گلالئی سے شاک لگی تک

خواتین خواہ سیاست میں ہوں یا کسی اور شعبہ میں کام کر رہی ہوں قابل احترام ہیں اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی بدتمیزی ناقابل برداشت اور گھٹیا کام ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس احترام اور تقدس کی آڑ میں مردوں کو بدنام کرنا بھی اتنا ہی گھناؤنا اور شرمناک عمل ہے۔ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ جہاں بعض اوقات مرد حضرات خواتین کا استحصال کرتے ہیں وہیں خواتین بھی ہراساں کرنے کے الزام کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں جس کا ایک مظاہرہ حال ہی میں دیکھنے کو ملا ہے، اور ہر دو صورت میں یہ نہیں سوچا جاتا کہ پاکستان جیسے معاشرہ میں جہاں خواتین پہلے سے ہی مشکلات کا شکار ہیں وہاں اس قسم کی حرکات خواتین کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔
اسی ضمن میں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والی محترمہ عائشہ گلالئی کی حالیہ گفتگو میڈیا چینلز کے ذریعے سننے کا اتفاق ہوا۔ موصوفہ نے عمران خان پر سنگین الزامات لگائے ہیں اور اگر ان الزامات میں ذرا سی بھی صداقت ہے تو عمران خان کو اس بات کی سزا ضرور ملنی چاہیے،اور یہ الزامات خواہ درست ہیں یا غلط خان صاحب کو سوچنا ضرور چاہیے کہ جس زبان کا استعمال وہ اور ان کے پارٹی ورکرز دیگر جماعتوں کی خواتین سے متعلق کرتے رہے ہیں ایک نہ ایک دن ان کے ساتھ بھی ایسا ہونا ہی تھا۔ لیکن موجودہ صورتحال میں اس پہلو پر بھی غور کیا جانا چاہیے کہ کیا یہ عمران خان کے مخالفین کی سیاسی چال تو نہیں ہے۔ محترمہ عائشہ کو الزامات لگائے تو دو روز گزر چکے ہیں مگر تاحال انہوں نے نہ کوئی ثبوت مہیا کیا ہے اور نہ ہی کوئی واقعاتی شہادت پیش کی ہے اس پر مستزاد یہ کہ ان کی گفتگو میں جتنے جھول پائے گئے ہیں وہ ان کے دعویٰ پر شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لیے کافی ہیں۔
موصوفہ فرماتی ہیں کہ عمران خان نے انہیں 2013 میں پہلی مرتبہ یہ میسج بھیجا جس کا ذکر انہوں نے اپنے والد صاحب سے بھی کیا لیکن ان کے والد صاحب نے انہیں کسی”مصلحت”کے تحت چپ رہنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے پختون غیرت اور گھر کے اسلامی ماحول کا بھی تذکرہ کیا لیکن یہ کس قسم کی غیرت ہے اس پر کم از کم میں شدید حیرت میں مبتلا ہوں۔ پاکستانی معاشرے میں تو گھر کی کسی خاتون کے موبائل پر کسی انجان نمبر سے کوئی فالتو میسج آ جائے تو وہ برداشت نہیں کیا جاتا اور کم از کم ان کے موبائل استعمال پر پابندی لگا دی جاتی ہے یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے کہ غیرت مند والد صاحب فرماتے ہیں “ابھی دیکھو اور کیا ہوتا ہے”۔ غیرت کے اس عظیم الشان مظاہرہ پر مزید کچھ تبصرہ کرنے کی مجھ میں تاب نہیں لیکن سوال تو پیدا ہوتا ہے کہ جس مصلحت کے تحت والد صاحب نے یہ سب برداشت کرنے کا مشورہ دیا وہ کہاں رخصت ہو گئی۔
موصوفہ گذشتہ چار سال سے شاک کی حالت میں بھی تھیں اگرچہ یہ شاک انہیں بار بار لگتے رہے جس کا اظہار انہوں نے کل سے اب تک اپنی ہر گفتگو میں کیا ہے۔ ویسے جتنے شاکس انہیں لگ چکے ہیں میرا محترمہ کو مشورہ ہے کہ اپنا نام گلالئی سے تبدیل کر کے”شاک لگی” رکھ لیں۔ بہرحال ان بار بار لگنے والے شاکس کے باوجود وہ نہ صرف پارٹی کی ہر ممکن حمایت بھی کرتی رہیں بلکہ عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر اسی بدکردار لیڈر کے گن بھی گاتی رہیں۔ بے انتہا غیرت کے ساتھ ساتھ ان میں جس قدر عوام کی خدمت کرنے کا جذبہ پایا جاتا ہے اس پر میرے تو بےساختہ آنسو ہی نکلنے لگے تھے کہ انہوں نے نوازشریف کے خاندانی ہونے کا تذکرہ فرما دیا اور بتایا کہ نون لیگ میں خواتین کی بہت عزت کی جاتی ہے۔ یہ سنتے ہی میری بے ساختہ ہنسی نکل گئی جس سے میرے قیمتی آنسو ضائع ہونے سے بچ گئے۔ اس مہربانی کے لیے میں محترمہ کا انتہائی مشکور ہوں اور عوام الناس کے جذبات کا خیال رکھنے پر عوامی خدمت کا نوبیل پرائز محترمہ کو دینے کی سفارش کرتا ہوں۔

صفدر جعفری
صفدر جعفری
خود اپنی تلاش میں سرگرداں۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *