لفظ، خیال اور خوشبو/ڈاکٹر اظہر وحید

لفظ، خیال اور خوشبو/لاہور گیریژن یونیورسٹی کے حلقہِ ادب (بک کلب) کی جانب سے ایک دعوت نامہ موصول ہوا۔ نوجوان لکھاری فہد خورشید یہ دعوت نامہ لے کر کلینک پہنچا اور بتایا کہ آپ وہاں مہمانِ خصوصی کے طور پر مدعو ہیں۔ قبل ازیں یہ ’’تلاش‘‘ کے عنوان سے ایک شارٹ فلم بھی بنا چکے ہیں۔ اس کا کچھ حصہ انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ حضرت واصف علی واصفؒ کے مزار پر عکسبند کیا تھا، اور کچھ شارٹ ’’درِ احساس لائبریری‘‘ میں فلمائے تھے۔ فہد خورشید نے بتایا کہ اس تقریب میں سیّد نورالحسن بھی مہمانِ خصوصی کے طور پر مدعو ہیں۔ ہم نے پوچھا: بھئی مہمانِ خصوصی تو ہم ہو گئے، پر وہاں کریں گے گیا؟ گلدستہ وصول کرنے، فوٹو سیشن اور پھر انعامات کی تقسیم کے علاوہ ہمیں کیا کرنا ہو گا: کہنے لگا کہ دس منٹ کا ایک مختصر خطاب بھی آپ کے ذمہ ہے۔
بہرصورت جمعہ کا ایک چمکدار دن تھا۔ کلینک میں جمعہ کے روز چھٹی کیے رکھتا ہوں، ویسے تو سبق یاد کرنے والے کو کبھی چھٹی نہیں ملتی، پر ہمارا سبق ابھی ادھورا ہے شاید، اس لیے جمعہ کا دن چھٹی کا اعلان کر رکھا ہے، یوں یہ جمعہ کا دن ایسی تقریبات کے لیے ہمیں بھلا معلوم ہوتا ہے۔ فہد نے بتایا کہ آپ دو بجے بھی پہنچ جائیں تو ٹھیک ہے، جمعہ کی نماز کے بعد آ جائیں، وگرنہ اوقاتِ کار کے مطابق جمعہ وہاں پڑھنا تھا۔ میں اس رعایت پر بہت متشکر ہوا۔ دراصل والد گرامی کو جمعہ پڑھانے کی ذمہ داری میری ہوا کرتی ہے، یوں یہ ذمہ داری پوری کرنے کا وقت بھی مل گیا۔ گوگل میپ سے راستہ ڈھونڈنے اوررنگ روڈ پر گاڑی ڈرائیو کرنا میرے لیے بہت مشکل کام ہوا کرتا ہے۔ چنانچہ اس مشکل کو آسان کرنے کے لیے چھوٹے بیٹے ڈاکٹر عبداللہ کو ہمراہ کر لیا۔ ابھی روانہ ہونے لگے تھے کہ میری پیاری بھتیجی زینب علی، او لیول کی طالبہ، سکول سے واپس آ چکی تھی، اسے پیشکش کی، وہ بھی ہمراہ ہو لی۔ یونیورسٹی کے گیٹ پر طلبا اور اساتذہ نے بھرپور استقبال کیا۔ زینب علی اپنے بڑے بابا کی پذیرائی دیکھ کر کچھ حیران بھی ہوئی۔ چھوٹے بھائی کے بچے مجھے بڑے بابا کہتے ہیں، اپنے ابا کو بابا کہتے ہیں۔ یہ میں نے ان سے خود کہلوایا ہے۔ تایا ابو کہلوانے کی بجائے اس لفظ میں اپنائیت زیادہ ہے۔ میں نے اسے کہا: دیکھا زینب! گھر سے باہر تو آپ کے بڑے بابا کی کافی عزت ہے۔ گھر کی خیر ہے!! یہ سن کر زینب بے اختیار مسکرائی۔ بچوں کی ایسی بے ساختہ مسکراہٹ بہت قیمتی ہوتی ہے۔
ہم بھی تاخیر سے پہنچے اور تقریب بھی قدرے تاخیر سے شروع ہوئی۔ وقت کی پابندی بھی ایفائے عہد میں آتی ہے۔ صرف ایک تقریب سے مخصوص
نہیں، یہ مجموعی رویوں کا روناہے۔ وعدہ بھی لفظ ہوتا ہے اور لفظ بھی ایک وعدہ ہوتا ہے۔ ہم لفظوں اور وعدوں کی قدر نہیں کرتے۔ لفظ اور معانی کا رشتہ بہت مقدس ہے۔ لفظ اور لفظ کہنے والے کا رشتہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ لفظ کی تقدیس، انسان کی تقدیس ہے۔ کسی کے لفظ کی قدر نہ کرنا، اس پر اعتبار نہ کرنا، اس کی توہین ہے۔ کسی کو وقت دے کر بروقت نہ پہنچنا بھی اس کی ناقدری میں شمار ہوتا ہے۔ وقت کی پابندی نہ کرنا، ایک طرح سے وعدہ خلافی کے زمرے میں آتا ہے۔ حیرت ہے، ہمیں دن میں پانچ وقت انتہائی باقاعدگی سے آذان دے کر وقت کی پابندی کا سبق دیا جاتا ہے۔ ہم اس کی پروا نہیں کرتے۔ زندگی میں بے قاعدہ ہو کر ہم بے فائدہ ہو گئے ہیں۔ ہم نے نماز بھی قضا کر دی اور زندگی بھی۔ صبح شام ہم سوٹڈ بوٹڈ لوگوں سے جھڑکیاں کھانے والا یہ ’’مولوی‘‘ کس قدر وقت کا پابند ہے۔ کسی یورپین گورے سے زیادہ باقاعدہ اور Punctual ہے، یہ چند منٹ کے لیے بھی کبھی لیٹ نہیں ہوا۔ سال کے بارہ مہینے اس نے کبھی آذان لیٹ نہیں کی۔ یہ ہفتہ وار چھٹی بھی نہیں کرتا، کوئی گزٹڈ ہالیڈے بھی انجوائے نہیں کرتا، اور تو اور، کبھی بیماری یا اتفاقیہ رخصت کی درخواست بھی نہیں دیتا۔ حیف! ہم اپنے ہاں بلاطلب میسر بہت سی نعمتوں کی ناقدری کی طرح اس نعمت کی ناقدری کے بھی مرتکب ہوتے ہیں۔ ’’نزلہ بر عضوِ ضعیف‘‘ ہماری ساری اجمتاعی فرسٹریشن کا نشانہ پھر یہی مولوی بنتا ہے … مولوی جاہل ہے، مولوی نے قوم کو جاہل بنا رکھا ہے، مولوی یہ اور مولوی وہ۔ ٹرینڈ سیٹنگ فیکٹرز تو دولت اور منصب ہوا کرتا ہیں۔ مولوی کے پاس دولت ہے، نہ کوئی سرکاری منصب، پھر بھی قوم اگر راہِ راست پر نہیں تو اس کا ذمہ دار یہی مولوی؟۔
بات لفظ اور اس کی حرمت سے شروع ہوئی تھی۔ لفظ اور معانی کا رشتہ لفظ بولنے والے کے کردار سے واضح ہوتا ہے۔ اگر کردار کمزور پڑ جائے تو لفظ کا اپنے معانی کے ساتھ رشتہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ لفظ اپنی اصل ہیئت میں ایک علامت کے طور پر کام کرتا ہے۔ شاہراہوں پر بڑے بڑے شہروں کی طرف جانے والے راستوں کی سمتیں بتانے کے لیے تیروں کے نشان کی علامت لگائی جاتی ہیں۔ ذرا غور کریں، اگر کوئی ان علامتوں کا رخ تبدیل کر دے تو کتنے مسافر اپنی منزل سے دور ہو جائیں گے۔ وہ سمجھیں گے، ہم اسلام آباد کی طرف جا رہے ہیں، دراں حالے کہ وہ اسلام اور اسلام آباد سے دور اور شاہراہِ دستور سے ہمیشہ کی طرح بدستور دور جا رہے ہوں گے۔
سچ … لفظوں کا پاس ہی تو ہے، اور جھوٹ لفظوں سے بے وفائی کی داستان۔ سچ بولنا اور سچ سننا … اس میں نقصان یہ ہوتا ہے کہ آپ کا کلام مختصر ہونے لگتا ہے، اور سامعین مختصر ترین۔ بس! سچ بولتے بولتے انسان تنہا رہ جاتا ہے … اور پھر واحد ہو جاتا ہے۔ ہم کلام ہونے کے لیے اس کے اپنی ذات بچتی یا پھر ذاتِ حق!
لفظ اور اس کی بُنَت اہم نہیں، بلکہ لفظ کے پس پشت خیال اہم ہے۔ خیال خوشبودار ہو تو لفظ از خود خوشبو دینے لگتا ہے۔ خوشبودار خیال وادیٔ اخلاص کا ایک جھونکا ہوتا ہے۔ اخلاص کی وادی میں قدم رکھنے کی ہمت کہاں سے لائیں؟ … اخلاص اپنے مفاد اور مزاج کی نفی کا نام ہے … ہم مفاد کی نفی کرنے کا یارا نہیں رکھتے، کجا یہ کہ اپنے مزاج سے بھی دستبردار ہو جائیں … اپنی پسند اور ناپسند سے مستعفی ہو کر مخلوقِ خدا سے میل جول رکھیں … یہ کب اور کیسے ممکن ہے؟ … اس کے لیے کسی خوشبودار انسان کو ڈھونڈنا ہو گا۔ یہ راز اس سے دریافت کرنا ہو گا جو یہ راز دریافت کر چکا ہے۔
وہ لفظ خوشبودار ہوتا جو کسی مظلوم کی حمایت میں بولا جاتا ہے، لکھا جاتا ہے۔ وہ لفظ جو کسی طاقتور کے قصیدے میں شامل ہوتا ہے، بساند دینے لگتا ہے۔ اس لفظ کی خوشبو تا دیر قائم رہتی ہے جو کسی اخلاقی ضابطے کا نصاب ہوتا ہے۔ وہ لفظ کاغذی پھول کی طرح خوشبو سے محروم ہوتا ہے جو دنیاوی اور کاروباری ضابطے قلم بند کرتا ہے۔ کاروبارِ گلشن قلم بند کرنے والے الفاظ اور ہوتے ہیں اور گلشنِ کاروبار کے بہی کھاتے لکھنے والے الفاظ اور۔ یہ فیصلہ کرنا دشوار ہے کہ لفظ اور خیال انسان کو خوشبودار کرتے ہیں یا انسان کے دم سے لفظ اور خیال خوشبودار ہوتا ہے۔
مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں: کلام کے پیچھے کلیم کی شخصیت ہوتی ہے؛ تصنیف اپنے مصنف کی وجہ سے مقبول ہوتی ہے۔ آپؒ یہ بھی فرمایا کرتے: ہم پہلے بندہ پسند کرتے ہیں، پھر اس کے کام پسند کرتے ہیں۔ گویا پہلے بندہ قبول ہوتا ہے، پھر اس کے کام قبول اور مقبول کیے جاتے ہیں۔
لفظ، خیال اور خوشبو کا دائرہ انسان کے گرد طواف کرتا ہے۔ انسان مرکز نگاہِ خالق ہے۔ خالق کی نظر میں معتبر ہونا چاہتے ہیں تو انسان کی قدر کریں … وہ لفظ، خیال اور خوشبو سے پذیرائی کرے گا۔
سب سے زیادہ خوشبودار الفاظ اس ہستی کے ہیں … جس کا وعدہ سچا ہے، جو صادق الوعد الامین ہے … جس کے دم میں لفظ اور انسان معبتر ہوئے۔ اعتبارِ ہستی اسی ذات سے قائم جسے انسانِ کاملؐ کہا گیا۔ کائنات کی روشنی اور خوشبو اسی ذات کے دم بدم ہیں جسے خالقِ کائنات نے سِراجً مّْنیرا کہا ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ نے چھوٹی بحر کے اس شعر میں قلزم کی سی بڑی گہری بات کہہ دی:
روشنی، کائنات کی خوشبو
چار سُو حسنِ ذات کی خوشبو

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply