ڈی کنسٹرکشن، تصوف اور فاشزم۔۔۔۔۔ عمران شاہد بھنڈر

ستر کی دہائی سے اب تک لاتشکیل کے حوالے سے جو تجزیے سامنے آئے ہیں ، ان کے مطالعے کے بعد لاتشکیل فلسفے کے قاری کے لیے کوئی ایسا معمہ نہیں رہی کہ جس کے مرکزی خیال تک رسائی حاصل نہ کی جاسکے۔ جونہی اس کے مرکزی خیال تک رسائی حاصل کی جاتی ہے تو ساتھ ہی انسانی و اخلاقی اقدار کی ’نفی‘ کا نکتہ بھی عیاں ہوتا ہے۔اس’ نفی‘ کی نوعیت ایسی ہے کہ اس میں اثبات کا لمحہ کہیں بھی جنم نہیں لیتا۔

حقیقی سماجی عمل میں طبقات کے مابین افتراق کی سطحوں میں عدم امتیاز کے رجحان نے اقدار کے سوال کو مسلسل ’نفی‘ کے عمل کی وجہ سے اس حد تک مبہم اور ناقابلِ شناخت بنادیا ہے کہ انسانی و اخلاقی عمل کے کسی بھی تصور کا جنم لینا ناقابلِ عمل دکھائی دیتا ہے۔مغربی متصوفانہ فکر میں اس آخری ’اثبات‘ کے لیے ’نفی‘ کا تسلسل اسے بنیاد پرستی کی سطح تک لے آتا ہے، انسانوں کے مابین حقیقی امتیازات کی سطحوں کا تعین کیے بغیر انسانی و اخلاقی اقدار کی’ نفی‘ کا قضیہ لاتشکیل ہی کی طرح فسطائیت کی حدوں کو چھونے لگتا ہے۔فلسفیانہ حوالوں سے لاتشکیل اور تصوف کے درمیان فرق بنیادی نوعیت کا ہے۔ لاتشکیل میں فلسفیانہ مقولات کی ساختیاتی تشکیل کا عمل ابتدا میں واقع ہوتا ہے۔ یعنی ’اثبات‘ محض اس کی ساختیاتی ازسرِ نو’’ تشکیل‘‘ کی خاطر ہے، اس کے بعد اثبات کا لمحہ کہیں بھی نہیں ہے۔

متصوفانہ فکر میں ’اثبات‘ کا لمحہ آغاز میں نہیں بلکہ آخر میں واقع ہوتا ہے۔ اس سے قبل کا منظر مسلسل نفی سے عبارت ہے۔ لاتشکیل کے مطابق ہر طرح کی اقدار، جن کی شکست و ریخت درکار ہے انہیں مقتدر طبقے سے منسوب کیا جاتا ہے۔ لہذا اس اعتبار سے یہ مقتدر طبقات کو قبول نہیں ہے۔تاہم اس میں مضمر اقدار کے درمیان عدم امتیاز کا پہلو ان تمام انسانی اورا خلاقی اصولوں کا انہدام بھی ہے، جن کی لازمیت کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ان کا استرداد فسطائیت میں پناہ لینے کے مترادف ہے۔ مقتدر طبقے کو اقدار کے کلی’’ انہدام‘‘ کی وجہ سے ’لاتشکیل‘ کی ضرورت محسوس ہوئی، وجہ یہ کہ اقدار کی تشکیل و لاتشکیل سرمائے کی اپنی سرشت سے ہم آہنگ ہے۔ اقدار کے مابین اس عدم افتراقی نکتے کی وجہ سے لاتشکیل مقتدر طبقے کو ان کی پالیسیوں کو جاری رکھنے کا جواز فراہم کرتی ہے۔ متصوفانہ فکر میں نام نہاد ’’اعلیٰ سچائی‘‘ کی جستجو کی خاطر نفی کا تسلسل ان انسانی و اخلاقی اقدار کی نفی سے عبارت ہے، جن میں افلاطون کے ’اعیان‘ کی پختگی نہیں مگر کسی حقیقی کشمکش کے دوران کسی ایک لمحے میں ’’قدر‘‘ کے سوال کو نظر انداز کرنا ہی ایک ایسا پہلو ہے جو متصوفانہ فکر میں فسطائیت کے عناصر کو جنم دیتا ہے۔ اگر ہم حقیقی دنیاوی عمل پر یقین رکھتے ہیں تو ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہے کہ کوئی بھی قدر حتمی نہیں ہے۔ ہر قدر کا کوئی نہ کوئی مافیہا ہوتا ہے۔ اس کے مطابق ہی کوئی ’قدر‘ متشکل ہونے کے عمل سے گزرتی ہے۔لہذا تغیر و تبدل مادی دنیا کی ایسی خصوصیت ہے جو اقدار کے جمود کو توڑتی ہے۔

متصوفانہ فکر میں مادی دنیا کی سچائی کو تسلیم نہیں کیا جاتا، وجہ اس کی یہ ہے کہ مادے کو عدم وجود کے مماثل قرار دیا جاتا ہے۔ یعنی مادی دنیا کو باطل گردانا جاتا ہے۔ تغیر چونکہ مادی دنیا کی سچائی ہے، جو جمود سے متضاد ہے اس لیے تغیر کو غیر حقیقی سمجھا جاتا ہے۔ دلیل یہ ہے کہ اس میں استقلال نہیں ہے۔ متصوفانہ فکر کے تحت ظلم و تشدد اور دہشت گردی وغیرہ’’کائناتی بگاڑ‘‘ کا نتیجہ گردانا جاتا ہے، جس سے کائنات کی وحدت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے، یعنی ماورائیت ہر طرح کے ’بگاڑ‘ کے اثرات سے ماورا ہے ۔ ماورائیت کے مفہوم میں انصاف بحیثیت ایک قدر ایک مستقل اورشناخت رکھتی ہے، جسے حقیقی دنیاوی عمل کے ’بگاڑ‘ سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میرا مؤقف یہ ہے کہ حقیقی سماجی عمل میں ’انصاف‘ ایک ایسی قدر ہے جس کو ماورائی تناظر میں ایک ایسی قدر کے روپ میں دیکھنا درست نہیں جس کی شناخت کسی جامد فلسفے سے متعین کی جائے، نہ ہی اسے’اعیان‘ سے متعین کرنا صحیح ہے، اس قدر کا تعین متغیر مافیہا کی بنیاد پر ہونے کا مطلب اس جمود کا خاتمہ ہے، جو مثالیت کی نمائندگی کرتا ہے۔

حقیقی عمل میں متصوفانہ فکر کی بنیاد اس نفی پر ہے جس میں جامد اور متغیر ’اقدر‘ کو متعین تصور کرتے ہوئے مسترد کردیا گیا ہے۔میرے خیال میں متصوفانہ فکر میں مضمر مذکورہ عناصر کی بناء پر اسے فسطائیت اور دہشت سے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ متصوفانہ فکر دہشت و بربریت اور استحصال کو غیر حقیقی گردانتی ہوئی مسترد کرتی ہے۔حقیقی سماجی عمل سے ماخوذ اقدار ، اچھائی، نیکی یا خیر کے حوالے سے خواہ کسی بھی سطح پر عمل آرا ہوں، ان کے ’’روح‘‘ پر اثرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔جب مادے کا روح میں داخل ہونا ناممکن ہے، جب مادے کو ماورائی عقلی اصولوں کا ایسا تخالف اور متضاد پہلو اور ’’باطل کا مسکن‘‘ قرار دے دیا جائے، جس کے ’’روح‘‘ پر اثرات کا امکان تک نہیں تو مادے سے متعلق کسی بھی قدر کے روح پر اثرات کا مرتسم ہونے کو کیسے قبول کیا جاسکتا ہے؟

اسی لیے متصوفانہ فکر مادی دنیا کو غیر حقیقی سمجھتی ہوئی باطل قرار دیتی ہے۔ متصوفانہ فکر میں باطل کو حقیقی عمل کے غلط بنیادوں پر استوار ہونے کا نتیجہ قرار نہیں دیا جاتا، بلکہ غلط عمل کو حقیقی دنیا کی خصوصیت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔اس میں کشمکش سے اعلیٰ اقدار اور نظام کے حصول کی کوشش کو مسترد کردیا جاتا ہے۔ متصوفانہ فکر میں مادی دنیا سے کشمکش کے بعد اس پر غالب آنا ممکن نہیں، بلکہ اس پر غالب آنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ خود کو اس سے الگ کرلیا جائے۔فلاطینوس کے مطابق’’مادے میں داخل ہوکر اس کی اصلاح کرنا ایک بہت ہی ہلاکت خیز مغالطہ ہے‘‘ لہذا یہا ں پر متصوفانہ فکر دہشت کا ساتھ دیتی ہے۔ دہشت کو سماجی عمل کے بگاڑ کا نتیجہ قرار نہیں دیتی، اسے مادی دنیا کی ازلی و ابدی خصوصیت قرار دیتی ہوئی اس سے منہ موڑنے کا درس دیتی ہے ۔یہی پہلو ایسا ہے جو نہ صرف مذاہبِ عالم کی نفی کرتا ہے، بلکہ انسان اور دنیا سے متعلق ہر قسم کے سچ کی بھی نفی کرتا ہے۔ متصوفانہ فکر میں اس حقیقی دنیا کی ذلت آمیز منظر کشی کی گئی ہے جس میں ہم زندگی بسر کرتے ہیں، جسے رہنے کے قابل بنانا ہمارا اولین مقصد ہے۔

سامراجی یلغار کا ایک پہلو تصوف کی اشاعت کرکے لوگوں کے اذہان سے اس فوقیتی ترتیب کے خیال کو محو کرنا ہے، جس کو میرے نزدیک جمود کے برعکس اس کے تغیر میں دیکھنا اس لیے لازمی ہے، تاکہ انسانی و اخلاقی اقدار کا قضیہ کسی نہ کسی متغیر مفہوم میں معنی پاسکے، بجائے اس کے کہ اسے ہر قدر سے محروم کرکے فسطائیت کو فروغ کے لیے استعمال کیا جائے۔ فسطائیت سے میری مراد محض مرکزیت کے فلسفے کے تحت جنم لینے والے تخالف کے پہلو کو حقیقی تخالف قرار دیتے ہوئے خود میں ضم کرلینے سے نہیں ہے۔ میرے خیال میں مرکزیت سے انحراف کرتے ہوئے تخالف اور مرکزیت سے منسلک اقدار کو ان مقولات کے تحت دیکھ کر ان کا کوئی مفہوم تشکیل دینا ہے، جن کو مرکزی حیثیت میں ریاست اور غیر مرکزی حیثیت میں اس کے مخالفین استعمال کرتے ہیں۔ یعنی ریاست اور تخالف دونوں ایک ہی مقولے کے تحت فسطائی قرار دیے جاسکتے ہیں۔

لاتشکیل حقیقی دنیا کو واہمہ قرار نہیں دیتی۔ لاتشکیل فلسفیانہ تعقلات کو حقیقی دنیا کو سمجھنے کے لیے ناکافی قرار دیتی ہے۔ تاریخی عمل کے تسلسل کی افادیت کو حقیقی گردانتے ہوئے ان تعقلات میں مضمر خلا کی نشاندہی کرتی ہے، جن کی ’موجودگی‘ کو بگاڑ کا باعث قرار دیا جاسکتا ہے۔لاتشکیل کا مقصد اس ہےئتی عقلیت کو مسترد کرنا ہے جو اپنی معذوری کو تسلیم کرنے سے منکر ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اس معذوری کو دیکھنے سے بھی معذور ہے۔ لہذا لاتشکیلی پروجیکٹ کانٹ سے مارکس اور بیسویں صدی میں لوکاش اور اڈورنو کے فلسفوں کا تسلسل ہے۔تاہم لاتشکیل میں ان عوامل کی قلت ہے، جو خلا کو پُر کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ اس قلت کو محض ہےئتی عقلیت ہی سے منسوب کردینا درست نہیں ہے، اگر اس خلا کو پُر نہیں کیا جاتا تو اگلی سطح پر یہ فقدان لاتشکیل میں مضمر ان مقولات کی معذوری سے عبارت ہے جو اگلے مرحلے پر کچھ بھی تجویز کرنے سے قاصر ہیں۔

دریدا نے ’’تحریر اور افتراق‘‘ میں ’’آزادانہ کھیل کے عمل‘‘ کو ’’بے معنوی کھیل‘‘ سے تعبیر کیا ہے (ص،۲۶۰)۔ ’’بے معنویت‘‘ کا یہ عمل ’نفی‘ کو بنیاد پرستی کی حد تک لے جانے سے عبارت ہے۔’’بے معنوی کھیل ‘‘ بلاتفریق نفی کا نتیجہ ہے۔لہذا اس عمل میں مابعد الطبیعاتی عمل کی عکاسی کرتی ہوئی ان اقدار کی نفی لازمی ہے جو فلاطینوس کے متصوفانہ فلسفے میں اثباتی لمحے کو ’اثبات‘ ہونے کا جواز فراہم کرتی ہیں۔ حقیقی سماجی عمل میں مسلسل نفی پر اصرار کرنے سے مقتدر طبقے کو ایسا جواز فراہم کردیا جاتا ہے کہ جہاں پر غلط اور صحیح، سچ اور جھوٹ، نیک و بد کی تفریق ختم ہوجاتی ہے۔یہی لاتشکیل کا المیہ یہ ہے کہ اس میں ’نفی‘ کا مقولہ بیک وقت بورژوازی اور پرولتاریہ کے وجود پر یلغار کرتا ہے۔جہاں بورژوازی کا فوق تجربی سبجیکٹ لاتشکیل کا ہدف ہے تو وہاں پرولتاریہ بطور تاریخ کا سبجیکٹ بھی لاتشکیل کی زد پر رہتا ہے۔ ڈی کنسٹرکشن کی بطور تھیوری تشکیل میں مارکسزم کی وہ جہت بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے، جو سوویت یونین میں ناکام ہوئی۔ روس میں سٹالن ازم کا انہدام ، روشن خیالی پروجیکٹ کا پہلی اور دوسری جنگِ عظیم میں برباد ہوجانا اور ہولوکاسٹ کے واقعہ کو ہیگلیائی ’’کلیت پسندی‘‘ کا لازمی نتیجہ قرار دینا مابعد جدیدیت کی تشکیل کے بنیادی محرکات ہیں۔ تاہم ڈی کنسٹرکشن کے لیے کسی ایسی ’موجودگی‘ کا وجود برداشت کرنا ہی ناممکن ہے جو خود کی مرکزیت کے تصور کو ’جائز‘ سمجھے، وجہ یہ کہ مرکزیت کا تصور جب بھی تشکیل پاتا ہے تو وہ محض ایک مجہول تصور نہیں ہوتا، بلکہ اقدار کی فوقیتی ترتیب پر ایک مکمل فلسفیانہ ’نظام‘ کی تشکیل کرتا ہے۔

ڈی کنسٹرکشن جب فوق تجربی مرکزیت کو چیلنج کرتی ہے تو ان تمام اقدار کو بھی مسترد کرتی ہے جو اس ’مرکزیت‘ کی بنیاد پر قائم ہوتی ہیں۔ ڈی کنسٹرکشن پر میرے کئی بنیادی اعتراضات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس میں مظلوم، مقہور، استحصال زدہ کو ظالم سے نجات دلانے کا کوئی عملی طریقہ تجویز نہیں کیا جاتا۔یہی نکتہ ہے جہاں ڈی کنسٹرکشن فسطائیت سے ہم آہنگ ہوجاتی ہے۔

عمران شاھد بھنڈر انگلینڈ میں مقیم ہیں۔ آپ دانشور، استاد، فلسفی اور اقبال سے خاص التفات رکھتے ہیں۔ 

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *