• صفحہ اول
  • /
  • گوشہ ہند
  • /
  • سلطنت عثمانیہ کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوششیں اور ان کا توڑ ۔ڈاکٹر احید حسن/آخری حصہ

سلطنت عثمانیہ کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوششیں اور ان کا توڑ ۔ڈاکٹر احید حسن/آخری حصہ

SHOPPING

اس تحریر  کا حوالہ کہتا ہے کہ سلطنت عثمانیہ میں وحی کی کتابیں پبلش کرنے کی اجازت نہیں تھی اور کیوں تھی 1585ء کا حوالہ اس کی مزید تفصیل بتا رہا ہے اور یہ دونوں حوالے یہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ پابندی صرف یہودیوں پہ تھی کہ وہ مسلمانوں کی مذہبی کتابیں پرنٹ نہیں کر سکتے اور وہ اس لیے کہ پرنٹنگ کے دوران وہ ان میں تبدیلی نہ کر سکیں۔دونوں حوالوں میں کہیں پہ یہ بات مذکور نہیں ہے کہ یہ پابندی تمام علوم اور سائنسی کتابوں کے پرنٹ کرنے پہ تھی لیکن الزام لگانے والوں نے اس کہانی کو اس طرح بنا دیا کہ سلطنت عثمانیہ میں ہر طرح کی کتابوں کی پرنٹنگ  پہ  پابندی  تھی  اور  یہی  وجہ تھی کہ سلطنت عثمانیہ سائنسی طور پہ زوال کا شکار ہوگئی۔

یہ بات جھوٹ اور بہتان ہے جس کی حمایت پابندی کے حوالے سے قدیم ترین یہ دو حوالے بھی نہیں کر رہے۔ یہ بات صاف ظاہر کر رہی ہے کہ یہ پابندی صرف یہودیوں پہ تھی کہ وہ عربی اور ترکی کتابیں پرنٹ نہیں کر سکتے کیونکہ اس سے ان کی طرف سے مذہبی کتابوں میں ملاوٹ کا اندیشہ تھا لیکن پرنٹنگ پہ سلطنت عثمانیہ میں عمومی پابندی نہیں تھی لیکن تاریخ بولنے والوں نے یہ الزام لگا دیا کہ سلطنت عثمانیہ میں یہودی کیا مسلمان بھی کوئی کتاب پرنٹ نہیں کر سکتے تھے اور اس کی سزا موت تھی اور یہی بات جان پال گوبریل نے کی ہے۔

1493ء میں ہی استنبول میں ایک یہودی پرنٹنگ پریس کام کر رہا تھا۔جب کہ 1567ء میں آرمینیائی باشندوں نے ایک اور پرنٹنگ پریس قائم کیا۔1587ء میں سلطان مراد سوم نے یورپ میں پرنٹ شدہ عربی،فارسی اور ترکی کتابوں کی سلطنت عثمانیہ کی حدود میں خرید و فروخت کی اجازت کا حکم نامہ جاری کیا۔اگر سلطنت عثمانیہ اور مولوی طبقے کی طرف سے پرنٹنگ پریس کی مخالفت کی بات درست ہے تو پھر عربی کتابیں اور وہ بھی یورپ میں پرنٹ شدہ کتابوں کی سلطنت عثمانیہ میں خرید و فروخت کی خلیفہ کی طرف سے اجازت کیوں دی گئی۔یہ بات ظاہر کر رہی ہے کہ سلطنت عثمانیہ اور اس کے مولوی طبقے کی طرف سے پرنٹنگ پریس پہ پابندی کی بات تاریخی جھوٹ،بہتان،دغا بازی اور تاریخی منافقت ہے اور کچھ نہیں۔

سلطنت عثمانیہ میں پرنٹنگ پریس ترقی کیوں نہ کر سکا،اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ سلطنت عثمانیہ کی طرف سے پرنٹنگ پریس پہ پابندی تھی بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ ترک پرنٹ شدہ کتابوں کی نسبت ہاتھ سے لکھی گئی کتابیں پسند کرتے تھے جو خطاطی اور سونے کی ایک تار کے ساتھ والی جلد کا اعلی شاہکار ہوتی تھیں۔خود نیویارک میں پرنٹنگ پریس باقاعدہ طور پہ ترکی سے 36 سال پہلے شروع ہوا۔وہاں کون سے مولوی اور سلطنت عثمانیہ تھی جس نے پابندی لگا رکھی تھی۔

اور جب 1727ء میں ابراہیم آغا نے پیرس سے واپسی کے بعد وہاں کے چھاپہ خانوں سے متاثر ہوکر خلافت عثمانیہ کے وزیر سے باقاعدہ پرنٹنگ پریس شروع کرنے اور اس کے فوائد بیان کیے تو سلطنت عثمانیہ کے شیخ الاسلام عبداللہ رومی افندی نے فتوی دیا کہ کوئی بھی ایسا شخص جو پرنٹنگ کے کام میں ماہر ہو اور منطق،فلسفہ، فلکیات اور اس طرح کی دیگر کتابوں کی پرنٹ شدہ نقلیں تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو یہ بات بہت مفید ہے اور اسلام اس کی اجازت دیتا ہے لیکن اس کے لیے لازمی ہے کہ کتاب کے پرنٹ ہونے سے پہلے اور بعد ماہر لوگ کتاب کی صحت کی تصدیق کریں۔اس کے بعد ترکی کے وزیر اعظم کے مشورے پہ عثمانی خلیفہ سلطان احمد سوم نے کتابوں کے پرنٹ کرنے کی اجازت کا سرکاری حکم نامہ جاری کیا۔اس پرنٹنگ پریس کی پرنٹ شدہ کتابیں آج بھی استنبول کی پبلک یونیورسٹی کی پبلک لائبریری میں موجود ہیں۔

یورپی کہتے ہیں کہ اس پرنٹنگ پریس کی اجازت کے بعد خطاطی کرنے والے لوگ اپنے قلم لے کر کفن پہن کر نکلے اور اس کے خلاف احتجاج کیا۔لہذا مذہبی کتابوں کی اشاعت ان کے حوالے کر دی گئی۔بارون ڈی ٹوٹ جو اس وقت استنبول میں تھا دعوی کرتا ہے کہ عدم دلچسپی کی وجہ سے یہ پرنٹنگ پریس بند کر دیا گیا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف مختصر عرصے کے لیے ترکی روس جنگوں کی وجہ سے بند کیا گیا تھا اور اس کی ستر فیصد پرنٹ شدہ کتابوں کی خرید و فروخت ابراہیم  آغا کی زندگی میں ہوئی۔لہذا عدم دلچسپی کی بات بے بنیاد ہے۔بعد میں جب اس کی وفات کے بعد فرانسیسیوں نے اس پرنٹنگ پریس کو خریدنا چاہا تو اسے غیر ملکیوں کے ہاتھوں میں جانے سے بچانے کے لیے راشد اور واصف افندی نے اسے خرید لیا اور جب 1798ء میں یہ بند ہوا تو ملک میں تین نئے پرنٹنگ پریس قائم کیے گئے۔

سلطان محمود دوم کے عہد میں پرنٹنگ پریس نے مذہبی کتابیں شائع کرنا بھی شروع کر دیں۔ اگرچہ سلطنت عثمانیہ میں بہت سے پرنٹنگ پریس قائم ہوچکے تھے لیکن ابراہیم  آغا کا پرنٹنگ پریس اسلامی دنیا کا پہلا پرنٹنگ پریس تھا جو اسلامی دنیا میں سرکاری سرپرستی میں قائم ہوا۔یہ اعزاز بھی سلطنت عثمانیہ کو حاصل ہے کہ اس نے سرکاری سرپرستی میں اسلامی دنیا کا پہلا پرنٹنگ پریس قائم کیا۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس پرنٹنگ پریس کو مذہبی کتابیں پرنٹ کرنے کی اجازت نہیں تھی۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ فتوے میں اس بات پہ زور دیا گیا تھا کہ پرنٹ شدہ کتابیں مستند اور غلطیوں سے پاک ہونی چاہیے۔نصابی کتابوں کو ترجیح دی گئی جب کہ پابندی کسی چیز پہ نہیں تھی لیکن الزام لگانے والوں نے بغیر سند و تحقیق کے یہ کہ دیا کہ باقی کتابوں کی اشاعت کے باوجود مذہبی کتابوں کی پرنٹنگ پہ پابندی تھی۔

سلطنت عثمانیہ میں پرنٹنگ پریس بہت پہلے سے موجود تھا لیکن اس زمانے کی کتابوں جیسا کہ وسیلۃ الطبع س ے صاف ظاہر ہے کہ سلطنت عثمانیہ کے وزیروں کی طرف سے اس کی ضرورت محسوس کیے جانے کے باوجود اس کے تاخیر سے شروع ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس کام کے ماہر افراد کی کمی تھی اور اس کام کو محنت طلب کام سمجھا جاتا تھا اور حکومت کو اس کام کے قابل افراد نہیں ملے جو یہ کام کر سکتے ہو اور جب ابراہیم آغا نے اس کا باقاعدہ آغاز کیا تو یہ مشکل بھی دور ہوگئی  اور سلطنت عثمانیہ میں باقاعدہ طور پہ پرنٹنگ پریس کا کام شروع ہو گیا۔ کئی  مغربی مستشرقین اور لبرل سیکولر طبقے کے مطابق اسلامی دنیا میں پرنٹنگ پریس کے تاخیر سے شروع ہونے پہ بہت اعتراض کرتے ہیں لیکن وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اسلامی دنیا میں خطاطی اور کتابوں کی ہاتھ سے طباعت کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک موجود تھا جس سے ہزاروں خاندان وابستہ تھے۔

لہذا پرنٹنگ پریس کی ایجاد کے بعد یہ سب کچھ ایک رات میں نہ بدل جاتا۔اس پہ کچھ عرصہ لگا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سائنسی کتابوں کو صرف ترکی زبان میں پرنٹ کرنے کی اجازت تھی لیکن اس بات کی کوئی دلیل نہیں ان کے پاس۔جو سلطنت عثمانیہ دو سو سال پہلے 1567-1587ء کے درمیان یورپ سے درآمد شدہ عربی ترکی فارسی کتابوں کی اپنی سلطنت میں خرید و فروخت کی اجازت دے چکی تھی وہ اپنے ملک میں عربی زبان میں پرنٹنگ سے کیوں روکتی۔یہ وہ تضاد ہے جو اعتراض کرنے والوں کے دلائل میں پایا جاتا ہے۔ خود کئی  مورخین کے مطابق اس دور کے مذہبی طبقے کا پرنٹنگ پریس کے خلاف ہونا واضح یا ثابت نہیں اور ان کے نزدیک سولہویں،سترہویں اور اٹھارہویں صدی عیسوی کے سلطنت عثمانیہ کے مولوی حضرات پرنٹنگ پریس کے خلاف نہیں تھے۔

یہ وہی مولوی سائنس کی کتابیں پرنٹ کرنے کا فتوی دے رہے ہیں جن کے بارے میں مستشرقین اور لبرل سیکولر طبقہ الزام لگاتا ہے کہ انہوں نے ترکی میں سلطنت عثمانیہ کی طرف سے پرنٹنگ پریس پہ پابندی لگوادی تھی۔یہ ہے اس جھوٹ کی اصل حقیقت جس میں کہا جاتا ہے کہ سلطنت عثمانیہ میں پرنٹنگ پریس کو گناہ اور کفر کا کام سمجھا جاتا تھا اور اس کی وجہ سے مسلمان سائنس میں یورپ سے صدیوں پیچھے ہوگئے۔ برصغیر کے مسلم اور غیر مسلم حضرات نے بھی کافی تاخیر سے پرنٹنگ پریس اختیار کیا اور باقاعدہ پرنٹنگ انیسویں صدی میں شروع ہوئی۔سلطنت عثمانیہ پہ الزام لگانے والے بتا سکتے ہیں کہ مسلم تو دور کی بات یہاں تک کہ غیر مسلم برصغیر اور باقی پورے ایشیا اور افریقہ میں پرنٹنگ اتنی تاخیر سے کیوں شروع ہوئی جب کہ یہاں تو کسی مولوی طبقے نے اس کی مخالفت نہیں کی اور نہ ہی کسی مسلم حکومت نے اس کے خلاف کوئی حکم دیا۔ پورے مشرق اور اسلامی دنیا میں پرنٹنگ پریس کی تاخیر سے مقبولیت کی وجہ مورخین یہ بیان کرتے ہیں کہ عمومی طور پر ان ممالک میں ادبی و سائنسی ترقی کا فقدان تھا لہذا کتابوں کی کم مانگ کی وجہ سے پرنٹنگ پریس کی ضرورت بھی کم تھی۔

دوسری وجہ ان اسلامی اور مشرقی ممالک کا معاشی زوال تھا جس نے جدید سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی اور ایجادات میں پیشرفت سست کر دی اور مشرق عمومی طور پر اور اسلامی دنیا کے خصوصی طور پہ سائنسی زوال کی یہ وجوہات  آج بھی جاری ہیں۔اگرچہ ۔اسلامی دنیا میں ایک بار پھر شرح خواندگی بڑھ رہی ہے اور ساتھ ہی اسلامی دنیا نے قابل اور نامور سائنسدان پیدا کرنا شروع کر دیے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے مسلمانوں میں ان کے ماضی کے بارے میں جھوٹ اور مایوس کن تبصرے پھیلانے کی بجائے امت کے ذہین افراد کی قدر کی جائے اور سائنس اور ٹیکنالوجی کی سرپرستی کرتے ہوئے اس کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے تاکہ اسلامی دنیا ایک بار پھر اپنا وہ سائنسی عروج حاصل کر سکے جس میں یہ یورپ اور باقی ساری دنیا کی استاد تھی۔

حوالہ جات:

SHOPPING

Angus Maddison: Growth and Interaction in the World Economy: The Roots of Modernity, Washington 2005, p.65 History of Science-Printing, accessed 2009/05/04 https://en.m.wikipedia.org/wiki/Global_spread_of_the_printing_press http://www.roger-pearse.com/weblog/2009/03/07/printing-banned-by-islam/ https://www.google.com/amp/s/www.dailysabah.com/feature/2015/06/08/myths-and-reality-about-the-printing-press-in-the-ottoman-empire/amp William J. Watson, “İbrāhīm Müteferriḳa and Turkish Incunabula”, Journal of the American Oriental Society 88 (3): 435–441 (1968) Miroslav Krek, “The Enigma of the First Arabic Book Printed from Movable Type”, Journal of Near Eastern Studies 38 (3): 203–212 (1979) Richard Clogg, “An Attempt to Revive Turkish Printing in Istanbul in 1779”, International Journal of Middle East Studies 10 (1): 67–70 (1979) http://exhibits.library.yale.edu/exhibits/show/arabicprinting/printing_history_arabic_world http://icraa.org/ottomans-and-the-printing-press-answering-misconceptions/ Hidayat Y. Nuhoglu, ‘Müteferrika’s Printing Press: Some Observations’, in: Kemal Çiçek (ed.), The Great Ottoman-Turkish Civilisation. Volume 3 (Ankara, 2000) pp. 85-88

SHOPPING

گوشہ ہند
گوشہ ہند
ہند کے اردو دان دوست آپ کیلیے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *