• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ریجنٹ پلازہ سے ایس آئی یو ٹی(SIUT)، کراچی کی معاشی تصویر کا عکاس/شیر علی انجم

ریجنٹ پلازہ سے ایس آئی یو ٹی(SIUT)، کراچی کی معاشی تصویر کا عکاس/شیر علی انجم

کراچی کے قلب میں واقع شاہراہ فیصل پر ریجنٹ پلازہ ہوٹل کسی دور میں شہر کی پہچان ہوا کرتا تھا۔ یہ فائیو اسٹار ہوٹل 80 اور 90 کی دہائی میں کراچی کی زندگی کی علامت تھا۔ یہاں خوشیاں بکھری ہوئی تھیں، بین الاقوامی کانفرنسیں منعقد کی جاتی تھیں، شادیوں کے پروگرامز ہوا کرتے تھے اور اس کا پُرتعیش طرز زندگی کراچی کی معاشی ترقی کا نشان تھا۔ اب یہ عمارت سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن یعنی ایس آئی یُو ٹی کا حصہ بن چکی ہے۔ کبھی یہاں 400 کمرے تھے، سوئمنگ پول تھا، بڑے بڑے ہال تھے، لیکن اب یہ سب مریضوں کے وارڈ، آپریشن تھیٹرز اور ڈائیلاسز سینٹرز میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ جہاں کبھی محفلیں غزل کی شام منعقد ہو اکرتی تھی، اب وہاں گردے کے مریض ڈائیلاسز مشینوں کے ساتھ زندگی کی جنگ لڑ رہے ہونگے۔ یہ محض ایک عمارت کی تبدیلی نہیں ہے، بلکہ یہ پورے شہر کی ایک کہانی ہے۔ یہ تبدیلی کراچی کی معیشت، معاشرت اور سماجی اقدار میں آنے والی تبدیلیوں کی عکاسی کرتی ہے۔ ڈاکٹر ادیب الزمان رضوی صاحب نے 2003 میں اس ہوٹل کو خریدنے کا فیصلہ کیوں کیا؟ ان کا کہنا تھا کہ، ہم نے صرف 8 بستروں سے کام شروع کیا تھا، لیکن آج ہمارے پاس ایک 400 کمروں کا فائیو اسٹار ہوٹل ہے، جہاں روزاںہ ہزاروں مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر رضوی کا یہ اقدام قابل تحسین ہے اور انسانیت کے لیے ایک تاریخی مثال ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ ایک طرف سرکاری ہسپتالوں میں بستر، دوائیاں اور ڈاکٹر دستیاب نہیں ہوتے، تو دوسری جانب ایس آئی یُو ٹی جیسے ادارے گردے، جگر کے ٹرانسپلانٹ اور یورولوجی کے مشکل آپریشنز بالکل مفت کر رہے ہیں۔ اس نیک کام میں بڑے بڑے فلاحی ادارے، ملٹی نیشنل کمپنیاں اور بینک مالکان مدد کرتے ہیں۔ یہ پاکستان کے لیے ایک سبق ہے کہ کس طرح خیراتی کاموں کو بھی شفاف اور مستقل بنیادوں پر کیا جا سکتا ہے۔ ایس آئی یُو ٹی کی جانب سے مفت علاج کی فراہمی ایک روشن مثال ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ اگر نیت صاف ہو تو کس طرح بڑے پیمانے پر لوگوں کی خدمت کی جا سکتی ہے۔
مگر اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے کہ کیا ایک فائیو اسٹار ہوٹل کا ہسپتال بن جانا صرف ترقی کی علامت ہے؟ کیا یہ تبدیلی ہمیشہ مثبت ہوتی ہے؟ شاید نہیں۔ یہ کراچی کی معاشی بدحالی کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔ شہر میں نئے فائیو اسٹار ہوٹل نہ بننا، سیاحت کا کم ہونا، کاروبار میں کمی آنا اور پرائیویٹ سیکٹر کا سرمایہ کاری سے دور بھاگنا، یہ سب اس بات کی نشانیاں ہیں کہ شہر کی معیشت میں کچھ گڑبڑ ہے۔ ریجنٹ پلازہ کے علاوہ شیرٹن، پرل کانٹی نینٹل اور آواری  جیسے ہوٹلوں کی بھی اب وہ شان و شوکت نہیں رہی۔ یہاں تک کہ موتی ہوٹل تو اب مکمل طور پر بند پڑا ہے۔ یہ تبدیلی ظاہر کرتی ہے کہ کراچی کی معیشت یا تو اپنی جگہ پر رُک گئی ہے، یا پھر نیچے جا رہی ہے۔ کبھی 90 کی دہائی میں کراچی پاکستان کے ٹیکس کا 70 فیصد حصہ دیتا تھا، لیکن آج یہ شرح 50 فیصد سے بھی کم ہو گئی ہے۔ اسٹاک ایکسچینج، بینکوں کے ہیڈ آفس، بڑی کمپنیوں کے دفاتر، بندرگاہ اور صنعتیں سب کچھ یہاں موجود ہے، لیکن شہر کا حصہ مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے۔ سیاسی عدم استحکام، بدامنی، بھتہ خوری، پانی کی کمی، ٹریفک کا نظام، سیوریج، بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کے مسائل اور امن و امان کی خراب صورتحال نے سرمایہ کاروں کو ڈرا دیا ہے۔ کراچی کے تاجروں نے اب لاہور، اسلام آباد اور دبئی کو زیادہ توجہ دینا شروع کر دی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شہر میں نئے ہوٹل، شاپنگ مالز، تفریحی مقامات اور سیاحت کے بڑے منصوبے پچھلے 20 سال میں نہیں بن سکے۔ اب سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ کراچی کی معیشت کا مستقبل کیا ہے؟ اگر حالات ایسے ہی رہے، تو کراچی کے باقی فائیو اسٹار ہوٹل بھی ایک ایک کر کے یا تو بند ہو جائیں گے یا پھر ہسپتال، پرائیوٹ کمرشل کالج یا سرکاری دفاتر میں تبدیل ہو جائیں گے۔ اس طرح یہ شہر اپنی تجارتی، ثقافتی اور تفریحی پہچان کھو دے گا۔ شہر کی رونق ماند پڑ جائے گی اور اس کی جگہ مایوسی اور ویرانی لے لے گی۔
اس تمام صورتحال کے باوجود بھی امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اگر کراچی کو صحیح معنوں میں بااختیار بنایا جائے، امن و امان کی فضا بحال ہو، بلدیاتی نظام مضبوط ہو، پانی، بجلی اور ٹرانسپورٹ اور بجلی کے مسائل حل ہوں، تو یہ شہر دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکتا ہے۔ شہر کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے اجتماعی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ نئے ہوٹل بن سکتے ہیں، سیاحت واپس آ سکتی ہے اور سرمایہ کار دوبارہ یہاں آ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر ادیب رضوی صاحب کا کام قابل تعریف ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ایک ہسپتال کے لیے فائیو اسٹار ہوٹل کو قربان کرنا کوئی خوشی کی بات نہیں ہے۔ یہ شہر کا درد ہے، اس کی مجبوری ہے، اور اس کی معاشی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ تبدیلی ہمیں اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ شہر کو کن مسائل کا سامنا ہے۔کراچی کو صرف ہسپتالوں کی نہیں، نئے ہوٹلوں کی بھی ضرورت ہے۔ ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ، اسے نئی عمارتوں، نئی سرمایہ کاری اور نئی اُمیدوں کی بھی ضرورت ہے۔ شہر کو ایک جامع ترقی کی ضرورت ہے جس میں معاشی، سماجی اور ثقافتی ترقی شامل ہو۔تب جا کر ہم کہہ سکیں گے کہ ہم صحیح معنوں میں ترقی کر رہے ہیں۔ نہیں تو ریجنٹ پلازہ سے ایس آئی یُو ٹی تک کا یہ سفر، ایک عظیم انسان کی کامیابی تو ضرور کہلائے گا، مگر یہ ایک عظیم شہر کی زبوں حالی کی ایک داستان بھی بن جائے گا۔ یہ ایک ایسی کہانی ہوگی جو آنے والی نسلوں کو یاد رہے گی اور ان کو یہ سبق دے گی کہ شہروں کو کس طرح برباد کیا جاتا ہے۔

Facebook Comments

شیر علی انجم
مصنف بینکاری کے شعبے سے وابستہ ہیں اور معیشت و بین الاقوامی امور اور مسلہ کشمیر، گلگت بلتستان کے مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply