روایتی سیاست،روایتی حکومت۔۔عبدل ولی

ملکی حالات رفتہ رفتہ سنگین سے سنگین تر ہوتے جارہے ہیں۔ مہنگائی کا جن بے قابو ہوکر غریبوں کی زندگیاں نگل رہا ہے۔ عوام کی بنیادی ضروریات جیساکہ آٹا، چینی اور تیل کسی پر بھی حکومت کو کوئی  قابو نہیں اور ساتھ ہی ساتھ عوام کی دسترس سے بھی یہ اشیاء باہر ہورہی ہیں۔ بے روزگاری کی  شرح  میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ غریب, غریب تر ہوتا جا رہا۔ عجیب بات تو یہ ہے کہ ایک گندم اور گنے میں خودکفیل ملک کی عوام کو گندم امپورٹ کرکے آٹا انتہائی مہنگے داموں خریدنا پڑرہا ہے۔ جبکہ ملک میں چینی کے نرخ بھی آسماں کو چھونے کو ہے۔ یہی حالت تقریباً دوسری اشیاء خورد و نوش کی بھی ہے۔ مینگائی کے ساتھ بے روزگاری بھی غربت میں خطرناک حد تک اضافہ کا باعث بن رہی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے سچ ہے کہ غربت جرم کی وجہ عظیم ہے۔ چنانچہ موجودہ حکومت کو اس طرف فوراً سے بھی پہلے توجہ دینی چاہیے۔

ورثہ میں ملی تباہ حال معیشت, غیر تسلی بخش حکومتی کارکردگی اور اوپر سے کورونا کے عذاب نے رہی سہی قصر پوری کردی۔ ملک میں لاکھوں اساتذہ پچھلے چار تا پانچ مہینوں سے تنخواہوں کے منتظر ہیں ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے پرائیوٹ  سکول اخراجات کی کمی کے باعث بند ہوچکے ہیں۔ اور ہزاروں بند ہونے کے کگار پر ہیں۔ لیکن پُرسان حال کوئی نہیں۔ کراچی میں بجلی کے نام پر مکمل من مانی بالکل بدمعاشی ہو رہی ہے۔ باوجود 8 سے 12 گھنٹے لوڈشیڈنگ کے ایک یا دو گنا نہیں بلکہ دس دس گنا تک اوور بِلنگ ہورہی ہے۔ جس گھر کا کبھی ماہانہ بل دو سے تین ہزار ہی آیا کرتا تھا اب اسی گھر کا بل 30,30 ہزار تک آرہا ہے۔(اب ایک فرد جس کی تنخواہ ہی 30 ہزار ہو۔ کرے بھی تو کیا کرے۔ بھاری بھاری یوٹیلیٹی بلز بھرے, گھر کا کریہ ادا کرے یا گھر کے مزید اخراجات ادا کرے) ان حالات میں ایک جانب حکومتی دعوے، ججز کا ایکشن اور K.E کی تاویلیں اور دوسری جانب عوام کی بس بے بسی ہے۔ کسی بھی شعبہ میں حکومت وقت کا دور دور تک نام و نشان نہیں۔

عوام کو موجودہ حکومت سے کچھ الگ اور کچھ اچھا کرنے کی توقعات اور امیدیں تھیں۔ جو اب رفتہ رفتہ دم توڑرہی ہیں۔ عوام کو اب تک روایتی سیاست کے ماسوا کچھ نیا دیکھنے کو نہیں ملا۔ ملک کو لوٹنے والے جن چوروں اور ڈاکوؤں کو پکڑ کر سلاخوں کے پیچھے ڈالنے اور لوٹا ہوا مال سود سمیت واپس کرنے کا کہا گیا تھا۔( کیا سبز باغ تھے جو دکھائے گئے تھے) تاہم انہی چوروں اور لوٹیروں کو NRO دیا جارہا۔ ان کو باعزت باہر جانے دیا جارہا  ہے،بڑا غضب ہورہا ہے سب پرانا ہی ہورہا ہے۔ لگتا ہے آنکھ مچولی اور لاحاصل نورا کشتی ہورہی ہے۔ ایک کی گرفتاری تو دوسرے کی رہائی ہورہی ہے۔ ایک کو عدالت قصوروار ٹھہراتی ہے تو اگلے ہی روز عدالت اسے بے گناہی کا سرٹیفیکیٹ دے دیتی ہے۔ ایسے میں ایک عام آدمی کو سمجھ آتا نہیں کہ سچ کون کہہ رہا ہے اور جھوٹ کون۔ عجیب گورکھ دھندہ ہے۔

ہاں ایک راگ مافیا کا بھی ہے جو کہ گایا جارہا ہے۔ ٹھیک ہے مان لیتے ہیں مافیاز بھی ہیں۔ یہ سچ ہے حقیقت ہے اس کا انکار ممکن نہیں۔ لیکن بھائی ہوم ورک بھی ہوتا ہے۔ آخر بیس سالوں سے آپ کیا اور کس چیز کی تیاری کررہے تھے؟ کس کو کب, کہاں اور کس طرح سے نمٹانا ہے۔ آپ کے پاس وہ سارے طور طریقے اور اوزار ہونے چاہئیں تھے۔ حکومتی وزرا کی ساری توانائیاں بس مخالفین کے الزامات کے جوابات میں صرف ہورہی ہیں۔ کمال ہے وہی روائیتی الزام در الزام کی سیاست ہورہی۔ اور شاید پہلی بار ایسا ہورہا ہے کہ کسی حکومت کے وزرا آپس میں بھی باہم دست و گریباں ہیں۔ الزام در الزام ہیں۔ بہرحال مجموعی طور پر اب تک کئی بھی اور کسی بھی شعبہ میں حکومتی رٹ نظر نہیں آرہی۔ اس کی تازہ مثالیں حال ہی میں ملک میں تیل, آٹے چینی اور KE کے بحران کے دوران حکومتی احکامات ہیں۔ کہ اول تو ان احکامات اور اعلانات کا کسی ادارے یا شخص پر کوئی اثر نہیں ہوا کسی حکم کی کوئی پاسداری نہیں ہووئی اور دوم یہ حضرات یا ادارے بنا خوف و خطر اب بھی مسلسل اپنی من مانیاں کیے جارہے ہیں۔ کابینہ میں ردوبدل اور وزراء کے استعفے بھی نظر آرہے ہیں۔ لیکن عوام کو پیٹ کی پڑی ہے عوام نتیجے کے منتظر ہے۔

جاپان کی مثال:

1945 دوسری جنگ عظیم کے اختتامی لمحات تھے کہ جب امریکہ نے جاپان پر پے در پے اک بعد دیگرے دو ایٹم بم برسائے۔ جاپان اس اچانک, انتہائی خوفناک اور انوکھے قسم کے حملے کے لیے بالکل بھی تیار نہیں تھا۔ اس سے پہلے کہ امریکہ تیسرا بم گراتا جاپان نے ہتھیار ڈال دیے اور امریکہ کے آگے surrender ہوگیا۔ چنانچہ جاپان مکمل طور پر امریکہ کی ماتحتی میں چلاگیا۔ ایسے میں جاپانیوں نے امریکی تصلحت سے آزادی اور دنیا میں دوبارہ سے اپنا کھویا ہوا سابقہ مقام حاصل کرنے کے لیے مسلسل کئی سالوں تک یومیہ بنیادوں پر 16,16 گھنٹوں تک کام کو اپنی عادت بنا ڈالا۔ اور انتہائی قلیل عرصہ میں اہل جاپان نے اپنی انتک محنت و مشقت اور حب الوطنی سے دوبارہ جاپان کو از سرے نو اپنے قدموں پر لا کھڑا کیا۔
خان صاحب آپ اور آپ کے وزرا سے بھی ملک کے غیر معمولی حالات غیر معمولی اقدامات اور غیر معمولی محنت کا تقاضا کرتے ہیں۔ آپ اور آپ کی ٹیم بھی 16,16 گھنٹے کام کرکے ملک کے ان سنگین حالات کو بہتر کرسکتے ہیں۔ تبدیلی روٹین سے نہیں لائی جاسکتی تبدیلی غیر معمولی محنت extra Ordinary work سے ہی لائی جاسکتی۔ بلاشک و شبہ اب بھی آپ ہی سب سے بہتر آپشن اور امید کی آخری کرن ہیں۔ آپ ہی غیر معمولی ہیں آپ ہی ایک نا کو ہاں میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ الیکشن کے دوران نیے پاکستان کے حوالے سے جو سر سبز باغ اور خوبصورت خواب آپ نے عوام کو دیکھائے تھے۔ وہ عملی اقدامات سے ہی پائے تکمیل کو پہنچائے جاسکتے ہیں۔ ناکہ خوبصورت تقریروں یا مخالفین پر الزام تراشیوں سے۔ یہ وقت ہے غیر روائیتی سیاست اور غیر روائیتی حکومت کا۔ یہ وقت ہے ایک نا کو ایک ہاں میں تبدیل کرنے کا۔ وقت کی قدر ہی ایک عام شخص یا ایک عام لیڈر کو خاص بناتا ہے۔ پس خان صاحب وقت کی قدر کریں۔ کہ گیا وقت پھرآتا نہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *