خواب اور ورچوئل ریئلیٹی/ عبداللہ

فراز نے کہا تھا، “اب کے بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں”, فیض نے کہا تھا، “اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا”, اور ناصر کاظمی نے لکھا تھا، “دل تو میرا اداس ہے ناصر، شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے”- ان کے علاوہ بھی بے شمار اس قسم کے شعر جب پڑھتا ہوں تو وقتی طور پر کبھی دلاسا، کبھی تسلی کبھی رومانوی اداسی وغیرہ محسوس ہوتی ہے اور شاید یہ ہم سب ہی محسوس کرتے ہیں- لیکن جب میں ان کی نفسیاتی گہرائی میں جھانکنے کی کوشش کرتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ یہ احساسات کسی دیکھے یا ان دیکھے سماجی یا جذباتی دباؤ سے بچنے کے لیے ایک متوازی تخیلاتی دنیا بسانے کا نام ہیں- یا یہ باطن میں ایک داخلی دنیا کی تعمیر ہے جہاں دکھ کا جواز خود تخیل فراہم کرتا ہے- اسے “Maladaptive daydreaming” کہا جاتا ہے- آسان الفاظ میں یہ وہ نفسیاتی کیفیت ہے جس میں انسان حد سے زیادہ تخیلی دنیا میں کھو کر حقیقی زندگی کے فرائض، تعلقات اور ذمہ داریوں سے کٹنے لگتا ہے، اور اس کا تخیل اس کے لیے سہارا نہیں بلکہ رکاوٹ بن جاتا ہے۔

صرف شعر ہی نہیں، بلکہ کئی خیالات، نظریات، اور خواب بھی رومانوی سطح پر خوبصورت نظر آتے ہیں مگر نفسیاتی سطح پر یہ حقیقت سے دستبرداری کا اعلان بھی ہوتے ہیں- یہ وسیلهٔ تسکین نہیں، متبادلِ زندگی بننے لگتے ہیں اور یہی maladaptive daydreaming کا جوہر ہے۔

قدیم انسان کے خواب، جدید انسان کی ورچوئل ریئلٹی، اور ان دونوں کے بیچ پھیلا ہوا خوف، یہ سب دراصل ایک ہی انسانی ذہن کی مختلف تصویریں ہیں- یہ ذہن جو زمانوں کے بدلنے کے ساتھ اپنے رنگ بدلتا گیا، مگر اپنی ساخت میں زیادہ نہیں بدل سکا-

ذرا سوچیں، قدیم انسان جب جنگلوں، ویرانوں اور غاروں میں سوتا تھا تو اس کی نیند تفریح نہیں ہوا کرتی تھی-یہ بقا کی ایک اور صورت تھی۔ اس کے لیے خواب کسی رومانوی دنیا میں کھو جانے کا ذریعہ نہیں تھے، بلکہ آنے والے خطرات کی مشق تھے۔ بھوکے درندے، اچانک طوفان، قبیلے پر حملہ، یا اندھیری رات میں کوئی پراسرار آواز، یہ سب اس کے لاشعور کے سٹیج پر پہلے سے کھیلے جا چکے ہوتے تھے۔ نیند دراصل اس کے خوف کی تربیت گاہ تھی۔ دماغ اس دوران خاموشی سے سینکڑوں ممکنہ خطرات کی سیمولیشن بناتا، تاکہ جاگنے کے بعد جسم بروقت ردِعمل دے سکے۔ آج ہم جسے ورچوئل ریئلٹی کہتے ہیں، اس کی حیاتیاتی صورت انسان ہزاروں برسوں سے خود اپنے اندر لیے پھر رہا تھا۔

زمانہ بدلا۔ جنگل شہر میں بدلے، درندے نظام میں ڈھل گئے، اور خوف نے بھی اپنے لباس بدل لیے۔ اب انسان کو نیند میں شیر نہیں دوڑاتا، بلکہ وہ خواب میں ناکامی سے بھاگتا ہے۔ اب آسمانی بجلی نہیں گرتی، بلکہ دل پر رد کیے جانے کی بجلی گرتی ہے۔ اب سیلاب نہیں آتا، بلکہ بے قدری کا ریلا بہا لے جاتا ہے۔ قدیم انسان دشمن کو پہچانتا تھا- کیونکہ وہ سامنے ہوتا تھا۔ جدید انسان کا دشمن نظر نہیں آتا، مگر ہر وقت ساتھ چلتا ہے؛ بے یقینی، معاشی دباؤ، سماجی موازنہ، تنہائی، اور مستقبل کا اندیشہ۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ خطرات بدل گئے ہیں، مگر خطرات کو سمجھنے، ان سے لڑنے اور ان کا بوجھ ذہن میں ڈالنے والا سسٹم وہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے خوف باہر تھا، اب اندر ہے۔ اسی اندرونی خوف کی بگڑی ہوئی صورت یہ Maladaptive daydreaming ہے۔ یہ ایک ایسا مرحلہ ہے جہاں خواب بقا کی تیاری نہیں کرتے، بلکہ حقیقت سے فرار بن جاتے ہیں۔ قدیم انسان خواب میں خطرہ دیکھ کر مزید چوکنا ہوتا تھا، جدید انسان خواب میں پناہ ڈھونڈ کر مزید کمزور ہونے لگا ہے۔ ایک اپنے خوف سے بھاگنے کے لیے جاگتا تھا، دوسرا اپنے خوف سے بچنے کے لیے خواب میں پناہ لیتا ہے۔

عجیب تضاد ہے نا کہ کل خواب انسان کو حقیقت کے لیے تیار کرتے تھے، آج خواب ہی حقیقت سے دور لے جاتے ہیں۔ کل ذہن خطرے کو سنبھالنے کے لیے خواب بناتا تھا، آج ذہن شکست سے بچنے کے لیے خیالی سلطنتیں تعمیر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی ورچوئل ریئلٹی، گیمنگ کی دنیا، سوشل میڈیا کی چکا چوند سکرینیں, یہ سب دراصل انسان کے اندر موجود اسی قدیم میکانزم کی نئی شکلیں ہیں۔ وہی پرانا ذہن، وہی پرانا خوف، بس پردے بدل گئے ہیں۔

قدیم انسان کا خوف وجودی تھا، “میں زندہ رہوں گا یا نہیں؟” جدید انسان کا خوف معنوی ہے، “میری کوئی حیثیت ہے بھی یا نہیں؟” وہ آگ سے ڈرتا تھا، یہ نظر انداز ہونے سے ڈرتا ہے۔ وہ بھوک سے ڈرتا تھا، یہ بے مقصد ہو جانے سے ڈرتا ہے۔ وہ موت کو سامنے دیکھتا تھا، یہ زندگی کو کھو بیٹھنے سے ڈرتا ہے۔ یوں خواب، سینکڑوں صدیوں کے فاصلے کے باوجود، انسان کی نفسیاتی ڈائری بنے ہوئے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے یہ ڈائری خون، مٹی اور آگ سے لکھی جاتی تھی، آج اسے سکرین کی روشنی میں، ڈیٹا اور ڈیجیٹل تنہائی سے لکھا جا رہا ہے۔

julia rana solicitors

کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ شاید اصل سوال یہ نہیں کہ آج جدید ورچوئل ریئلٹی کتنی ترقی کر چکی ہے، اصل سوال یہ ہے کہ
کیا ہم اب بھی اپنے خوابوں کو بقا کے لیے استعمال کرتے ہیں یا صرف فرار کے لیے؟ قدیم انسان خواب دیکھ کر مضبوط ہوتا تھا، جدید انسان خواب دیکھ کر مزید بکھر جاتا ہے۔ یہی فرق ہماری تاریخ کا بھی ہے، اور ہمارے عہد کا بھی۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply