حالانکہ مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات موسمِ گرما میں ہوں گے، مگر ریاست کا سیاسی درجہ حرارت دسمبر کی سردی میں ہی بڑھنے لگا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس بار دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں مذہبی جذبات کو بھڑکا کر رائے دہندگان کو پولرائز کرنے کی پوری تیاری کر چکی ہیں۔ ریاست میں فرقہ وارانہ سیاست کی تازہ مثال ٹی ایم سی کے رکنِ اسمبلی ہمایوں کبیر کا قومی سیاسی منظرنامے پر اچانک ابھر آنا ہے۔ مین اسٹریم میڈیا مغربی بنگال کے ضلع مرشدآباد میں بابری مسجد کی سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب کی بھرپور کوریج کر رہا ہے۔ اس تقریب کے سربراہ منتظم ۶۲ سالہ ہمایوں کبیر ہیں، جنہوں نے مغربی بنگال اسلامک فاؤنڈیشن آف انڈیا کے بینر تلے اس پروگرام کا انعقاد کیا۔ ابتدا ہی سے انہوں نے اعلان کر رکھا تھا کہ وہ ۶ دسمبر کو مرشدآباد کے بیلڈنگا علاقے میں بابری مسجد کی سنگِ بنیاد رکھیں گے، اور اسی اعلان کے بعد سخت ردِعمل سامنے آنے لگا۔ ہندوتوا قوتوں نے ہمایوں کبیر کے بہانے ٹی ایم سی اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر سیاسی حملے تیز کر دیے۔ ٹی ایم سی کو جب احساس ہوا کہ بھرت پور سے منتخب ان کا رکنِ اسمبلی پارٹی کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے تو اسے معطل کر کے معاملہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی گئی، مگر معطلی کے باوجود ہمایوں کبیر اپنے منصوبے سے پیچھے نہ ہٹے اور طے شدہ تاریخ پر ہی سنگِ بنیاد کی تقریب انجام دی۔ میڈیا فوٹیج میں دکھایا گیا کہ اس تقریب میں سیکڑوں افراد شریک تھے، جن میں بعض لوگ اپنے سروں پر اینٹ اُٹھائے نظر آئے، جبکہ مقامِ تقریب کے قریب سیمنٹ اور اینٹوں کے ڈھیر بھی دکھائے گئے—گویا تعمیر جلد شروع ہونے والی ہے۔ اسٹیج پر موجود اکثر افراد روایتی مذہبی لباس میں تھے، جس کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ اس اقدام کو دینی قیادت کی حمایت حاصل ہے، مگر تقاریر میں دین کے بجائے زیادہ تر بات سیاست پر ہی کی گئی۔ اپنی تقریر میں ہمایوں کبیر نے وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مرشدآباد میں بابری مسجد کی تعمیر مسلمانوں کے لیے وقار کی لڑائی ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ریاست میں مسلمانوں کی آبادی ۳۷ فی صد ہے اور وہ ۲۲ دسمبر کو اپنی نئی پارٹی کا اعلان کریں گے، جو ۱۳۵ نشستوں پر انتخابات لڑے گی۔ اسٹیج سے مذہبی نعرے بھی سنائی دیے، اور رپورٹنگ کے انداز نے ایسا تاثر دیا گویا انتخابات سے قبل بنگال کی مسلمان برادری مذہبی طور پر متحد ہو رہی ہو، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت نے اس تقریب سے فاصلے ہی کو ترجیح دی۔
بنگال کی سیاست میں ہمایوں کبیر کا کیریئر دو دہائیوں سے زیادہ پر محیط ہے، اور وہ بخوبی جانتے ہیں کہ بابری مسجد کی شہادت کو سیکولر حلقے اور اقلیتی طبقہ آج تک مکمل طور پر فراموش نہیں کر سکے۔ رام مندر۔بابری مسجد مقدمے کے سپریم کورٹ فیصلے پر بھی کئی سوالات اٹھے تھے، مثلاً جب یہ بات تاریخی طور پر ثابت ہی نہیں ہوئی کہ کسی رام مندر کو منہدم کر کے بابری مسجد تعمیر کی گئی تھی تو پھر رام مندر کی تعمیر کے حق میں فیصلہ کیسے دیا جا سکتا ہے، اور مسجد منہدم کرنے والوں اور اس نام پر تشدد بھڑکانے والوں کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ یہ تمام سوالات ایسے ہیں جن پر مورخین کبھی نہ کبھی ضرور اپنی رائے دیں گے۔ مگر الیکشن قریب آتے ہی ہمایوں کبیر نے اچانک اس موضوع کو دوبارہ اچھال دیا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بنگال کی سیاست میں خود کو مرکز میں لانے کے لیے ہمایوں کبیر نے بابری مسجد کی شہادت کے ۳۳ سال بعد اچانک اس کی تعمیر کا اعلان کر کے سیاسی ہلچل پیدا کر دی، اور قومی میڈیا کی بھرپور توجہ نے ان کے منصوبے کو مزید تقویت دی۔ تاہم خوف اس بات کا زیادہ ہے کہ اس پورے عمل میں سب سے زیادہ نقصان ریاست کی سیکولر سیاست اور اقلیتوں کو پہنچ سکتا ہے، اور اس کا فائدہ بڑی حد تک بی جے پی اور دیگر دائیں بازو کی جماعتوں کو مل سکتا ہے۔ سوال ہمایوں کبیر کی منشا پر بھی اٹھ رہا ہے کیونکہ ہمایوں کبیر ۲۰۱۹ پارلیمانی انتخابات کے دوران بی جے پی کے حمایت یافتہ امیدوار تھے۔ جس شخص کو آج بابری مسجد کی اتنی فکر ہے وہ کیسے بی جے پی کا دامن تھام سکتا ہے، جبکہ اس کے سرکردہ رہنماؤں کے نام بابری مسجد کی شہادت کے کیس میں شامل ہیں؟ جو شخص آج اقلیتوں کے مفاد کی بات کر رہا ہے، کیا وہ اس بات سے نابلد تھا کہ ۱۹۸۴ کے پارلیمانی انتخابات میں محض ۲ نشستیں جیتنے والی بی جے پی نے رام مندر اور بابری مسجد تنازعہ کو ہوا دے کر ہی چند برسوں میں خود کو اقتدار کے قریب پہنچایا تھا؟ ان تمام سوالات پر ہمایوں کبیر خاموش ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ان کی مسلم دوستی کو خود اقلیتی حلقوں میں سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔ ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ چونکہ وہ اپنے سیاسی سفر میں کانگریس، سماج وادی پارٹی، ٹی ایم سی اور بی جے پی جیسی مختلف پارٹیوں میں بار بار شامل اور خارج ہوتے رہے ہیں، اس لیے یہ روش ظاہر کرتی ہے کہ سیاست ان کے لیے اصول سے زیادہ ذاتی مفادات کا ذریعہ رہی ہے۔
حالانکہ ہمایوں کبیر کے ابھار سے سب سے زیادہ خوش ہندوتوا قوتیں نظر آ رہی ہیں، جو اس تنازعے کو اٹھا کر اکثریتی جماعت کو گمراہ کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔ غور طلب ہے کہ بنگال میں بی جے پی کافی تیزی سے پھیلی ہے۔ بنگال میں بی جے پی کی غیر مقبولیت کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اسے ہندوستانی سیاست و ثقافت میں قائم شدہ شمالی بھارت کی بالادستی کے نمائندے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ بعض لوگوں کو خدشہ ہے کہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد بنگال کی لسانی اور ثقافتی شناخت کو نقصان پہنچے گا۔ ریاست میں مسلمان روایتی طور پر سیکولر جماعتوں کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، اسی لیے بی جے پی بنگالی مسلمانوں سے کبھی زیادہ امید نہیں رکھتی۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی مسلسل ہندو بنام مسلمان تنازعے کو اپنی سیاست کا بنیادی موضوع بناتی رہی ہے اور اس کی کوشش یہ رہی ہے کہ وہ برسرِ اقتدار ٹی ایم سی کو مسلمانوں کی حامی پارٹی کے طور پر پیش کرے، تاکہ اکثریتی ہندو ووٹ حاصل کرنے کا راستہ آسان ہو جائے۔ بی جے پی کی پروپیگنڈا مشینری کا یہ عالم ہے کہ وہ ممتا بنرجی پر ذاتی حملوں سے بھی گریز نہیں کرتی۔ ایسے ماحول میں ہمایوں کبیر کی جانب سے مرشدآباد میں بابری مسجد کی تعمیر کا اعلان بی جے پی کے مسلم مخالف بیانیے میں بخوبی فِٹ بیٹھتا ہے۔ آج کے فرقہ وارانہ ماحول میں اقلیتوں کی قیادت کی بڑی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ جذباتی مسائل کے بجائے عوام کے بنیادی مسائل کو ترجیح دیں۔ یہ حقیقت ہے کہ بنگال کے مسلمانوں کے ساتھ سابقہ حکومتوں نے انصاف نہیں کیا، لیکن اس کا حل بھارت جیسے سیکولر اور تکثیری سماج میں مذہبی گروہ بندی نہیں، بلکہ دیگر محروم طبقات کے ساتھ اتحاد قائم کر کے جمہوری اور آئینی راستے پر اپنے حقوق کی جدوجہد کرنا ہے۔ مذہبی معاملات عوام کا ذاتی دائرہ ہیں اور سیاسی قیادت کو چاہیے کہ ممکن حد تک انہیں سیاست سے دور رکھے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں