اردو کا بے لوث خادم : ڈاکٹر ابھے کمار/تحریر-ڈاکٹر محبوب حسن

اردو ہندوستان کی سرزمین میں پیدا ہوئی اور یہیں پلی بڑھی۔ وطن عزیز کی مشترکہ روایات اور گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دینے میں اس زبان نے بنیادی کردار ادا کیا۔ اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت میں مختلف مذاہب کے ادیبوں اور صحافیوں نے اپنی بیش بہا خدمات انجام دی ہیں۔ اردو زبان کو پروان چڑھانے والے غیر مسلم قلم کاروں کی غیر معمولی کاوشیں ناقابلِ فراموش ہیں۔ اردو زبان و ادب کی تاریخ کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہر دور میں غیر مسلم تخلیق کاروں نے اس زبان سے اپنی والہانہ محبت کا ثبوت پیش کیا ہے۔ شاعری اور فکشن کے ساتھ ساتھ اردو صحافت کے میدان میں بھی غیر مسلم قلم کاروں نے بیش بہا کارنامے انجام دیے ہیں۔ منشی پریم چند، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، اپندر ناتھ اشک، جوگیندر پال، سریندر پرکاش اور رتن سنگھ جیسے نامور تخلیق کاروں نے اردو فکشن کی روایت کو استحکام عطا کیا۔ اردو شاعری کی دنیا میں پنڈت دیا شنکر نسیمؔ، پنڈت برج نرائن چکبستؔ، جگن ناتھ آزادؔ، فراقؔ گورکھپوری اور آنند موہن جتشی گلزار دہلوی وغیرہ کے نام نہایت عزت و احترام سے لیے جاتے ہیں۔ اردو تنقید، تحقیق اور صحافت کے میدان میں دیا نرائن نگم، منشی نول کشور، مالک رام، مولوی مہیش پرساد، گوپی چند نارنگ، چندر بھان خیال اور اجے مالویہ جیسے ادیبوں نے قابلِ ذکر کردار ادا کیا ہے۔ عصرِ حاضر میں بھی اردو زبان و ادب کے فروغ میں غیر مسلم ادیب اور صحافی پیش پیش ہیں۔

موجودہ دور میں اردو کے نوجوان صحافیوں میں ڈاکٹر ابھے کمار کا نام محتاجِ تعارف نہیں۔ ڈاکٹر ابھے کمار اردو زبان کے ایک بے لوث خادم ہیں۔ انہیں بچپن سے ہی اردو زبان سے خاص شغف رہا ہے۔ رکسول شہر کے قریب واقع اسلام پور بستی کی ایک مسجد کے امام صاحب کی سرپرستی میں اردو زبان سیکھنے کا سلسلہ شروع ہوا، جو وقت کے ساتھ ساتھ پروان چڑھتا گیا۔ موصوف گزشتہ دو دہائیوں سے اردو صحافت کی دنیا میں سرگرم اور فعال ہیں۔ ڈاکٹر ابھے کمار کے صحافتی مضامین اور کالم اردو کے مختلف قومی اخبارات میں تواتر کے ساتھ شائع ہوتے رہے ہیں۔ ذاتی تعصب اور جانب داری سے قطع نظر ان کے مضامین حقائق پر مبنی ہوتے ہیں۔ ان کی تحریریں ترسیل کے ہر ممکنہ مسائل سے آزاد ہوتی ہیں۔ زبان و بیان اور اسلوب صاف ستھرا اور رواں ہوتا ہے۔ ان میں گہری سنجیدگی، جامعیت اور معروضیت کا احساس ابھرتا ہے۔

ڈاکٹر ابھے کمار کی پیدائش بہار کے مشرقی چمپارن کے شہر رکسول میں 12/دسمبر/1982 کو ہوئی۔ ان کے والد کا نام اُماکانت مشرا اور والدہ کا نام چمپا دیوی ہے۔ ان کے والد گاؤں کے ایک چھوٹے سے کاشت کار ہیں۔ ڈاکٹر ابھے کمار نے اپنی ابتدائی تعلیم گاؤں کے ایک چھوٹے سے اسکول سے حاصل کی۔ ہائی اسکول اور انٹرمیڈیٹ کی تعلیم کے لیے انہیں رکسول جانا پڑا، کیوں کہ گاؤں میں کوئی ہائی اسکول موجود نہیں تھا۔ انہوں نے ہزاری مَل ہائی اسکول، رکسول سے میٹرک اور راجا رام شاہ کالج سے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم مکمل کی۔ گھر کے خراب مالی حالات کے باعث ڈاکٹر ابھے کمار کو کوئلے کی دکان میں کام کرنا پڑا۔ ان کے اندر بچپن سے ہی تعلیم کے تئیں گہرا شوق تھا۔ انھیں جب بھی کوئلے کی دکان پر وقت ملتا، اخبارات اور میگزین پڑھا کرتے تھے۔ اس دوران ان کا زیادہ تر وقت اردو اخبارات کے مطالعے میں ہی گزرتا تھا۔ پٹنہ سے شائع ہونے والے اخبار “قومی تنظیم” وہ باقاعدگی سے پڑھا کرتے تھے۔ کچھ ہی عرصے بعد وہ قومی تنظیم کے لیے مضامین بھی بھیجنے لگے۔ جب مضامین کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا تو اردو زبان کے تئیں ان کی دلچسپی و محبت مزید بڑھتی گئ۔ رفتہ رفتہ انہوں نے اچھی اردو لکھنے کی صلاحیت پیدا کر لی۔ ڈاکٹر ابھے کمار کی ذہنی پرورش اور اردو دوستی میں مولانا نصراللہ نے اہم کردار ادا کیا۔ وہ مرادآباد کے ایک معروف مدرسے سے فارغ التحصیل تھے اور اردو و عربی کے بڑے عالم تھے۔ روزگار نہ ملنے کے باعث رکسول میں پوسٹ آفس روڈ پر ایک چکن شاپ چلاتے تھے۔ ابھے کمار روزانہ ان کے پاس جاتے اور ان سے بہت کچھ سیکھا کرتے تھے۔

اردو کے تئیں شوق و ذوق کا یہ سلسلہ یوں ہی برقرار رہا اور جلد ہی وہ قومی تنظیم کے لیے مقامی خبریں بھیجنے لگے۔ آخرکار کوئلے کی دکان چھوڑ کر وہ باضابطہ اخبار کے نمائندے کے طور پر کام کرنے لگے۔ ان کی رپورٹنگ کی خاص بات یہ تھی کہ وہ ہمیشہ مظلموم اور محکوم طبقوں پر اپنی خاص توجہ مرکوز کرتے تھے۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد پی ٹی آئی کے بزرگ صحافی اجے تیواری نے انہیں مشورہ دیا کہ صحافت کے میدان میں کامیابی کے لیے باقاعدہ تعلیم حاصل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان سیکھنے کا بھی مشورہ دیا۔ بزرگ صحافی اجے تیواری کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے ڈاکٹر ابھے کمار نے انگریزی آنرز کرنے کا فیصلہ کیا۔ رکسول سے انٹر پاس کرنے کے بعد موصوف نے آخر کار پٹنہ کا رخ کیا، جہاں رہائش کا کوئی معقول انتظام نہ تھا۔ ایسی قابلِ رحم صورتِ حال میں وہ قومی تنظیم کے دفتر پہنچے۔ مدیر اشرف فرید اور اجمل فرید سے اپنی مجبوریاں بیان کیں۔ ڈاکٹر ابھے کمار کے حالات سے واقف ہونے کے بعد اشرف فرید نے انھیں قومی تنظیم کے دفتر میں رہنے کی اجازت دے دی۔ اس طرح قومی تنظیم کے دفتر میں قیام کرتے ہوئے ابھے کمار نے اے این کالج، پٹنہ سے گریجویشن کی ڈگری (انگریزی آنرز) فرسٹ کلاس سے حاصل کی۔

ڈاکٹر ابھے کمار کو اردو صحافت کی دنیا سے خاص دلچسپی رہی ہے۔ اردو کے ساتھ ساتھ ہندی اور انگریزی میں بھی ان کی صحافتی تحریریں شائع ہوتی ہیں۔ صحافت کی باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے موصوف نے دہلی کے مشہور صحافتی ادارے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن(IIMC) میں داخلہ لیا۔ یہاں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انگریزی کے مشہور اخبار انڈین ایکسپریس سے وابستہ ہوئے۔ دورانِ ملازمت انہوں نے اقلیت، دلت اور دوسرے پسماندہ طبقات کے حقوق کی بازیافت کے لیے مضامین اور کالم لکھے۔ اپنی تحریروں کے ذریعہ ملک کے سنجیدہ اور نازک مسائل پر بے باکی کے ساتھ آواز بلند کی۔ ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار ہونے کے ساتھ ساتھ، ڈاکٹر کمار نے اپنی تحریروں کے ذریعے پسماندہ طبقات کے مسائل کو بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ ان کا پختہ یقین ہے کہ مظلوموں کا اتحاد ہی فرقہ وارانہ طاقتوں کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ اردو اخبارات کے قارئین کا ایک بڑا حلقہ ابھے کمار کے کالمس اور مضامین کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے۔

ڈاکٹر ابھے کمار ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے نظریات سے کافی متاثر ہیں۔ موصوف کی تحریروں پر ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اور دوسرے سیکولر و سوشلسٹ مفکرین کے اثرات واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ انہوں نے امبیڈکر، گاندھی، لوبیا اور مولانا آزاد جیسے دانشوروں اور مفکروں کی تحریروں کا براہ راست مطالعہ کیا ہے۔ ہندوستان کی سیاسی تاریخ پر بھی ان کی گہری نظر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مضامین کا فکری دائرہ کافی وسیع ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ابھے کمار اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار سے بھی واقف ہیں۔ وہ قومی اور بین الاقوامی منظر نامے پر رونما ہونے والی سیاسی مسائل پر بھی پورے اعتماد کے ساتھ اظہار خیال کرتے ہیں۔ موصوف ملک میں ہونے والی سماجی و سیاسی ناانصافی، فرقہ وارانہ تشدد، زوال پذیر جمہوری اقدار، طبقاتی کشمکش، اقتصادی نابرابری اور خستہ حال تعلیمی نظام جیسے عصری مسائل پر نہایت بے باکانہ و استدلالی انداز میں لکھتے ہیں۔ ہر طرح کے خوف و خطر اور مصلحت پسندی کے برعکس ان کا قلم ہمیشہ ظلم و استحصال کے خلاف چلتا ہے۔ ان کے مضامین اور کالم میں فکری بصیرت، عصری آگہی اور سیاسی شعور کا گہرا عکس نظر آتا ہے۔

انڈین ایکسپریس سے وابستگی کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم کی جانب بھی دلچسپی بنی رہی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے سیاسیات میں ماسٹر کرنے کے بعد ملک کے مایہ ناز ادارے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں داخلہ لیا، اور یہاں سے بین الاقوامی سیاست میں دوسرا ایم اے کرنے کے بعد سینٹر فار ہسٹوریکل اسٹڈیز سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں۔ ان کے ڈاکٹریٹ کا موضوع “مسلم پرسنل لا: تعریف، ماخذ اور مباحث” ہے، اور ان کا تحقیقی مقالہ جلد ہی کتابی صورت میں منظرِ عام پر آنے والا ہے۔ڈاکٹر ابھے کمار جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں سیاسی طور پر بھی نہایت فعال اور متحرک رہے۔ انہوں نے سال 2012 میں اسٹوڈنٹ یونین کے انتخاب میں بھی حصہ لیا۔ دورانِ سیاست انہوں نے قومی سطح کے مسائل کے ساتھ ساتھ کیمپس کے طلبا و طالبات کے حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کی۔

ڈاکٹر ابھے کمار کی صحافتی اور علمی خدمات کم و بیش دو دہائیوں پر محیط ہیں۔ عملی تجربات کے ساتھ ساتھ وہ وہ جدید صحافتی نظریات و مباحث سے بخوبی آشنا ہیں۔ ان موضوعات پر وہ مختلف اداروں میں لیکچر بھی دیتے ہیں۔ یو ٹیوب اور دوسرے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر ان بہت سے سارے لیکچر موجود ہیں۔ڈاکٹر ابھے کمار پرنٹ اور الیکٹرانک دونوں مڈیا میں سرگرم اور فعال ہیں۔ موصوف اردو، ہندی، انگریزی کے قومی رسائل اور اخبارات میں علمی و صحافتی مضامین تسلسل کے ساتھ لکھتے رہے ہیں۔ انقلاب، راشٹریہ سہارا، وائر اردو، سیاست، انڈیا ٹوڈے، جن میڈیا، کاونٹر کرنٹس، فارورڈ پریس، دی بک ریویو، مین اسٹریم ویکلی جیسے معتبر اخبارات و رسائل میں ان کی تحریریں پابندی سے شائع ہوتی رہی ہیں۔ ان کی صحافتی خدمات کے عوض انہیں “مولوی محمد باقر ایوارڈ” اور “تہذیبی ایورا ایوارڈ” جیسے اہم اعزازات سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

ڈاکٹر ابھے کمار صحافت کے ساتھ ساتھ درس و تدریس سے بھی وابستہ ہیں۔ ان کی تقرری مگدھ یونیورسٹی، بودھ گیا میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر ہوئی ہے۔ اس سے قبل وہ ملک کے کئی اہم اداروں میں عارضی طور پر اپنی تدریسی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ابھے کمار کا اصل میدان سیاسیات ہے، لیکن وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر اردو بھی پڑھاتے رہے ہیں، جو ان کی اردو دوستی کی عمدہ مثال ہے۔ڈاکٹر ابھے کمار بطور اُستاد نہایت سنجیدہ اور ذمہ دار شخص ہیں۔ ان میں ہر لمحہ کچھ نیا سیکھتے رہنے کی تڑپ رہتی ہے۔ لہٰذا بنیادی حوالوں سے براہِ راست استفادہ کرنے کی غرض سے انہوں نے کسی حد تک عربی، فارسی اور بنگلہ بھی سیکھ لی ہے۔ راقم الحروف ڈاکٹر ابھے کمار کو کم و بیش پندرہ برسوں سے جانتا ہے۔ میں نے انھیں ہمیشہ کتابوں اور رسائل میں مصروف دیکھا ہے۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی کے برہم پترا ہاسٹل میں انھیں قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔ میں انھیں ملک کی گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ کلچر کا سچا امین و پاسدار مانتا ہوں۔ وہ صبر و قناعت، حق پرستی اور باہمی رواداری کی سراپا تصویر ہیں۔ ڈاکٹر ابھے کمار سے ملنے والا ہر شخص ان کا مرید ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی تعریف پسند نہیں کرتے۔ وصی احمد الحریری نے اپنے مضمون بعنوان ‘‘جدید اردو صحافت کا ایک بے لوث خادم: ڈاکٹر ابھے کمار’’ میں لکھا ہے:

‘‘ڈاکٹر ابھے کمار جیسے نوجوان اور قابل اسکالر سے مل کر لکھنے پڑھنے اور زندگی میں کچھ کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔ وہ خود میں ایک انجمن ، ایک تحریک، ایک انسائیکلوپڈیا اور چلتی پھرتی لائبریری ہیں۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ وہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی کی دانشورانہ روایت کے امین اور ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے پاسبان ہیں۔ سماج میں ایسے صاف دل ، نیک، ملنسار، متحرک اور فعال شخصیت کا وجود کسی نعمت سے کم نہیں۔ دعا ہے کہ وہ یوں ہی پوری دیوانگی کے ساتھ ظلم و تشدد کے خلاف علم بغاوت کرتے رہیں اور سماجی انصاف کی جنگ علمی و عملی دونوں سطحوں پر یوں ہی بے خوف ہوکر لڑتے رہیں۔ ’’ (روزنامہ سہارا، پٹنہ، 26/جون، 2021، صفحہ/7)

ڈاکٹر وصی احمد الحریری نے ابھے کمار کی شخصیت پر نہایت دیانتداری کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔ خاص طور پر ان کی حق گوئی اور بے باکی کا ایک زمانہ معترف رہا ہے۔ اپنے مخصوص مزاج کے سبب موصوف نے بہت سارے نقصانات بھی اٹھائے ہیں، لیکن قلم کے وقار کا کبھی سودا نہیں کیا۔ دراصل ڈاکٹر ابھے کمار کا قلم ہمیشہ ظالمانہ طاقتوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتا رہا ہے۔ وہ غریبوں اور مظلوموں کے زبردست حمایتی ہیں۔ ڈاکٹر ابھے کمار کی تحریروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں ملک کی جمہوری قدروں سے والہانہ محبت ہے۔ ان اقدار و روایات کے تحفظ کے لیے وہ ہر آن فکرمند نظر آتے ہیں۔ مجھے کامل یقین ہے کہ ڈاکٹر ابھے کمار ملک کی جمہوری اقدار اور اردو زبان کی بقا و تحفظ کے لیے کوشاں رہیں گے۔

julia rana solicitors

Dr Mahboob Hasan
Assistant Prof.
Urdu Department, DDU, Gorakhpur University, Gorakhpur, UP

Facebook Comments

ابھے کمار
ابھے کمار جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں شعبہ تاریخ کے ریسرچ اسکالر ہیں۔ ان کی دلچسپی ہندوستانی مسلمان اور سماجی انصاف میں ہے۔ آپ کی دیگر تحریرabhaykumar.org پر پڑھ سکتے ہیں۔ ان کو آپ اپنے خط اور اپنی رائے debatingissues@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply