محبت کا اُلجھا ریشم ( ناول ) ۔۔۔۔۔ رضوانہ سیدعلی

(چندصفحات پیش ِ خدمت ہیں ۔ ناول ابھی زیر طبع ہے اس لیے جملہ حقوق بنام مصنف محفوظ ہیں ۔ )
زشرح قصہ ما، رفت خواب از چشم خوباں
شب آخر گشت، فسانہ در فسانہ می خیزد
ترجمہ : ہم اپنے قصے کی تفسیر کرنے بیٹھے تو حسینوں کی آنکھوں سے نیند اُڑ گئی ۔ رات ڈھلنے کو ہے پر افسانے سے افسانہ نکلا چلا آتا ہے

پہلا باب ( الجھے ریشم کا دوسرا سِرا )
جب میں نے اس دنیا میں آنکھ کھولی تو بیسویں صدی آدھی سے کچھ زیادہ گزر چکی تھی ۔ بہار کا موسم اپنے جوبن پہ تھا ۔ باغوں میں کوئلیں کُوکتی تھیں اور پپیہے پی کہاں پی کہاں کی رٹ لگائے ہوئے تھے ۔ دھرتی پھولوں کے گہنوں سے لدی عروس نو کی طرح سجی سنوری تھی ۔ ہواؤں میں خمار تو فضاؤں پہ نکھار تھا ۔ یہ البیلی رت ہر جاندار کے دل میں نئی امنگیں ، جذبے اور ولولے جگا رہی تھی اور لگتا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ زمانے پہ بھی یہی رُت طاری ہے کیونکہ انسان اور شیطان دونوں ہی خونخوار معرکے بپا کر کے تھک چکے تھے ۔ انسانوں نے دو عظیم جنگیں بُھگت لی تھیں اور اب مغربی اقوام اپنے زخموں پہ مرہم لگانے کے ساتھ ساتھ عام آدمی کو کچھ سُکھ چین دینے پہ آمادہ تھیں ۔ ایشیاء اور افریقہ کے گرد بُنے گئے استعماری جال ڈھیلے ہو کر چرمرا چکے تھے ۔ انہیں ان کے حال پہ چھوڑ کر اب استعماری قوتیں اپنے عوام کی فلاح کی طرف متوجہ تھیں ۔ عوام کا ذہنی شعور بلند کرنے کے لیے تعلیم عام کی جا رہی تھی ۔ چرچ کی جکڑ بندیوں کو توڑ کر علم ، سائنس اور ٹیکنالوجی میں یہ لوگ آگے ہی آگے جا رہے تھے ۔

ہمارا برصغیر جو ان لوگوں کے لیے سونے کی چڑیا تھا ، کے پر نوچے کھسوٹے جا چکے تھے ۔1857ء اور 1947ء کے بڑے سانحات میں ، آگ اور خون کے سمندروں میں ڈوب کر یہ پھر سے اُبھر آیا تھا ۔ ان بھیانک طوفانوں کی زَد میں آئے لوگ کسی نہ کسی صورت قرار پا چکے تھے ۔ انسانوں کو بہکا ، بھٹکا کر کِشت و خون کی دیوانگی کی طرف دھکیلنے والے شطونگڑے بھی شاید اپنے تماشوں سے خود ہی اکتا کر ظلمات کے اندھے غاروں میں اُتر کر اپنی تھکن مٹا رہے تھے ۔ سو دنیا کی کیفیت کچھ نرالے رنگ کی تھی ۔ ہر طرف سکون تھا ، امن کی باتیں تھیں ۔ فلم ، موسیقی، مصوری،آرٹ، ادب اور شاعری کے چرچے تھے ۔ میلوں ٹھیلوں اور سیر و تفریح کا دور دورہ تھا ۔ لوگ فلموں کے دیوانے اور آرٹ کے شیدائی تھے ۔ شاید وہ زندگی کے ہر لمحے سے لُطف کشید کر لینا چاہتے تھے ۔ فلمیں سینماؤں میں کئی کئی سال لگی رہتی تھیں ۔ ان کے گیت پہلے ہی ریڈیو سے نشر ہو کر مقبول ہو جاتے تھے ۔ فلمی ہیرو عام زندگی کے بھی ہیرو تھے کہ ہر کوئی ان پہ فدا تھا ۔ نوجوان بالوں کی لٹ ماتھے پہ بکھرائے ، گلے میں رومال باندھے ، سگرٹ کے دھوئیں سے چھلے بناتے گلی گلی گھومتے پھرتے تھے ۔ عورتیں بھی اس سحر سے محفوظ نہ تھیں ۔ گو ابھی برقعے میں ملفوف تھیں پر ان کے لیے فلموں کے خصوصی شو ہوتے تھے جنہیں دیکھنے وہ جوق در جوق آتی تھیں ۔ فلمساز ہر فلم کے اشتہار پہ ” خواتین کی اوّلین پسند ” لکھوانا نہ بھولتے تھے ۔ بظاہر گھروں سے اجازت نہ تھی پر باپ بھائی اور بیشتر عورتیں شوہروں سے بھی چُھپ چُھپا کر ، سہیلیوں سے ملنے یا درگاہوں اور میلاد پہ جانے کے بہانے اکثر فلمیں دیکھنے جاتی تھیں ۔

لڑکیوں کی تعلیم عام ہو رہی تھی ۔ سکولوں ، کالجوں میں مینا بازار منعقد ہوتے اور ان میں ناچ گانے اور ڈرامے لگتے جن میں طالبات بہت شوق سے حصہ لیتیں اور کچھ تعلیمی اداروں کے یہ سالانہ ثقافتی شو اس قدرمقبول ہوتے کہ خواتین مہنگے ٹکٹ خرید کر ان میں شرکت کرتیں ۔ بیشتر لڑکیاں کسی نہ کسی ہیرو کو آئیڈل مان کر اسکی فوٹو چھپائے پھرتیں اور ہیروئنوں کو کاپی کرنا بھی عام تھا ۔ ان کے زیورات و ملبوسات اور ہیر سٹائل اپنا نا، ان کی اداؤں اور اندازِ گفتگو کو اختیار کر لینا دستور سا بن چکا تھا ۔ نمائشیں ، تھیٹر اور سرکس بھی عوام کی توجہ اور تفریح کے مرکز تھے ۔

دنیا پہ بہار اور زمانے میں امن و سکون کے ساتھ ساتھ مجھے خوش قسمتی سے گھرانہ بھی ایسا ملا جو پیار و محبت اور امن و آشتی کا گہوارہ تھا ۔ بھائی جان اور میں چاند تاروں میں کھیلتے اور خوشیوں کے ہنڈولوں میں جھولتے تھے ۔ ابا کی دنیا کتابیں تھیں لیکن اپنی فیملی کا بھی خیال رکھتے تھے ۔ امی ابا سے عمر میں کم تھیں اور بہت شوخ چنچل اور ہنس مُکھ تھیں ۔ چُھٹی کے دن ابا ہمیں کہیں نہ کہیں سیر و  تفریح کے لیے لے جاتے ۔ لاہور ان دنوں سچ مچ لاہور تھا ۔ راوی ابھی ٹھاٹھیں مارتا تھا اور ہرے بھرے شاداب باغات اور تاریخی آثار و شواہد سے آراستہ لاہور کا حُسن لشکارے لیتا تھا ۔ چڑیا گھر اور عجائب گھر قابلِ دید تھے ۔ شاندار پرانی حویلیاں گلی گلی میں کھڑی تھیں ۔ صفائی ستھرائی کا نظام بھی قابلِ  داد تھا اور تو اور میو اور گنگا رام ہسپتال کا حسن ِانتظام اور صفائی بھی قابلِ رشک تھی ۔ نرسیں تو بالکل فلورنس نائٹ انگیل معلوم ہوتی تھیں ۔ ہماری معمولی سی تکالیف پہ بھی امی قریبی ہسپتال ہی جاتی تھیں جو گنگا رام تھا اور وہاں آؤٹ ڈور وارڈ میں شافی علاج ہوتا تھا ۔ ہر ہفتے سیر و تفریح پہ جانے سے ، ہم نے لاہور کا چپہ چپہ دیکھ لیا تھا ۔ اب ہم کسی نہ کسی باغ کا رخ کرنے لگے ۔ دوپہر کا کھانا امی گھر سے بنا کرلے جاتیں اور رات کا کھانا ابا ہمیں کسی ہوٹل سے کِھلاتے ۔ ان دنوں سالگرہ منانے کا رواج نہ تھا ۔ مگر ہمارے لیے تو یہ دن عید سے کم نہ ہوتا ۔ ہمیں امی ابا سے تحفے بھی ملتے اور ہم اس روز خوب سیرو تفریح کرتے ۔ اگر ابا کی دنیا کتابیں تھیں تو امی کے مشغلے فلم بینی اور درگاہوں پہ حاضری تھے ۔ نہ امی نے کبھی ابا پہ اعتراض کیا، نہ ابا نے امی پہ کوئی قدغن لگائی ۔ ہاں میرے نانا کو ابا کا کتابوں سے عشق ایک آنکھ نہ بھاتا تھا ۔ امی کے مشاغل کا انہیں پتہ ہی نہ تھا ۔ امی کو جس روز سہیلیوں کے ساتھ سینما جانا ہوتا وہ صبح ہی ابا کو بتا دیتیں ۔ اس روز ابا دفتر سے جلدی لوٹ آتے ۔ ہمارا خیال بھی رکھتے اور اگر اماں کو دیر ہو جاتی تو ہمیں کھانا بھی کھلا دیتے ۔ گھر آ کر امی انہیں فلم کی پوری روداد سناتیں ، وہ مسکراتے ہوئے سنتے رہتے ۔ خود انہوں نے کبھی سینما کا رخ نہ کیا ۔ ایک روز امی اپنی سہلیوں کے ساتھ کوئی فلم دیکھنے گئیں تو چھوٹے ماموں بھی دوستوں کے ساتھ پچھلی سیٹوں پہ آ بیٹھے ۔ امی نے ان کی آواز سنی تو روح فنا ہو گئی ۔ اصل خوف نانا کا تھا ۔ ساتھ والی سہیلی کو سرگوشی میں کہا کوئی میرا نام لے کر بات نہ کرے ۔ اس نے یہ پیغام باقیوں تک پہنچایا اور پھر امی وقفے میں اٹھ کر بھاگ آئیں ۔ ابا کو یہ روداد سنائی تو وہ خوب ہنسے ۔

کچھ عرصے بعد میرا چھوٹا بھائی احمر بھی دنیا میں آ گیا ۔ اب گھومنا پھرنا ذرا کم ہوا لیکن ہم گلی میں خوب کھیلتے ۔ ایسا بے فکری کا دور تھا کہ گھر کے دروازے ہمیشہ کُھلے رہتے ۔ ہمارا گھر ایک بڑی سی حویلی تھی جسے چار حصوں میں بانٹ دیا گیا تھا ۔ ایک میں مالک مکان خود رہتے تھے باقی کرایے پہ تھے ۔ ہم اوپر والے کافی کشادہ حصے میں رہتے تھے ۔ ہمارے گھر کا بڑا دروازہ رات کو بھی بند نہ ہوتا تھا اور میرا خیال ہے کہ شاید کسی حصے کا بھی نہ بند ہوتا ہو گا ۔ بس صدر دروازہ رات گئے مالک مکان خود بند کر دیتے اور نور کے تڑکے ہی کھول دیتے ۔ امی کُھلے دروازے چھوڑ کر حویلی کے کسی بھی حصّے میں گپ شپ کے لیے چلی جاتیں اور وہ لوگ ہمارے ہاں آتے ۔ سردیوں میں سبھی حصوں کی خواتین دھوپ سینکنے کے لیے چھتوں پہ آ بیٹھتیں اور نیچے دروازے کُھلے رہتے ۔ محلے بھر کے بچے کبھی ایک کبھی دوسرے گھر میں دھما چوکڑی مچاتے پھرتے ۔ پر انہیں سب کا سانجھا سمجھا جاتا ۔ جس گھر میں بچے جمع ہوتے وہاں کی ہر نعمت میں بچوں کا حق مقدم تھا ۔ رات گئے تک ہم گلی کے آخر میں واقع کھلے میدان میں خوب کھیلتے ، جب جی چاہتا مسجد کے کنویں سے ٹھنڈا پانی پیتے ۔ گلی کے بازار والے رُخ بھی ایک بہت خوبصورت مسجد تھی نیلےکام والی ٹائلوں سے سجی اس مسجد میں ہرے رنگ کا تالاب تھا ۔ جس میں سرخ مچھلیاں تیرتی پھرتیں ۔ ہمارا جب جی چاہتا اس تالاب کے کنارے بیٹھ کر مچھلیوں سے کھیلتے ۔ نہ کبھی کسی نے ٹوکا نہ ڈانٹا ڈپٹا ۔ روزانہ محلے کے دو تین گھر بچوں میں چیزیں بانٹتے ۔ جو بچے نہ آتے ان کا حصہ گھر پہنچ جاتا ۔ ہماری گلی آخر میں بل کھا کر میانی صاحب قبرستان کی طرف نکل جاتی ۔ اب تو وہ سکڑ کر کچھ بھی نہیں رہا ۔ اس وقت انتہائی وسیع تھا ۔ ہم وہاں بھی جا کر درختوں سےپھل توڑتے، جھاڑیوں سے پھول چنتے ۔ نہ کوئی ڈر نہ خوف ۔
ایک دن میں گھر سے کھیلنے نکلی تو بلو بھائی ایک کھمبے سے ٹیک لگائے کھڑے تھے ۔ مجھے دیکھتے ہی پیار سے آواز دی ۔ ” نمو بِٹیا ! ذرا میرا ایک کام تو کر دے ۔ میں نے خوشی خوشی حامی بھر لی ۔ بلو بھائی نے ایک گلابی لفافہ میرے ہاتھ تھمایا اور کہنے لگے ۔ ” جاؤ صفو باجی کو چپکے سے تھما آؤ اور کسی کو نہ بتانا ۔ نہ اب نہ بعد میں ۔ ” صفو باجی تو ویسے ہی ہم بچوں میں بہت مقبول تھیں ۔ میں ان کے گھر پہنچی تو اتفاق سے وہی نظر آئیں ۔ میں لفافہ انہیں تھما کر بھاگ آئی ۔ آنے والے دنوں میں ، میں جان گئی کہ محلے کے بیشتر بچوں کوا ن باجیوں اور بھائی جانوں نے اپنا قاصد بنا رکھا ہے ۔ بلکہ محلے کی باجیاں تو چھتوں پہ کھڑی ہو کر پیر بودے شاہ کے توسط سے منتیں مانگتیں اور پوری ہونے پہ ہم بچیوں کو میانی صاحب ، درگاہ پہ تیل چڑھانے بھیج دیتیں
دیکھتے ہی دیکھتے چٹھیاں وصولنے والی باجیوں کی شادیاں ہونے لگیں ۔ خط بھیجنے والے کچھ دن منہ لٹکائے پھرتے اور پھر نئی باجیاں تلاش کر لیتے ۔ اور پھر وہ سب بھی دلہنیں لے آئے پر میں نے کسی بھی خطوط کے تبادلے کرنے والے کی آپس میں شادی ہوتے نہ دیکھی

ایک طرف یہ سب تھا دوسری طرف ہماری پڑھائی لکھائی کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا ۔ اس وقت سکول جانے کی عمر پانچ سال تھی ۔ ابا نے اس سے پہلے ہی ہمیں پڑھائی لکھائی میں طاق کر دیا تھا ۔ ہمارے لیے کہانیوں کی کتابیں اور رسائل بھی آنے لگے تھے ۔ ان دنوں سرکاری سکول بہت شاندار تھے ۔ ہمیں بہت اچھے سکولوں میں داخلہ مل گیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے بھائی جان چَھٹی اور میں چوتھی جماعت میں آ گئے ۔ احمر پہلی میں تھا کہ ایک اور چھوٹا بھائی اصغر اور پھر بہن گڑیا نے گھر کی رونق بڑھا دی ۔ گڑیا چند ماہ کی تھی کہ ایک روز اجل نے ہمارا گھر دیکھ لیا اور ابا کو دبوچ کر چلتی بنی ۔ یہ موت سے میرا پہلا تعارف تھا ۔

( جاری ہے )

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *