ادب کی دنیا میں بعض اصناف وقت کے ساتھ بوسیدہ نہیں ہوتیں، بلکہ ہر عہد میں نیا بدن، نیا لباس اور نیا لہجہ لے کر دوبارہ زندہ ہو جاتی ہیں۔ رباعی بھی ایسی ہی صنف ہے! چھوٹی، مگر صدیوں کی دانش اپنے اندر سمیٹے ہوئے۔ محمد نصیر زند ہ صاحب کا کمال یہ ہے کہ عصرِ حاضر میں پھر سے رباعی کو ایک جیتی جاگتی کردار بنا کر پیش کیا ہے، جو محض الفاظ کی ترتیب نہیں بلکہ بدلتے زمانوں کے احساس اور فکری ارتقا کی علامت ہے۔
میں بلا مبالغہ کہتا ہوں کہ رباعی فی زمانہ “زندہ کے در کی باندی” ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ ادب ہمیشہ اپنے خالق کا مقروض رہتا ہے۔ شاعر کا در وہ مقام ہے جہاں الفاظ عقیدت کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں، اور ہنر کا لمس انہیں زندگی عطا کرتا ہے۔ یہی زندگی ہے جس کے بارے میں کہتا ہوں کہ پاکستان جیسے کمرشل ادبی ماحول میں بھی رباعی کو” زندہ سے نئی زندگی مل گئی “گویا رباعی محض کہی نہیں گئی، لگتا ہے دوبارہ پیدا ہوئی ہے۔
محمد نصیر زندہ صاحب کے بود و باش کے علاقہ پوٹھوہار کو سمجھیں تو رباعی کے لیے کوئی زیادہ مانوس سرزمین نہیں رہی ہے۔ اور پھر رباعی کی پرانی وضع قطع اور حالت کو دیکھیں تو رباعی کہیں کتابوں میں دبی پڑی تھی، سوئی ہوئی، جیسے تاریخ کے ورق پر ایک بھولی بسری خوشبو۔ مگر ہر عہد اپنا درد رکھتا ہے، اپنی صدا اور اپنی صداقت۔ جب زمانہ بدلا، رباعی نے بھی عہدِ نو کا درد اوڑھ کر کھڑا ہونا سیکھ لیا۔ وہ نئی حقیقتوں کی ترجمان بن کر سامنے آئی، اور اس کا بدن ایک نئی تپش سے روشن ہوا۔
محمد نصیر زندہ صاحب کا کمال یہ ہے کہ وہ محبوب کی زلف اور زمانے کی تلخی کا امیج نہایت فنکارانہ مہارت سے برت جاتے ہیں۔ گویا رباعی ایک معشوق بھی ہے، جس کے شباب میں تازگی ہے، اور ایک آئینہ بھی ہے، جو دنیا کی کڑواہٹ کو اپنے لہجے میں ڈھال کر قاری کے سامنے رکھتا ہے۔ اس کا لبادہ اگرچہ رنگین ہے، مگر اس کے کردار میں پِنہاں صداقت اور خاموشی کی تہہ موجود ہے، وہ حسن بھی ہے اور دانش بھی۔
میں جب اُن کی شخصیت و فن پر غور کرتا ہوں تو ایک عجیب و شاندار منظر ذہن میں ابھرتا ہے۔ کیونکہ وہ ہمارے عہد کا ایک زندہ مفکر و مستانہ رباعی گو شاعر ہے جوا پنے علاقائی پس منظر سے یوں لگتا ہے کہ پہاڑوں سے اترا ہے۔ یہ منظر صرف فطری نہیں، روحانی بھی ہے۔ جیسے کوئی رشی، کوئی درویش، کوئی فکری مجاہد۔ اور رباعی اس کے ساتھ “پاروتی” بن کر چلتی ہے—یعنی فکر کی شریکِ سفر، درد کی ہمراز، اور تخلیق کی ساتھی۔ میری تشبیہ رباعی کو ایک روحانی تقدس عطا کرتی ہے، جو صرف مشقِ سخن سے نہیں ملتا، بلکہ دل کے سوز اور نظر کی گہرائی سے جاگتا ہے۔
آخر میں ، میں استاد محمد نصیر زندہ صاحب سے جن سے میری کوئی ملاقات نہیں ہوئی سواۓ کلام کے اور گوگل پر ان کے شہر کلر سیداں سے 4،825 کلومیڑز دور سے مخاطب ہوں، کہ یہ محض عقیدت نہیں بلکہ آپ کے فن کی وراثت کا اعتراف ہے، آپ نے تو عشق و مستی والی رباعی سے اپنے عہد کا درد و فکر بانٹ کر اسے ایک نیا لہجہ، ایک نیا رنگ دیا ہے۔ اور یہ سب آپ کا کمال بھی ہے۔ اگرچہ ہر استاد اگلی نسلوں میں اپنے اثرات منتقل کرتا ہے، آپ بھی رباعی کی بحیثیت ِ استاد روشن روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں جو قابل ستائش و لائق تحسین عمل ہے۔ رباعی کی یہ نئی روح،
” اے شاعرِ نصیرِ و زندہ—زندہ بادی ترے سنگ ہو گئی۔”
آسان لفظوں میں آپ کے نام کے موافق ویسے بھی بحیثیت ایک استاد شاعر (احساس کرنے والا ) وہ شخص جو احساس کو لفظوں میں ڈھالنے کی مہارت رکھتا ہو۔ اور جو دکھ، خوشی، درد، عشق، حیات اور کائنات کو فن کی زبان دیتا ہو اور سب سے بڑھ کر اپنے دور کا ترجمان ہو جو زمہ داری آپ کما حقہ پوری کر رہے ہیں،
“نصیر” (مدد کرنے اور سہارا دینے والا) ادبی لحاظ سے وہ انسان جو ایک علم یا فن کی بقا کا محافظ ہو۔ اور نام کی نسبت سے کہوں گا کہ بزرگ کہا کرتے تھے ” نصیر” ایسا شخص ہوتا ہے : جو دل کو سہارا دے، راستہ دکھائے، اور مشکل میں اٹھا لے۔ آپ دوسروں کا درد بانٹ کر اور معاشرے کے کرب کی عکاسی کرکے یہ کام بخوبی کر رہے ہیں۔
“زندہ” (جاندار، متحرک، موجود، قائم۔) وہ شخص یا فن جو تازہ، مؤثر، متحرک، روشن اور فعال ہو۔ صرف جسمانی طور پر نہیں، بلکہ خیال اور وجدان میں تازہ ہوتا ہے۔ آپ کا تخلص کا انتخاب بھی حیرت کردہ ہے۔ کیونکہ “زندہ” وہ بھی ہے جس کا اثر مرنے کے بعد بھی قائم رہے۔ معانی عرق ریزی کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ فن میں “زندہ” ہونا بھی کمال ہے کہ ایسا شاعر جو اپنے عہد کی دھڑکن سے جڑا ہو، وقت سے آگے دیکھتا ہو، اور
مسلسل تخلیق میں باقی رہنا۔
رباعی کی نئی روح استاد زندہ کے ساتھ جڑ کر زندہ اور تابناک ہو گئی ہے۔
رباعیات : محمد نصیر زندہ
اپنا پہلو بدل کے دیکھا میں نے
سائے سے پرے اچھل کےدیکھامیں نے
پیچھے تھا خیال بھر تماشا میرا
خود سے آگے نکل کے دیکھا میں نے
تصویر میں شمعِ آرزو رقص کرے
آوازِرنگ چار سو رقص کرے
آسودہء نقش دیدہء راز کا خواب
کوئی دیکھے تو کوبکو رقص کرے
دریا میں ناچتا ہے مینا میرا
قطرے میں دم بھرتا ہے دریا میرا
میں آئنہء حسن میں ہوں عکسِ نمود
ہوتا ہے حسینوں میں تماشا میرا
ہم رنگِ طرب غم آفریں ملتے ہیں
تن سے خالی بھی کچھ حسیں ملتے ہیں
تصویر کا ملبوس اتر جاتا ہے
رقص اور رقاصہ جب کہیں ملتے ہیں
سازینہء موجِ آرزو تیز کرو
رفتارِ خرامِ آب جو تیز کرو
ہانکو سوئے فلک گماں کے ریوڑ
اے شمس گرو رقصِ سبو تیز کرو
شب پوش حسیں بال بکھیرے کھڑے ہیں
مصلوب ستاروں میں سویرے کھڑے ہیں
گھر کا رستہ بھول گیا ہے ہر چاند
سورج کے سائے میں اندھیرے کھڑے ہیں
عزت کو جگہ حسبِ گماں ملتی نہیں
مل جائے اگر جائے اماں ملتی نہیں
یاروں نے جھوٹ کی دکاں کھولی ہے
اس شہر میں اب سچ کو زباں ملتی نہیں
شہنائی میں آنسو رکھ دیئے ہیں میں نے
آواز میں جگنو رکھ دیئے ہیں میں نے
پہلو میں حسینہء غزل ناچتی ہے
الفاظ میں گھنگھرو رکھ دیئے ہیں میں نے
———- زندہ باد، زندہ باد——–
اللہ آپ کے فکر و فن میں اور اضافہ کرے۔ آمین
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں