کراچی، ماڈل شہر سے تباہ حال شہر تک کا سفرکہا جاتا ہے کبھی کہ دنیا کی خوبصورت شہروں میں ایک شہر کراچی بھی ہوا کرتے تھے، یہاں کی سڑکوں کو روز صبح سے دھویا کرتے تھے، ٹرام، ڈبل ڈیکر بسیں سرکولر ریلوے اس شہر کی پہچان تھی، شہر روشن صاف اور علم اور آدب کے محافل کا سماں ہوا کرتے تھے اور پاکستان کا معاشی دل اور زرعی شہر کراچی ایک ابھرتے ہوئے چاند کی طرح چمک رہا ہوتا تھا۔پھر اچانک اس شہر پر نظر لگ گئی فرقہ واریت لسانیت اور حکومتی بدانتظامی دیگر شہروں سے نقل مکانی اور جامع منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے اس شہر کی بنیادوں میں دیمک پڑنا شروع ہوگیا۔ ایسے میں اللہ بھلا کرکے سابق آمرجنرل مشرف کا جنہیں اپنے شہر کا خیال آیا اور کراچی کی اس سرنو تعمیر کیلئے عزم نو کی۔ یہ بھی کراچی کی خوش قسمتی تھی کہ ان کے دور میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ مرحوم جیسے دیانتدار شخصیت کو میئر کراچی بننے کا موقع ملا۔ نعمت اللہ خان جیسے وسیع سوچ اور بلند نطریہ رکھنے والے رہنما نے شہر کو ایک نئی جہت دی، جسے بعد میں مصطفیٰ کمال نے مزید بلندیوں پر پہنچایا۔ مگر بدقسمتی سے، پیپلز پارٹی کی نام نہاد جمہوریت اور وڈیرہ شاہی نے سب کچھ روند ڈالا۔ کرپشن کی لہریں، خراب بنیادی ڈھانچہ اور بدانتظامی نے اس شہر کو ایک ویرانے اور کھنڈرات میں تبدیل کرکے پورے نظام کو وڈیرہ سسٹم کے ماتحت کردیا جہاں جمہوریت کے نام پر سوائے کرپشن من مانی اقرباء پروری، نسل پرستی لسانیت کے علاؤہ کچھ نہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اس بدقسمت شہر کی فٹ پاتھ مافیا کے ہاتھوں محفوظ نہیں ۔ نعمت اللہ خان مرحوم، 2001 سے 2005 تک کراچی کے بطور ناظم (میئر) ان کے دور میں شہر میں ایک ایسا انقلاب دیکھا جو آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ تعمیر کراچی پروگرام کے تحت انہوں نے 29 ارب روپے کا پیکج حاصل کیا، جس سے شہر کی تعمیر نو کا آغاز ہوا۔ ان کے دور میں 18 فلائی اوورز، 6 انڈر پاسز سڑکوں کی بحالی اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری یہ سب ان کی کاوشوں کا نتیجہ تھا۔ ان کی محنت اتنی گہری تھی کہ 2005 میں انہیں ورلڈ میئر ایوارڈ کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا، اور 2008 میں فارن پالیسی میگزین نے انہیں دنیا کے دوسرے بہترین میئر کا خطاب دیا۔ نعمت اللہ خان نے کراچی کو ایک جدید شہر کی شکل دی، جہاں ٹریفک کی روانی اور صفائی ایک معمول بن گئی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب کراچی کی گلیوں میں لوگ مسکرا رہے تھے، اور شہر کی معیشت تیزی سے ترقی پا رہی تھی۔ نعمت اللہ خان کے بعد مصطفیٰ کمال نے 2005 سے 2010 تک میئر کا عہدہ سنبھالا تو اُنہوں نے بھی کراچی کو ایک عالمی شہر بنانے کی کوشش کی۔ ان کے دور میں 30 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری ہوئی، جس سے لیاری ایکسپریس وے، سگنل فری کوریڈورز اور گرین کراچی پروجیکٹ جیسے منصوبے مکمل ہوئے پانی کی فلٹریشن پلانٹس، بسوں کا نظام، پارکس اور کھیلوں کے میدان یہ سب کراچی کی زندگی کو آسان بنانے والے اقدامات تھے وائرلیس ویڈیو سرویلنس سسٹم نے شہر کی سیکیورٹی کو مضبوط کیا، جبکہ آئی اون کراچی انیشیٹو نے ماحولیاتی مسائل کو حل کرنے کی بنیاد رکھی۔مصطفیٰ کمال کی کارکردگی اتنی شاندار تھی کہ انہیں بھی دنیا کے بہترین میئرز میں شمار کیا گیا۔ ان کے دور میں کراچی کی معیشت نے 7 فیصد کی شرح سے ترقی کی، اور شہر ایک زندہ دل مقام بن گیا۔ آج بدقسمتی سے معمولی بارش کا پانی سڑکوں پر جمع ہو جاتا ہے پورا نظام مفلوج ہو جاتا ہے ۔ جب 2008 میں پیپلز پارٹی کی وڈیرہ شاہی نے سندھ میں اقتدار سنبھالا۔ ان کی 15 سالہ حکمرانی نے کراچی کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ کرپشن کی داستانیں تو اتنی ہیں کہ کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ شہر میں بلدیاتی نظام مفلوج ہوچکی ہے، بجلی ناپید ہو گیا ہے گیس کی لوڈ شیڈنگ بھی معمول بن گیا ہے حب ڈیم بھری ہوئی ہے لیکن عوام کو پانی مہنگے داموں خریدنا پڑتا ہے، کراچی کا اہم اور قدیم تجارتی مراکز جوڑیا بازار اور بولٹن مارکیٹ بھی بدترین لوڈ شیڈنگ کی زد میں ہے اس سے اندازہ لگائیں کہ اورنگی،ملیر،کورنگی اور لیاری ، بھینس کالونی ، مچھر کالونی اور نیو کراچی جیسے علاقوں کے لوگ کس طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہونگے۔ یونیورسٹی روڈ اور کریم آباد انڈر پاس اس جماعت کا وہ شاہکار ہے جس کو لیکر پورا کراچی پریشان ہے لیکن کام مکمل ہونے کا کچھ معلوم نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی میں عام طور پر تاثر یہ ہے کہ صوبہ سندھ میں جمہوریت نہیں، بلکہ لوٹ مار کی حکمرانی ہے اور زرداری سسٹم نے پورے نظام کو دبوچ رکھا ہے۔ جس کی وجہ سے پاکستان کا دل کراچی کو بدانتظامی، غنڈہ گردی اور انفراسٹرکچر کی تباہی کا شکار ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ اس شہر کو کیسے بچایا جائے؟ بحالی کے لیے ایک جامع پلان درکار ہے، جو مقامی حکومت کو مضبوط کرے اور وفاقی وسائل کو شہر کی طرف موڑے اور کراچی کی مقامی حکومت کو خودمختار بنائیں اور شہر کو موٹروے سے لنک کرنے کیلئے کراچی سے لیکر سکھر تک ہنگامی بنیاد پر موٹروے بنائیں اور شہر میں داخلی طور شاہراہ فیصل، شاہراہ پاکستان کورنگی روڈ ایم اے جناح روڈ جیسے قدیم سڑکوں کی ہنگامی توسیع کریں شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی اور ضرورت کے حساب سے لین میں اضافہ کریں۔ صرف ای چالان متعارف کرانے سے شہر کے مسائل حل نہیں ہونگے کیونکہ شہر میں دو لین کی سڑکوں پر چار لیکن کا ٹریفک چلتا ہے ۔اسی طرح بی آر ٹی ریڈ لائن اور یلو لائن جیسے پروجیکٹس کو تیز کرنے کی ضرورت ہے اور کراچی سرکولر ریلوے کی قدیم لائنوں کو بحال کرکے شہر بھر میں غیر معیاری بسوں کی سروسز پر فوری پابندی عائد کرنا چاہیے۔ نکاسی آب کا نظام جدید بنائیں نالوں کی ماہوار صفائی اور ڈرینینگ سسٹم کی فعالیت کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت تاکہ بارشوں میں شہر نہ ڈوبے۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بارشوں کے بعد ندی نالے بھر جاتے ہیں اور تمام تر غلاظت بارش کی پانی میں شامل ہوکر پورے شہر میں پھیل جاتا ہے جس سے نہ صرف شہر میں آلودگی پیدا ہوتا ہے بلکہ مختلف قسم کی بیماریاں بھی عام ہو جاتی ہے۔ اگر معاشی بحالی کی بات کریں تو اس وقت کراچی تاجروں کو تمام قسم کی سہولیات کا شدید فقدان ہے جس میں اہم ترین بجلی کی مسلسل اور طویل غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ہے جس نے کراچی میں نہ صرف عوام کو جینا دوبھر کر رکھا ہے بلکہ تاجر برادری پریشان ہے لیکن اس اہم معاملے پر صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت یا تو کے الیکٹرک کے آگے بے بس نظر آتا ہے یا ایک نجی کمپنی کو جان بوجھ کر کراچی پر مسلط کرکے اس شہر میں کاروبار کا ستیاناس کرنے کیلئے کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے۔ تمام تجارتی مراکز کے سامنے صفائی کا ناقص نظام پارکینگ مافیا کی بدمعاشیاں پولیس والوں ان عناصر کی پشت پناہی شہری حکومت کی آنکھوں کے سامنے ہوریا ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی کو اسپیشل اکنامک زون بنائیں، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کریں، اور ٹریفک، سیوریج اور سڑکوں کی مرمت پر فوری بجٹ مختص کریں۔ کیونکہ کراچی صرف ایک شہر نہیں، پاکستان کی شریان غریبوں کی ماں ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں