ہے؟ ثقافتی سرمایہ کا تجزیہ (culture capital theory)
آج ایک پوسٹ میں پڑھا کہ دھرمیندرا جی کو میڈیا، فلمی نقاد اور سینما اسکالرز نے وہ مقام کبھی نہیں دیا جو وہ عوامی مقبولیت کے لحاظ سے پوری طرح deserve کرتے تھے۔ بالکل ایسا ہی معاملہ پنجابی سنگر چمکیلا کے ساتھ ہوا ..جو اپنے زمانے کا سب سے مقبول گلوکار تھا، مگر اسے “فحش” اور “عامیانہ” کہہ کر رد کر دیا گیا۔ یہی سلوک پاپولر ادب ، لوک لٹریچر/ میتھالوجی کے ساتھ بھی ہوا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ جب لوگ کسی فنکار کو دل سے چاہتے ہیں، یا کسی فن پارا کو مقبولیت ملتی ہے تو پھر اسے ’قابلِ اعتراف‘ کیوں نہیں سمجھا جاتا؟ حالاں کہ آرٹ کی بنیادی تعریف یہی ہے کہ وہ اپنے ناظر یا سامع تک وہ احساس، وہ معنی اور وہ تاثر پہنچا دے جو تخلیق کار نے سوچا تھا۔ جب کوئی فن اپنے مخاطب کے دل تک اتر جائے اور مطلوبہ اثر پیدا کر دے تو وہی کامیاب، زندہ اور مکمل آرٹ ہوتا ہے۔
آخر کون سا نظریاتی آلہ استعمال ہوتا ہے جس کے ذریعے عوام کی پسند کو ’’احمقانہ‘‘ اور ’’کم درجے‘‘ کا ثابت کیا جاتا ہے۔
اس کا جواب ہم Pierre Bourdieu کے cultural capital کے تصور سے بہتر سمجھ سکتے ہیں..
جہاں مارکس کے نزدیک طاقت اور برتری کا اصل ذریعہ اقتصادی سرمایہ (economic capital) تھا..جس کے پاس دولت ہے، وہ طاقتور ہے۔ وہیں Pierre Bourdieu کہتا ہے کہ اصل کھیل صرف دولت کا نہیں، cultural capital کا بھی ہے۔اس نے دکھایا کہ طاقت کا بڑا ذریعہ ثقافت بھی ہے۔ cultural capital وہ سرمایہ ہے جو پیسہ نہیں ہوتا، لیکن پیسہ اور طاقت تک راستے کھول دیتا ہے۔
کلچرل capital سے مراد وہ زبان، انداز، آداب، لباس، لہجہ ، body language اور ذوق (taste) ہے جسے ایلیٹ طبقات اعلیٰ معیار بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اور سماج کو
high/ low, کمتر /برتر کی بائنری میں تقسیم کر کے سٹیٹس کو مضبوط رکھتے ہیں ۔
جو اس معیار پر پورا اتر جائے، اس کے لیے طاقت کے ہر دروازے….اچھے اسکول، اچھی نوکریاں، اداروں کا اعتماد ….خود بخود کھل جاتے ہیں۔
اور جو اس معیار سے باہر ہو (خواہ وہ جتنا ذہین یا باصلاحیت ہو)، وہ خود ہی نظام کے حاشیے پر دھکیل دیا جاتا ہے۔
نوآبادکاری سماج میں ثقافتی سرمایہ (cultural capital) سب سے بڑا ہتھیار بن جاتا ہے، کیونکہ طاقت ور طبقے۔۔۔چاہے وہ نوآبادیاتی حکمران ہوں یا اُن کے مقامی وارث۔۔۔اپنی زبان، انداز، لہجے اور “سلیقے” کو اعلیٰ ترین معیار بنا دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ایک عام اسکول کا ذہین ترین بچہ بھی ایک Aitchisonian کے مقابلے میں پیچھے رہ جاتا ہے، چاہے اُس کی قابلیت زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔ وجہ یہ نہیں کہ وہ کم ذہین ہے، بلکہ یہ کہ سسٹم اسی cultural style کو پہچانتا ہے جو طاقت رکھنے والے گروہ کا ہے۔ ایلیٹ گھرانوں کے بچے جس اعتماد، جس اندازِ گفتگو، جس انگریزی کے accent، جس body language اور جس طرح کی world exposure کے ساتھ پروان چڑھتے ہیں، وہ سب “embodied cultural capital” ہے۔۔۔ایسا سرمایہ جو نہ امتحانوں میں نظر آتا ہے، نہ CV پر، مگر ہر گیٹ پر دربان بن کر کھڑا رہتا ہے۔
دوسری طرف ایک عام یا lower-middle-class بچہ، چاہے کتنا بھی محنتی اور ذہین ہو، اس لیے پیچھے رہ جاتا ہے کہ اُس کا cultural code “معیاری” نہیں سمجھا جاتا۔ حالاں کہ وہ بھی اتنا ہی authentic ہے ۔۔ یہی symbolic violence ہے۔
یعنی طاقت کا وہ طریقہ جس سے عوام کے احساسات اور اظہار کو کم تر دکھایا جاتا ہے۔
طاقت رکھنے والا گروہ اپنے طریقوں کو “معیاری” اور باقی سب کو “کم تر” قرار دے دیتا ہے۔ یہ رویہ صرف اسکولوں میں نہیں، یونیورسٹی ایڈمیشن، اسکالرشپس، جاب انٹرویوز، میڈیا میں نمائندگی، حتیٰ کہ اعلیٰ عدالتوں اور بیوروکریسی تک پھیلا ہوتا ہے۔ لہٰذا جو بچے elite norms کے مطابق تربیت پاتے ہیں، وہ آگے بڑھتے ہیں۔۔۔اور جو نہیں پاتے، اُن کی social mobility محدود کر دی جاتی ہے۔ یوں colonial وراثت ایک ایسا سماجی ڈھانچہ چھوڑ جاتی ہے جہاں طاقت ور گروہ اپنے cultural capital کو “قدرتی برتری” بنا کر پیش کرتا ہے، حالانکہ وہ صرف سیکھا ہوا امتیاز ہے، کوئی پیدائشی برتری نہیں۔ جیسے:
اعلیٰ طبقہ کلاسیکل موسیقی (Beethoven, Mozart) کو “سچا فن” کہتا ہے جبکہ مزدور طبقہ پاپ، لوک موسیقی، رقص سنتا ہے جو low آرٹ ہے ۔
شہری ایلیٹ کی انگریزی, مغربی Manners, اور refined taste کو اعلی و میعاری جبکہ دیہی یا مزدور طبقے کی زبان، گیت، لباس کو “ordinary” یا ” پینڈو” کہہ کر رد کیا جاتا ہے ۔
اعلیٰ طبقہ “delicate, light, refined food” پسند کرتا ہے جبکہ عام طبقہ “بھاری، دیسی اور چٹ پٹا کھانا ” پسند کرتا ہے
حالانکہ دونوں taste سماجی ساخت کا نتیجہ ہیں، نہ کہ کوئی universal معیار۔
Bourdiu
یوں دکھاتا ہے کہ ایلیٹ طبقہ کس طرح high taste اور low taste کے خانوں کے ذریعے ثقافت کو کنٹرول کرتا ہے۔ وہ اپنی پسند کو ‘معیار’ بنا دیتا ہے اور عوام کی پسند، زبان، موسیقی اور ہیروز کو آہستہ آہستہ outcast کر دیتا ہے۔ یہ بہت subtle قسم کا symbolic violence ہوتا ہے۔
اسکے علاوہ ایلیٹ صرف taste کو کنٹرول نہیں کرتے بلکہ fields …..یعنی وہ ادارے جہاں “معیار” طے ہوتا ہے (میڈیا، اکیڈمی، آرٹ، موسیقی), ان کے قواعد بھی اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں۔ یوں وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کون سا فن “اچھا” ہے، کون “گھٹیا”، اور کون سا اظہار “قابلِ قبول”۔ اس طرح عوامی تجربہ خود بخود حاشیے پر چلا جاتا ہے، چاہے اس کی مقبولیت کتنی ہی وسیع کیوں نہ ہو۔
یہی عمل آگے چل کر علمی تشدد یعنی epistemological violence بن جاتا ہے ,جسے گایتری سپیواک نے واضح کیا تھا: جب طاقتور یہ طے کرتے ہیں کہ کس کی آواز علم ہے اور کس کی آواز noise، تو عوامی ہیروز اور لوک اظہار کو خاموش کر دیا جاتا ہے۔ اسپیوَک کی زبان میں، یہ “subaltern یعنی پسے عوام کو بولنے نہ دینا” ہے۔
جب عطا اللہ عیسیٰ خیلوی، یا چمکیلا جیسے فنکاروں کو ’’فحش‘‘، ’’دیہاتی‘‘ یا ’’عامیانہ‘‘ کہا گیا تو یہ محض اخلاقی فتوے نہیں تھے۔۔۔
یہ وہی symbolic + epistemic violence تھا جس کا مقصد عوامی تجربے، خواہشات، دکھ، محبت، سماجی حقیقت اور مزاحمت کو غیر معتبر ثابت کرنا تھا۔
چمکیلا پر جو بحث ہوئی تھی وہ یہی تھی:
کیا ایک پورے طبقے کی زندگی کو ”فحش“ کہہ کر رد کر دینا دراصل ان کی حقیقت کو مٹانے کا طریقہ نہیں؟
یہ symbolic اور epistemological violence صرف لوگوں کو طاقت کے مراکز، اچھی نوکریوں اور اداروں سے دور نہیں رکھتا، بلکہ ان کی آواز کو بھی غیر اہم بنا دیتا ہے۔
عوام کی زبان، ان کا لہجہ، ان کی کہانیاں، گیت، لوک فن، شاعری….حتی کہ ان کی روزمرہ کی حساسیت ۔۔۔ سب کو “کم معیار” یا “عامیانہ” کہہ کر رد کر دیا جاتا ہے۔
یوں طاقتور طبقہ نہ صرف مواقع پر قبضہ رکھتا ہے بلکہ یہ بھی طے کرتا ہے کہ کون سا آرٹسٹ، کون سا شاعر اور کون سا اظہار ’قابلِ احترام‘ ہے اور کون سا نہیں۔
نتیجتاً، کئی لوگ محض اپنے ثقافتی اظہار کی وجہ سے خاموش کرا دیے جاتے ہیں ، اور یہی سب سے گہرا اور خطرناک جبر ہے۔
جب طاقتور طبقہ عوام کے ذوق کو ’کمتر‘ قرار دیتا ہے تو وہ صرف ایک فنکار پر تنقید نہیں کرتا، بلکہ ایک پوری ثقافت، تجربے اور تاریخ کو غیر معتبر قرار دے دیتا ہے۔
( سائرہ رباب )
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں