اوڈ ٹو نائٹ اینگیل(Ode to nightingale)-علی عبداللہ

(یہ خطوط کا سلسلہ دراصل Ode to a Nightingale کی محض تشریح نہیں، بلکہ اس کے فکری، جمالیاتی اور وجودی مضمرات کے ساتھ ایک گہرا مکالمہ ہے، جس میں John Keats کی رومانوی حسّاسیت، انسانی فنائیت کا کرب، حسن کے فریب، اور شعور کے بوجھ جیسے بنیادی سوالات آہستہ آہستہ کھلتے چلے جاتے ہیں۔ عبداللہ اور اس کے دوست کے درمیان لکھے گئے یہ خطوط دراصل قاری کو بھی اس مکالمے میں شریک کرتے ہیں جہاں نظم ایک ادبی متن سے بڑھ کر ایک فکری تجربہ بن جاتی ہے۔ اس سلسلے کا مقصد صرف ایک نظم کو سمجھنا نہیں، بلکہ اس کے وسیلے سے انسان، اس کے شعور، اس کی خواہشِ فرار، اور اس کی ناگزیر واپسی کو سمجھنا ہے؛ یعنی ادب کو تفریح نہیں، خود آگہی کے ایک سنجیدہ وسیلے کے طور پر پیش کرنا۔)

خط اوّل: زہرہ کے نام

زہرہ!

آج میں نے ایک نظم پڑھی- پڑھ کر یوں محسوس ہوا جیسے میں کسی خاموش جنگل میں داخل ہو گیا ہوں- ایک ایسا جنگل جہاں ایک بلبل مسلسل گنگناتی ہے اور میں تھکا ہارا مسافر اس کی آواز میں اپنی شکستہ روح کو پناہ دیتا ہوں۔
معلوم ہے وہ نظم کون سی تھی؟ وہ Ode to a Nightingale تھی، جو میرے لیے صرف نظم نہیں، ایک بے نام فرار ہے- وقت، درد اور جسمانی قید سے باہر نکلنے کی ایک ناکام مگر حسین کوشش جیسی-
زہرہ، کیا واقعی حسن ہمیں لمحاتی نجات دیتا ہے، یا صرف غم کو اور زیادہ گہرا کر دیتا ہے؟
“My heart aches, and a drowsy numbness pains
My sense, as though of hemlock I had drunk”

عبداللہ

خط دوم: زہرہ کا جواب

عبداللہ!
آپ نے درست کہا، یہ نظم فرار کی خواہش ہے، مگر میں اسے صرف فرار نہیں سمجھتی۔ یہ شعور کا وہ لمحہ ہے جہاں انسان زندگی کی فنائیت کو پوری شدت سے محسوس کرتا ہے۔ نائٹ اینگیل کی آواز ازلی ہے، مگر شاعر خود فانی ہے۔ یہی تضاد اس نظم کو المیہ بناتا ہے۔
مجھے لگتا ہے جیسے یہ نظم ہمیں باور کروا رہی ہو کہ حسن ہمیشہ ہمیں نہیں بچاتا، کبھی کبھی ہمیں حقیقت سے اور زیادہ بے باک کر دیتا ہے۔
“Thou wast not born for death, immortal Bird!”

زہرہ

خط سوم: زہرہ کے نام

زہرہ!
تمہاری بات نے مجھے چونکا دیا ہے۔ میں نے اب نظم کو دوبارہ پڑھا- بلکہ یوں پڑھا کہ شاعر شراب کے جام کی تمنا محض نشہ کے لیے نہیں، بلکہ شعور کے بوجھ سے نجات کے لیے کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ وہ سوچنا ہی چھوڑ دے، کیونکہ سوچنا ہی اصل درد ہے۔
کیا یہ ہماری اپنی زندگیوں کا بھی نوحہ نہیں؟ ہم بھی تو اکثر حقیقت سے بھاگنے کے لیے کسی نہ کسی “نائٹ اینگیل” کی تلاش میں رہتے ہیں- کبھی کتاب، کبھی محبت، کبھی تنہائی؟
“Not charioted by Bacchus and his pards,
But on the viewless wings of Poesy,”

عبداللہ

خط چہارم: زہرہ کا جواب

عبداللہ!
بالکل! مگر یہاں ایک نکتہ اور بھی ہے؛ شاعر پرواز کرتا ہے، مگر جسم کے بغیر نہیں- وہ تخیل کے پروں سے اڑتا ہے، حقیقت کے پروں سے نہیں۔ اسی لیے آخر میں جب وہ واپس آتا ہے تو سوال بن جاتا ہے،
“Was it a vision, or a waking dream?”
یہ وہ جگہ ہے جہاں فن ہمیں مکمل نجات نہیں دیتا، صرف نجات کا ذائقہ چکھاتا ہے۔ اور شاید یہی فن کی سب سے بڑی سچائی ہے- وہ ہمیں بچاتا نہیں، ہمیں زیادہ زندہ کر دیتا ہے۔
Away! away! for I will fly to thee,”

زہرہ

خط پنجم: زہرہ کے نام

زہرہ!
اب میں اس نظم کو ایک آئینہ سمجھنے لگا ہوں- ایسا آئینہ جس میں انسان اپنی تھکن، اپنی خواہشِ فرار، اور اپنی ناگزیریت تینوں کو ایک ساتھ دیکھتا ہے۔ نائٹ اینگیل نہیں مرتی، مگر ہم مرتے ہیں۔ شاید اصل کرب یہی ہے کہ ہم لافانی آوازوں کو سنتے ہوئے بھی خود فانی رہتے ہیں۔
مجھے اب ایسا لگتا ہے کہ یہ نظم حسن کا نہیں، انسان کی کمزوری کا مرثیہ ہے- اور اسی کمزوری میں اس کی عظمت بھی پوشیدہ ہے۔
The voice I hear this passing night was heard
In ancient days by emperor and clown.”

عبداللہ

خط ششم: زہرہ کا جواب

عبداللہ!
آپ نے نظم کو “انسانی کمزوری کا مرثیہ” کہا ہے- یہ تعبیر مجھے بہت بامعنی لگی۔ مگر میں اس کمزوری کو محض عجز نہیں سمجھتی، بلکہ اسے انسانی شعور کی قیمت کہتی ہوں۔ نائٹ اینگیل کی آواز اس لیے ازلی معلوم ہوتی ہے کہ وہ سوال نہیں کرتی، جب کہ انسان ہر حسن کو سوال میں بدل دیتا ہے۔
شاید شاعر کا دکھ یہ نہیں کہ وہ فانی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ جانتا ہے کہ وہ فانی ہے۔ اور یہی علم اس کے سارے حسن کو زخمی کر دیتا ہے۔
“Now more than ever seems it rich to die,”

زہرہ

خط ہفتم: زہرہ کے نام

زہرہ!
تم نے “علمِ فنا” کی جو بات کی، اس نے مجھے دیر تک بے چین رکھا۔ میں نے سوچا، اگر نائٹ اینگیل بھی یہ جان لیتی کہ وہ ایک دن خاموش ہو جائے گی، تو کیا اس کی آواز میں بھی وہی ازلی سرشاری باقی رہتی؟
شاید اصل سانحہ موت نہیں، موت کا ادراک ہے۔ شاعر اسی ادراک سے بچنا چاہتا ہے، اسی لیے وہ آواز میں، رات میں، نیم بے ہوشی میں پناہ لیتا ہے۔
یوں لگتا ہے، یہ نظم صرف فطرت سے مکالمہ نہیں بلکہ یہ انسان کا اپنے شعور سے فرار ہے۔
“Where but to think is to be full of sorrow
And leaden-eyed despairs,”

عبداللہ

خط ہشتم: زہرہ کا جواب

عبداللہ!
آپ کی بات سے مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ نظم دراصل جمالیات اور وجودیت کے بیچ ایک باریک لکیر پر چلتی ہے۔ یہاں حسن کوئی سادہ نعمت نہیں، بلکہ ایک آزمائش ہے۔ شاعر جب کہتا ہے کہ وہ “Perilous seas” کی جانب اُڑ رہا ہے، تو دراصل وہ حسن کی انتہا تک جانا چاہتا ہے- وہاں جہاں سرشاری اور فنا ایک ہو جاتے ہیں۔
یہ رومانوی فرار نہیں، بلکہ شعور کی سرحد پر کھڑے ہو کر جھانکنے کی جرات ہے۔ اور ہر جرات کی طرح اس کی قیمت بھی واپسی ہے۔
Already with thee! tender is the night,”

زہرہ

خط نہم: زہرہ کے نام

زہرہ!
اب میں اس نظم کو پڑھتا ہوں تو مجھے یوں لگتا ہے جیسے شاعر زندگی سے زیادہ زندگی کو محسوس کرنے کی تھکن سے نجات چاہتا ہے۔ وہ جینا نہیں چھوڑنا چاہتا، وہ بس اتنا چاہتا ہے کہ زندگی اسے محسوس نہ ہو- کیونکہ احساس ہی بعض اوقات زخم بن جایا کرتا ہے۔
ہم سب بھی کہیں نہ کہیں اسی کیفیت سے گزرتے ہیں- ہم زندگی سے نہیں، اس کے وزن سے تھک جاتے ہیں۔ شاید اسی لیے نائٹ اینگیل کی بے فکری ہمیں اتنی مقدس لگتی ہے- وہ جیتی ہے، مگر زندگی کا بوجھ نہیں اٹھاتی۔
Now more than ever seems it rich to die,
To cease upon the midnight with no pain,”

عبداللہ

خط دہم: زہرہ کا جواب

عبداللہ!
آپ نے بہت گہری بات کہی، “زندگی نہیں، زندگی کا وزن تھکا دیتا ہے-” یہ جملہ خود ایک نظم ہے۔
اب مجھے یوں لگتا ہے کہ یہ پوری نظم ایک سوال پر ختم ہوتی ہے، کسی جواب پر نہیں۔
اور شاید یہی اس کی سب سے بڑی فکری عظمت ہے- یہ ہمیں تسلی نہیں دیتی، بلکہ ہمیں ہماری اصل حالت دکھا دیتی ہے- ہم وہ مخلوق ہیں جو گاتی ہوئی آوازوں سے محبت تو کرتی ہے، مگر خود مسلسل سوال میں مبتلا رہتی ہے۔
نائٹ اینگیل گاتی ہے، انسان سوچتا ہے۔ اور شاید اسی فرق کا نام انسان ہے۔
Was it a vision, or a waking dream?
Fled is that music: Do I wake or sleep?”

julia rana solicitors

زہرہ

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply