صفدر رشید کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ’’زبان اور تہذیب: جنوب ایشیائی اور مغربی تناظر‘‘ اُن انٹرویوز پر مشتمل ہے، جو انھوں نے دو درجن بھر افراد سے یوروپ میں رہتے ہوئے ادو زبان کی ضرورت،اہمیت اور مسائل پر کئے۔ان مکالمات میں اردو زبان کے سیکھنے یعنی Learning Issues کو سمجھنے کی کوشش ملتی ہے۔ زبان چوں کہ تہذیب، رہن سہن اور رسومات کا براہِ راست تخلیقی ذریعہ کہا جا سکتا ہے، اس لیے زبان کے راستے خطے کے افراد کے ذہنی و جذباتی دنیا تک کا سفر کیا جا سکتا ہے۔اردو زبان برصغیر میں استعماری ادوار میں پروان چڑھی اور پورے خطے کے مجموعی تہذیبی شناخت کا حوالہ بنی۔ اس زبان میں عجمی و عربی تہذیبوں کے بھی اثرات ہیں اور مقامی سنسکرت رہن سہن کا بھی مزاج موجود ہے۔ اس لیے اسے وسطی ایشیا سے برما کے سرحدتک شناخت کا نمائندہ قرار دیاجا سکتا ہے۔
صفدر رشید کے ان مکالمات کو پڑھتے ہوئے شدت سےدو سوال ذہن پر دستک دیتے ہیںکہ یورپ میں زبانوں پر اس قدر توجہ کیوں ہے؟ خاص طور پر استعماری یورپ، (صرف وہ یوروپ جو مختلف اوقات میں کالونیوں کا ’موجد‘ رہا ہے) اورزبان سے ادب کے مباحث غائب کیوں ہیں؟
آپ دیکھ سکتے ہیں یوگو سلاویہ ہو یا جنوب مشرقی یوروپ، جنوبی امریکہ یامشرقِ بعید کی اقوام ۔ وسطی اشیا ہو یا افریقی اقوام،حتٰی کہ ہمارے جنوب ایشیامیں بھی اپنے مقامی خطوں کی زبانوں کےعلاوہ غیر زبانوں کے سیکھنے کا رواج نہیں رہا۔ سوائے انگریزی یا مذہبی ضرورتوں کے تناظر میں پیدا ہونے والی زبانیں۔بہرحال اس پہ مکالمہ کی ضرروت ہے جو صفدر رشید کے ذریعے تمام حقائق کے ساتھ، مواد کی شکل میں موجود ہے۔ دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ استعماری یورپ صرف زبان کیوں سیکھتا ہے؟ ہماراادب کیوں نہیں پڑھتا ؟ ترجمہ کیوں نہیں کرتا۔ہماری فکری، تہذیبی یا جمالیاتی اقدار کے مباحث اپنے ہاں عام کیوں نہیں کرتا؟ کیا انھیں ڈر ہےکہ ادب کے ساتھ ہمارا موقف بھی ان تک پہنچے گا۔ ہمارے ادب کا بیانیہ یوروپ میں پھیلے گا جو مزاحمتی بھی ہے اورہماری صدیوں کی تاریخی و ثقافتی اقدار کانمائندہ بھی۔ خیر اس پہ تفصیل سے گفتگو کی ضرورت ہے جو یہاں ممکن نہیں۔
صفدر رشید نے یوروپ میں اردو کے حوالے سے مکالمات کے ذریعے جس موقف کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے اس میں رسم الخط میں لچک پیدا کرنے کا خیال ہے۔ اگرچہ اس پہ بہت زیادہ مباحث ہو چکے ہیں ۔ یہاں مقتدرہ نے بھی اس حوالے سے کئی کتابیں شائع کی ہیں۔ پاک و ہند کے ادبا اس میں شامل رہے ہیں۔ رسم الخط میں لچک سے مراد یہ ہے کہ ایک ہی رسم الخط ہو جائے تو زیادہ آسانی ہے جس سے اردو زبان کا دائرہ کار اور ثقافتی حدود میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے صفدر رشید نے ڈاکٹر تابش خیر (ڈنمارک) صاحب کے ایک مضمون ’’Scripting a Future for Urdu کا حوالہ دیتے ہیں جس میں ڈاکٹر تابش کا موقف ہے کہ:
’’زیادہ سے زیادہ اردو ادب کو دیوناگری خط میں ڈھالا جائے۔ یوں بہت بڑی تعداد اس ادب سے متاثر ہو سکے گی۔ انھوں نے اردو کے تمام شعرا کو دیوناگری خط میں پڑھا۔ نظری طور پر بعض افراد اس تجویز سے اختلاف کر سکتے ہیں، مگر سچائی یہی ہے۔ یہ کام ’ریختہ‘ نے کر دکھایا ہے۔میرو غالب سے لے کر جون ایلیا تک کون سا بڑا یا پاپولر شاعر ہے جو ان دونوں خطوں میں موجود نہیں۔‘‘
اس ھوالے سے نارنگ صاحب نے بہت کھل کے فارسی رسم الخط کو ختم کرنے کی مخالفت کی تھی۔ انھوں نے اپنے مضمون ’’اردو رسم الخط: تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ‘‘ میں بہت اہم نکتہ اٹھایا تھا کہ اردو رسم الخط نے ایک ہی طرح کی اصوات کو مختلف اصوات میں تقسیم کرکے اصل میں ان ہم صوت لفظوں کو الگ کر رکھا ہے جو رسم الخط کے فرق سے ایک جیسے ہو جائیں گے ۔ویسے یہ عجیب بات ہے کہ بھارتی ریاستوں میں بولی جانی والی بنگلہ، کنڑا، ملیالم، تمل،گرومکھی کے رسم الخط جدا جدا ہیں۔ مگر ہندوستان میں بھی صرف ہندی اور اردو کے ضمن میں ایک رسم الخط کی بات کی جاتی ہے باقیوں کی نہیں۔
بہر حال صفدر رشید نے Learning Issues میں اردو زبان کے سیکھنے کے عمل کومشکل قرار دیا ہے جو انھوں نے وہاں عملی طور پر دیکھا۔ان کے نزدیک ہندی میں ایک خاص طرح کی آسانی ہے۔ اردو کا سارا رسم الخط’ چلن ‘کے فارمولے پر عمل کرتا ہے۔کسی غیر ملکی کے لیے اعراب کےبغیر اردو زبان کا سیکھنا بہت مشکل محسوس ہوتا ہے۔عملی طور پر ایسا کرنا مشکل ہے کیوں کہ اردو کا خط فارسی رسم الخط ہے جو عربی سے درآمد ہے۔ یوں اسے ختم کرنے کا مطلب ہے کہ عربی سے ایک فاصلہ قائم ہوا ہے، کیوں کہ ایک موقف یہ بھی ہے عربی خط کی وجہ سے اردو مذہبی زبان کا درجہ رکھتی ہے۔ صفدر رشید نے خود بھی اس نظریے کی اپنے’ مقدمے ‘میں ایک جگہ تائید کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’اردو، فارسی اور عربی مذہبی زبانیں بھی ہیں، اگر کوئی اسکالر دینیات، مذاہب کے تقابلی مطالعے یا اسلام پر کسی بھی حوالے سے کام کرنا چاہتا ہے تو ان تین زبانوں میں سے کم از کم ایک زبان پر مناسب دسترس ہونی چاہیے۔‘‘
اس اردو کے حوالے سے کچھ اور مسائل کا ذکر بھی بہت اہم ہے جو صفدر رشید نے اپنے’ مقدمے‘ میں کیا گیا ہے۔ خاص طور پر یہ دو دیکھیے:
۱۔’’طالب علموں کے لیے ذو لسانی لغات کی شدید کمی ہے۔ ان لغات میں اعراب کا خصوصی اہتمام ہونا چاہیے۔ بصورت دیگر یہ کارآمد نہ ہوگی۔‘‘
۲۔’’لائبریریوں میں ہندوستان اور پاکستان سے چھپی کتابوں کا ایک مناسب مواد موجود ہے مگر پاکستانی رسائل کی شدید کمی ہے۔ بھارت سے اردو رسائل کے تازہ شمارے دستیاب ہیں اگر صرف ڈاک خرچ بچانے کے لیے ہمارے ادارے جرائد نہیں بھیج پارہے تو کیا کہا جا سکتا ہے یہ تو مفت کی سفارت کاری ہے۔‘‘
اصل میں صفدر صاحب اُس کنکشن یا رابطہ پر زیادہ زور دے رہے ہیں جو ہماری طرف سے نہایت سست ، بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس ضمن میں لغات اور رسائل دو اہم رابطہ کار بن سکتے ہیں جن پر ان خصوصی نشستوں پر کام کرنے والے افراد کو توجہ دینی چاہیے جو یوروپی ممالک میں سفارت کار کے طور پر بھیجے جاتے ہیں۔
اس کتاب کی فہرست دیکھی جائے تو اس میں یورپ، امریکا اور جنوبی ایشیا کے ممتاز محققین، اساتذہ اور لسانیات کے ماہرین کے تفصیلی مکالمے شامل ہیں۔ یہ مکالمے اردو زبان، اردو تدریس پر مشتمل ہیں البتہ کہیں کہیں لسانی سیاست، مہاجرت، شناخت، ترجمہ اور تہذیبی روابط جیسے بڑے موضوعات کا بھی احاطہ کرتے ہیں۔جن ماہرین کے انٹرویوز لئے گئے ان میں :ڈاکٹر آنند مشرا، ڈاکٹر پنکج پراشر، گوتم لیو، ڈاکٹر ٹارسٹن چاخر،چیتی باسو، ڈاکٹرگائتری بیسٹا،ڈاکٹر ہانس ہارڈر،
، ڈاکٹر ہائنز ورنر ویسلر، ڈاکٹر عارف نقوی، ڈاکٹر کرسٹینا ، ڈاکٹر آریان ہوپف، ڈاکٹر شاہ زمان حق، صدف مرزا، ڈاکٹر محمد ریحان، رفاقت عباس، بشریٰ اقبال، امتہ المنان، امیل سیلیم باشارر، ایلف او جالمش، شاذ ملک، بینا گوئندی، ڈاکٹر تھامس ڈنہارٹ، ڈاکٹر فلپ، ڈاکٹر اینا ماریہ والٹر، ڈاکٹر راہول مکھرجی، ساندرایوسٹ، دنیا واسلے شامل ہیں۔ کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: ۱، اردو جوب ایشیائی تناظر، ۲،اردو مغربی تناظر اور ۳،مشرق ، مشرق ہے، نہ مغرب مغرب
ان میں زیادہ ہائیڈل برگ انسٹی ٹیوٹ کے سکالرز اور اساتذہ شامل ہیں۔ ہائیڈل برگ یونیورسٹی کا زبانوں کا یہ ادارہ جرمنی ہی نہیں بلکہ یوروپ کا بڑا ادارہ سمھا جاتا ہے۔
ان مکالمات میں جس چیز پر سب سے زیاہد فوکس دکھائی دیتا ہے وہ یہ ہے کہ یورپ میں اردو زبان کیسے پڑھائی جا رہی ہے اردو کے نصابات کیسے بنتے ہیں؟ کون سے ادارے اردو کے فروغ میں سرگرم ہیں اور اردو کے اساتذہ کن مسائل اور امکانات کا سامنا کرتے ہیں؟
کتاب : زبان اور تہذیب(جنوب ایشیائی اور مغربی تناظر)
ناشر: سنگِ میل پبلی کیشنز لاہور ۲۰۲۵
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں