جلانا ، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا اور سیکیورٹی فورسیز کے افسران کی پر حملوں جیسے کاروائیاں کرتے رہے ہیں ، اسی طرح بابو سر، لولوسر پر مسافر گاڑیوں کو روک کر یرغمال بنا جیسی کاروائیاں بھی ریکارڈ کا حصہ ہے ۔ ضلع دیامر میں موجود ان شرپسند عناصر کے حوالے گلگت بلتستان اسمبلی کے سابق اسپیکر، مرحوم ملک مسکین، جو خود تانگیر سے تعلق رکھتے تھے، نے ایک انٹرویو میں عجیب انکشاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ دیامر تانگیر کے جنگلوں میں موجود عسکریت پسندوں کو ریاست نے خود پروان چڑھایا تھا۔ ان عسکریت پسندوں کو مبینہ طور پر کشمیر اور افغانستان میں جہاد کے لیے تربیت دی گئی تھی، لیکن بیانیہ اور حالات بدلنے کے ساتھ ہی، یہ گروہ اب دردِ سر بن چکے ہیں اور وہی جنگلات آج گلگت بلتستان کے امن کے لیے خطرہ بن گئے ہیں جو ک ایک المیہ اور ریاستی اداروں کیلئے بڑا چیلنج ہے۔ ان واقعات کا ذکر کرتے ہوئے امیر اہلسنت والجماعت گلگت بلتستان کوہستان قاضی نثار احمد کا ذکر کئے بغیر کہانی مکمل نہیں ہوتے کیونکہ انکا ہمیشہ سے دعویٰ ہے کہ کوہستان سے لیکر گلگت بلتستان تک کے وہ مذہبی قائد یا رہبر ہیں ، سوال یہ ہے کہ آج تک دیامر کی سرزمین سے اسلام کے نام پر جتنی بھی دہشتگردی کے واقعات ہوئے ہیں جنکا تعلق اس مکتب فکر سے ریے ہیں جن کے بارے میں خود قاضی نثار احمد صاحب کا دعویٰ ہے ۔ یہاں ایک اور سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا قاضی نثار احمد اپنے علم اور تبلیغ سے ان شدت پسند عناصر کو راہ راست پر لانے میں ناکام ہوئے یا انہوں نے توجہ ہی نہیں دی یا انکو صرف اہل تشیع کے خلاف ہرزہ سرائی سے فرصت نہیں ملی۔ بدقسمتی سے انہوں نے حال ہی میں کچھ اس طرح کی تقاریر کی جس سے گلگت بلتستان کے اہل تشیع کمیونٹی میں شدید تشویش اور اضطراب پایا جاتا ہے ، لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مذہبی رہنما زمہ داری اور بردباری کا مظاہرہ کریں اسلام کا حقیقی پیغام منبروں سے بیان کریں تاکہ اس طرح کے شدت پسند عناصر کو تقویت نہ ملے ، بصورت دیگر دیامر داریل تانگیر کے جنگلات نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے خطرہ بن سکتا ہے کیونکہ یہاں دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر جاری ہے، جہاں ہزاروں چینی اور دیگر ممالک کے ماہرین اور مزدور دن رات کام کر رہے ہیں۔ شاہراہ قراقرم پر روزانہ ہزاروں مسافروں اور سیکیورٹی فورسز کی گاڑیوں کی آمد و رفت رہتی ہے۔ یوں ان جنگلوں میں تربیت یافتہ دہشت گرد موجودگی نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پورے ملک کے لیے ایک خطرہ ہے۔ ان اہم تنصیبات اور راستوں کی حفاظت کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم پاکستان کا ایک بڑا ترقیاتی منصوبہ ہے، اور اس کی حفاظت کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ شاہراہ قراقرم پاکستان اور چین کے درمیان ایک اہم رابطہ سڑک ہے، اور اس کی حفاظت بھی اسی قدر اہم ہے۔ ان علاقوں میں دہشت گردوں کی موجودگی سے نہ صرف معاشی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، بلکہ خطے لاکھوں عوام مسلسل اضطراب خوف کے عالم میں اس راستے کا سفر کر رہے ہوتے کہ نہ جانے کب کلاشنکوف بردار نام نہاد مجاہدین اور کمانڈر انکا راستہ روکے اور گولیوں سے چھلنی کریں، کیونکہ اس پوری پٹی پر اس طرح کے واقعات کی لمبی فہرست ہے ۔ لہذا فورس کمانڈر گلگت بلتستان کو اس سنگیں معاملے پر فوری نوٹس لیتے ہوئے شاہراہ قرام کو مکمل طور کو گلگت بلتستان اسکاؤٹس کے حوالے کرکے اس شاہراہ پر موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کو یقینی بنانے اور کیمرے لگاتے کی ضرورت ہے ۔
اس کے علاوہ ضلع دیامر کے باشندوں کو بھی ان دہشت گردوں کے خلاف متحد ہو کر آواز بلند کرنا اور اپنے علاقے کو بدنامی سے بچانے کیلئے ان عناصر کو مسترد کرنا ہوگا جو پورے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں امن کی بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ اور دیامر کے جنگلوں میں موجود تربیتی کیمپوں اور ان کی مالی معاونت کرنے والوں کا خاتمہ کرنے کیلئے عوامی سطح پر مہم چلانے کی ضرورت ہے ۔کیونکہ ان کیمپوں کی وجہ سے علاقے میں دہشت گردی پروان چڑھ رہی ہے، اور ان کا مکمل خاتمہ امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کیمپوں کو تلاش کرنا اور انہیں تباہ کرنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ، جو لوگ ان کی پشت پناہی کرتے ہیں، انہیں بھی قانون کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔اس کے علاؤہ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جانی چاہیے۔ ایسے عناصر معاشرے میں زہر گھولنے کا کام کرتے ہیں، معمولی نوعیت کے جھگڑوں کو بھی فرقہ واریت سے جوڑنا عوام کے مفاد میں نہیں جیسے ہم نے دیکھا گزشتہ دنوں قراقرم یونیورسٹی میں معمولی نوعیت کا واقعہ پیش آیا تو قاضی نثار احمد جنگی لباس پہن کر اسلحہ سے لیس ہوکر جارہانہ تقریر کرکے عوام کو ورغلاتے رہے ، لیکن اس واقعے جو لوگ ملوث تھے انہوں نے اس واقعے کو آپس کی افہام وتفہیم کے ساتھ ختم کرکے فرقہ واریت کا معاملہ نہ ہونے کا وڈیو پیغام جاری کردیا جو کہ ایک عالم دین کی شایان شان نہیں تھا ، تمام مسالک کے علمائے کرام اور سول سوسائٹی کو ان شدت پسند عناصر کے خلاف ملکر مقابلہ کرنا ہوگا ، کیونکہ امن ترقی ضامن ہے ،اگر آج ہم نے ٹھوس اقدامات نہ کیے تو گلگت بلتستان کا امن تباہ ہو جائے گا۔ دیامر کے غیور لوگو، تانگیر کے بہادر جوانو، گلگت بلتستان کے سمجھدار بزرگو! یہ آپ کے گھر کی جنگ ہے۔ اگر اب نہ جاگے تو بہت دیر ہو جائے گی۔ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے، ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا۔
یہ آگ گلگت بلتستان کے امن کو جلا کر خاکستر کر دے گی، اگر ہم سب نے مل کر اسے نہ بجھایا۔ لہٰذا، متحد ہو کر اس خطرے کا مقابلہ کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے اور اپنے علاقے کو امن کا گہوارہ بنانا چاہیے۔ اگر ہم سب مل کر کوشش کریں تو کوئی بھی ہمیں شکست نہیں دے سکتا۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں