• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • چارلس ڈکنز کے ناول’گریٹ ایکسپیکٹیشنز’ پر ادبی مکالمہ/علی عبداللہ

چارلس ڈکنز کے ناول’گریٹ ایکسپیکٹیشنز’ پر ادبی مکالمہ/علی عبداللہ

یہ سلسلہ Charles Dickens کے ناول Great Expectations پر ایک مکمل ادبی مکالمہ ہے


خط اوّل — عبداللہ کی طرف سے

زہرہ!

آج میں نے پھر پپ کو اسی ویران قبرستان میں کھڑا دیکھا- وہ اپنے ماں باپ کے نام ٹوٹی ہوئی قبروں پر پڑھ رہا تھا- ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ اپنے وجود کا بوجھ خود اٹھائے پھرتا ہو۔ اس منظر میں پپ مجھے بچّے سے زیادہ انسان دکھائی دیا۔ ایک ایسا انسان جو زندگی کے آغاز ہی میں یہ سیکھ لیتا ہے کہ وہ اکیلا ہے۔

مجھے یوں لگا جیسے اس کی آئندہ ساری کمزوریاں اسی لمحے نے لکھ دیں ہیں۔ خوف، کمی، اور خود کو کم تر سمجھنے کا احساس-

اور پھر میں سوچتا رہا کہ انسان کو توڑنے کے لیے شاید ہمیشہ بڑا سانحہ درکار نہیں ہوتا کبھی کبھی ایک خاموش قبر بھی پوری تقدیر بدل دیتی ہے۔

یہیں سے ایسٹیلا کے لیے اس کے دل میں پہلی جگہ بنتی ہے- ایک ایسے دل میں جو پہلے ہی خالی تھا۔

عبداللہ

✉️ خط دوم — زہرہ کا جواب

عبداللہ!

آپ نے قبرستان کی تنہائی لکھی، لیکن میں اس نگاہ کی بات کرنا چاہتی ہوں جس نے اس تنہائی کو نام دے دیا۔ ایسٹیلا کی پہلی نظر میں مجھے سب سے بڑے سماجی المیے کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔

وہ کسی کو مار کر نہیں توڑتی، صرف دیکھ کر ہی توڑ دیتی ہے۔ وہ پپ کو یہ نہیں کہتی کہ وہ غریب ہے، وہ اسے یہ احساس دلا دیتی ہے کہ وہ حقیر ہے۔ یہ فرق بہت گہرا ہے۔

ہم اکثر اسی لمحے ٹوٹتے ہیں جب کوئی ہمیں وہ بنا دے جو ہم اصل میں نہیں ہوتے۔ ایسٹیلا کی نگاہ پپ کو آئینہ دکھاتی ہے، مگر وہ آئینہ سچ کا نہیں، تحقیر کا ہوتا ہے۔ اور یہی تحقیر اس کے دل میں محبت کے نام پر ایک زہر بو دیتی ہے۔

زہرہ

✉️ خط سوم — عبداللہ

زہرہ!

پپ کی ایسٹیلا سے وابستگی مجھے جتنی رومانوی لگتی ہے، اتنی ہی خطرناک بھی۔ اس کی چاہ میں محبت کم اور خود کو بدلنے کی خواہش زیادہ ہے۔

وہ ایسٹیلا میں ایک لڑکی نہیں دیکھتا- وہ اس میں ایک دروازہ دیکھتا ہے جس کے اس پار وہ اپنی کم تری سے نجات پا سکتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے وہ عورت سے نہیں، ایک رتبے سے محبت کر رہا ہو۔

یہ وہ مقام ہے جہاں محبت دعا نہیں رہتی، سودا بن جاتی ہے۔ اور ہم سب جانتے ہیں کہ سودے میں دل نہیں، قیمت دیکھی جاتی ہے۔

عبداللہ

✉️ خط چہارم — زہرہ

عبداللہ!

ایسٹیلا کی سختی کو میں اس کا گناہ نہیں سمجھتی۔ وہ تو ایک منصوبہ ہے- مس ہیویشم کا تیار کیا ہوا منصوبہ۔ اسے سکھایا گیا کہ مردوں کے دل کمزور ہوتے ہیں، اور انہیں توڑنا طاقت کی علامت ہے۔ ایسٹیلا کو محبت سکھائی ہی نہیں گئی۔ اسے صرف فتح سکھائی گئی۔

وہ دل توڑتی ہے، مگر اس لیے نہیں کہ وہ ظالم ہے، بلکہ اس لیے کہ اسے بتایا گیا کہ یہی اس کی اصل ہے۔ مجھے یہ کردار ایک عورت سے زیادہ ایک تجربہ دکھائی دیتا ہے، جس پر زندگی آزمائی گئی ہے-

زہرہ

✉️ خط پنجم — عبداللہ

زہرہ!

جب پپ دولت پاتا ہے تو میں اس کے چہرے پر خوشی نہیں، ایک نئی جھجک دیکھتا ہوں۔ اس کے الفاظ بدل جاتے ہیں، اس کے انداز بدل جاتے ہیں، اور اس کی نظریں اپنے ہی ماضی سے شرمانے لگتی ہیں۔ وہ جس جگہ سے نکلا تھا، وہیں لوٹنے سے گھبرانے لگتا ہے۔

اور وہ جس کے لیے یہ سب چاہتا تھا، یعنی ایسٹیلا۔۔۔وہ پہلے سے زیادہ دور ہو جاتی ہے- دولت نے اسے بہت کچھ دیا، مگر اس کے اندر کا آدمی چھین لیا۔

کیا ہم بھی کبھی اپنی اصل کو کسی خواب کے عوض گروی رکھ دیتے ہیں؟

عبداللہ

✉️ خط ششم — زہرہ

عبداللہ!

جو مجھے اس ناول کی سب سے روشن خاموشی لگتا ہے۔ وہ بدلتا نہیں، اس لیے قائم رہتا ہے۔ پپ اوپر جاتا ہے، مگر جو جوں کا توں رہ کر بھی اس سے بڑا دکھائی دیتا ہے۔

ایسٹیلا کا طلسم پپ کو اس قدر مسحور کر لیتا ہے کہ وہ سادگی کو کمزوری سمجھنے لگتا ہے۔ وہ شرافت کو پسماندگی اور اخلاص کو کم حیثیتی میں بدل دیتا ہے۔ جو یقیناً اس بات کی علامت ہے کہ انسان کا قد دولت سے نہیں، کردار سے ناپا جاتا ہے۔

زہرہ

✉️ خط ہفتم — عبداللہ

زہرہ!

مس ہیوشم مجھے ایک انسان کم، ایک ٹھہرے ہوئے لمحے کی طرح زیادہ لگتی ہے۔ وہ جہاں ٹوٹی تھی، وہیں رک گئی۔ وقت آگے بڑھتا رہا، وہ پیچھے رہ گئی۔ اس نے جس دکھ کو جھیلا، اسے سمجھنے کے بجائے دوسروں میں منتقل کر دیا۔ ایسٹیلا اس منتقلی کا سب سے بڑا شکار بنی۔

جو زخم شفا نہ پائیں، وہ نسل در نسل سفر کرتے ہیں۔ یہ انتقام نہیں، یہ بیماری ہے۔۔۔روح کی بیماری۔

عبداللہ

✉️ خط ہشتم — زہرہ

عبداللہ!

ایسٹیلا جس مرد سے شادی کرتی ہے، وہ اسے توڑ دیتا ہے۔ اور اس ٹوٹنے میں مجھے کسی ظلم سے زیادہ ایک عجیب منصفی دکھائی دیتی ہے۔ جس دل نے کبھی کسی کو سہارا نہ دیا ہو، اسے سہارا ملنا بھی ایک آزمائش بن جاتا ہے۔

وہ پہلی بار اس رشتے میں اپنی بے بسی محسوس کرتی ہے- وہی بے بسی جو اس نے دوسروں کو دی تھی۔ شاید یہی زندگی کی سب سے خاموش سزا ہے؛ انسان کو وہی دکھ سونپ دینا، جسے وہ کبھی کھیل سمجھتا تھا۔

زہرہ

✉️ خط نہم — عبداللہ

زہرہ!

جب پپ کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تمام آسائشیں ایک مجرم کی دی ہوئی ہیں، تو وہ ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ ٹوٹنا مالی نہیں، اخلاقی ہوتا ہے۔ وہ پہلی بار سمجھتا ہے کہ پاکیزگی صرف لباس اور آداب سے نہیں بنتی، نیت سے بنتی ہے۔

اس لمحے ایسٹیلا بھی اس کے دل میں کروٹ لیتی ہے- اب وہ اسے صرف خواب نہیں سمجھتا، وہ اسے ایک انسان کے طور پر دیکھنے لگتا ہے۔

اور یہ بات واضح ہے کہ اکثر سچ انسان سے اس کا غرور چھین لیتا ہے، مگر اس کا ضمیر واپس دے دیتا ہے۔

عبداللہ

✉️ خط دہم — زہرہ

عبداللہ!

جب ایسٹیلا واپس آتی ہے تو وہ تھکی ہوئی ہوتی ہے- جسم سے زیادہ روح سے۔ اس کے لہجے کی سردی اب غرور نہیں، تھکن ہے۔ وہ اعتراف کرتی ہے کہ زندگی نے اسے بدل دیا ہے۔ یہی وہ جملہ ہے جس میں اس کی ساری کہانی سانس لیتی ہے۔

وہ جسے سخت بنایا گیا تھا، وہ اب ٹوٹ کر نرم ہوئی ہے۔ نجانے کیوں بعض لوگ آخر میں جا کر انسان بنتے ہیں۔

زہرہ

✉️ گیارھواں خط— عبداللہ

زہرہ!

آخری ملاقات میں پپ اور ایسٹیلا قریب آتے ہیں، مگر ملتے نہیں۔ یہ وصال کم، پہچان زیادہ ہے۔ اب دونوں ایک دوسرے کو خواہش کی آنکھ سے نہیں دیکھتے، شعور کی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔

یہ ادھورا پن مجھے مکمل سچ لگتا ہے- کیونکہ زندگی ہمیں اکثر مکمل خوشیاں نہیں دیتی، مکمل سمجھ ضرور دے دیتی ہے۔

عبداللہ

✉️ بارہواں خط— زہرہ

عبداللہ!

مجھے ایسٹیلا ایک کردار سے زیادہ ایک امکان لگنے لگی ہے- ایک ایسی علامت کہ انسان چاہے کتنا ہی بگاڑا گیا ہو، وہ مکمل طور پر ضائع نہیں ہوتا۔ اس کی واپسی دراصل انسان کی واپسی ہے۔ وہ جو کبھی دوسروں کو بے حس کرتی تھی، اب خود کو محسوس کرنا سیکھ گئی ہے۔

یہ احساس ہی شاید سب سے بڑی کامیابی ہے۔

زہرہ

✉️ تیرہواں خط— عبداللہ

زہرہ!

میں نے اس ناول کو بار بار پڑھ کر یہ سمجھا ہے کہ اس کا اصل موضوع دولت نہیں، تشکیلِ انسان ہے۔ پپ دولت پا کر بڑا نہیں بنتا، وہ گرتا ہے۔ اور جب وہ گرتا ہے، تب ہی اٹھتا ہے۔

ایسٹیلا بدل کر خوبصورت نہیں بنتی، وہ ٹوٹ کر سچی بنتی ہے۔ شاید بڑی کہانی وہی ہوتی ہے جو انسان کو پہلے توڑے، پھر جوڑے۔

عبداللہ

✉️ آخری خط — زہرہ

عبداللہ!

میرے لیے ایسٹیلا اس کہانی کا انجام نہیں، اس کا سوال ہے۔ وہ جیسے ہم سے پوچھتی ہو، “کیا انسان اپنی سکھائی ہوئی فطرت سے آزاد ہو سکتا ہے؟” اور پھر یہ ناول ہی ہمیں بتاتا ہے کہ ہاں۔۔۔ مگر اس آزادی کی قیمت، ہمیں وقت، دکھ اور اپنی ہی ٹوٹ پھوٹ سے چکانی پڑتی ہے۔

شاید یہی اس کتاب کی اصل عظمت ہے کہ یہ ہمیں خواب نہیں بیچتی، شعور عطا کرتی ہے۔

زہرہ

julia rana solicitors london

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply