• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • عمران خان کی مخالفت میں عزتِ ناموسِ کی پامالی اور  میڈیا کا شرمناک کردار /شیر علی انجم

عمران خان کی مخالفت میں عزتِ ناموسِ کی پامالی اور  میڈیا کا شرمناک کردار /شیر علی انجم

عمران خان کی مخالفت میں عزتِ ناموسِ کی پامالی اور  میڈیا کا شرمناک کردارصحافت کا بنیادی مقصد سچ، حقائق اور اصلیت کو بغیر کسی ڈر کے لوگوں تک پہنچانا ہوتا ہے اور اسی کا نام آزادی اظہار رائے ہے، مضبوطی کی علامت ہے اور غیر جانبداری کا تقاضا کرتی ہے۔ ایک صحافی کسی سیاسی فائدے کا غلام نہیں ہوتا، نہ ہی کسی کاروباری دباؤ کا شکار، نہ کسی مذہبی جنون کا اسیر اور نہ ہی کسی ذاتی دشمنی کا قیدی۔ وہ سب کی بات سنتا ہے، سب کا نقطہ نظر پیش کرتا ہے اور خبر میں اپنی ذاتی رائے شامل نہیں کرتا۔ صحافت، لوگوں کی خدمت ہے، رازداری کا احترام ہے اور عوام کے فائدے کے لیے طاقتور لوگوں پر نظر رکھنے کا ذریعہ ہے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج کل پاکستانی میڈیا ان تمام اصولوں کو بھلا چکا ہے۔ حکومت کی باتوں کو سچ بنا کر گھنٹوں تک نشر کرنا، مخالف آوازوں کو دبانا اور لوگوں کی کردار کشی کرنا اب عام سی بات ہوگئی ہے ۔ یہ وہی میڈیا ہے جو کبھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر چیختا تھا۔ آج جب پاکستان تحریک انصاف پر ظلم ہو رہا ہے تو سب خاموش ہیں۔ یاد کریں 2014 میں ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے کا وقت۔ جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں پنجاب پولیس نے منہاج القرآن کے مرکز پر حملہ کیا، لاٹھیاں چلائیں، گولیاں برسائیں اور بہت سی خواتین سمیت کئی لوگ مارے گئے تو میڈیا نے بڑا شور مچایا تھا۔ آج وہی پارٹی حکومت میں ہے اور تحریک انصاف کی خواتین پر ویسا ہی ظلم ہو رہا ہے، لیکن میڈیا چپ چاپ ہے۔
ایک تجزیہ نگار نے سوشل میڈیا پر صحیح کہا کہ دنیا پاکستان کو شرم سے دیکھ رہی ہے۔ ایک آدمی جس نے لندن کی عدالت میں جمائما سے طلاق کے وقت کہا تھا کہ میں پاکستان نہیں چھوڑ سکتا اور ایک ارب ڈالر کی پیشکش بھی ٹھکرا دی، آج اسے گھڑی چوری جیسے جھوٹے الزام میں جیل میں رکھا گیا ہے۔ وہ عمران خان جو کبھی کرپشن کے خلاف لڑ رہا تھا، آج اس کی پارٹی سے انتخابی نشان چھین لیا گیا۔ لوگوں نے گاجر، مولی، چمچ، چھری، جوتا، ٹرالی اور ٹریکٹر جیسے عجیب نشانوں پر مہریں لگا کر عمران خان کے امیدواروں کو باری اکثریت سے جتایا، لیکن فارم 47 کے ذریعے یہ جیت ہار میں بدل دی گئی۔ المیے کی بات ہے اور شرم کا مقام ہے کہ سیاسی انتقام اس قدر نفرت میں بدل گیا کہ خواتین کو بھی نہیں چھوڑا گیا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی عمر رسیدہ خاتون جو کینسر جیسی خطرناک بیماری سے لڑ رہی ہیں، جیل میں تکلیف اٹھا رہی ہیں۔ عمران خان کی بہنوں پر حملے، ذاتی زندگیوں کی بے حرمتی، خواتین کو گھسیٹ کر گاڑیوں میں ڈالنا، یہ سب کچھ ہو رہا ہے لیکن میڈیا آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔ مولانا طارق جمیل نے ٹھیک کہا کہ عدت اور حیض جیسے ذاتی معاملات بھی عدالتوں اور میڈیا میں زیر بحث لائے جا رہے ہیں۔ بشریٰ بی بی کے نجی معاملات کو قومی مسئلہ بنا کر دکھایا جا رہا ہے، لیکن کوئی بھی کچھ نہیں کہہ رہا۔ یہ وہی مسلم لیگ (ن) ہے جس کی تاریخ میں عورتوں کے خلاف بہت کچھ ہے۔ خواجہ آصف نے اسمبلی میں شہید بینظیر بھٹو کو ہیلی ٹیکسی کہہ کر ان کی توہین کی تھی۔ نواز شریف نے 1990 میں عورت کی حکمرانی کو غلط ثابت کرنے کے لیے مولویوں سے فتوے لیے تھے۔ مادر جمہوریت نصرت بھٹو کی کردار کشی کی گئی، شہید بینظیر بھٹو پر ہیلی کاپٹر سے برہنہ تصاویر پھینکی گئیں۔ آج وہی پارٹی تحریک انصاف کی خواتین کی عزتوں کو پامال کر رہی ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی جو جمہوریت، انسانی حقوق اور سیاسی رواداری کی باتیں کرتی ہے، چپ چاپ حکومت کی ہاں میں ہاں ملا رہی ہے۔ سابق جسٹس منصور علی شاہ کی ایک ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اب سول سوسائٹی ختم ہو چکی ہے، اس لیے کوئی بھی احتجاج کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ جب اداروں پر دباؤ ہو، ججز کو دھمکیاں ملیں، وکلا کو اغوا کیا جائے اور میڈیا حکومت کی ترجمانی کرے تو جمہوریت کیسے زندہ رہ سکتی ہے؟ آج پاکستان ایک مشکل وقت سے گزر رہا ہے۔ اگر ذاتی زندگیوں کی حرمت، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کو سیاسی انتقام کی نظر کر دیا گیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ صحافت کو اپنا فرض ادا کرنا ہوگا، سول سوسائٹی کو جاگنا ہوگا اور عوام کو اپنی آواز اٹھانی ہوگی۔ عمران خان کی کوششیں دراصل پاکستان کی آزادی، قانون کی حکمرانی اور لوگوں کی عزت کی جنگ ہے۔ اس جنگ میں خاموش رہنا ظلم میں ساتھ دینے کے برابر ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان میں سیاسی مخالفت کے نام پر لوگوں کی ذاتی زندگیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ فاطمہ جناح کو ایوب خان کے دور میں غدار کہا گیا اور ان کی کردار کشی کی گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی اور ان کے خاندان کو بدنام کیا گیا۔ بینظیر بھٹو کی تصاویر اور ویڈیوز کو غلط طریقے سے استعمال کیا گیا۔ آج عمران خان اور ان کی پارٹی کے ساتھ جو ہو رہا ہے، وہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنے گریبان میں جھانکیں اور دیکھیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ کیا ہم ایک ایسے معاشرے میں رہنا چاہتے ہیں جہاں کسی کی عزت محفوظ نہ ہو، جہاں قانون کی کوئی قدر نہ ہو اور جہاں طاقتور لوگ کمزوروں پر ظلم کرتے رہیں؟ اگر آپکا جواب نفی میں ہے تو عوام کو اٹھ کھڑا ہونا ہوگا اور ان تمام لوگوں کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی جو پاکستان کو اس راستے پر لے جا رہے ہیں۔ یہ ایک مشکل جنگ ہے، لیکن یہ ایک ایسی جنگ ہے جسے عوام جیتنا ہوگا۔ یہ جنگ پاکستان کے مستقبل کی جنگ ہے، یہ جنگ آنے والی نسلوں کی جنگ ہے۔ اگر آج ہمت ہار دی تو ہماری آنے والی نسلیں آپکو کبھی معاف نہیں کریں گی۔ آئیے ہم عہد کریں کہ ہم پاکستان کو ایک ایسا ملک بنائیں گے جہاں ہر شخص کی عزت محفوظ ہو، جہاں قانون کی حکمرانی ہو اور جہاں ہر شخص کو انصاف ملے۔

Facebook Comments

شیر علی انجم
مصنف بینکاری کے شعبے سے وابستہ ہیں اور معیشت و بین الاقوامی امور اور مسلہ کشمیر، گلگت بلتستان کے مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply