الفاظ کی کثرت، معنی کی قلت اور فکر کا افلاس /مرزا بشارت

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے بات چیت کا ماحول ختم کر دیا ہے اور یہ ہماری لیاقت یا دانست سے نہیں بلکہ ہماری انانیت کی وجہ سے ہوا ہے۔ ہمارے اہلِ علم ابھی تک فراخ دل اور بردبار نہیں ہو سکے۔ اہلِ علم کی کسی گروہ سے وابستگی نہیں ہونی چاہیے، ان کی دلچسپی صرف حقائق اور واقعات کے ساتھ ہونی چاہیے۔ جب وہ نمائندگی کے منصب پر بیٹھ کر بات کرتے ہیں تو ان کا پھیلایا ہوا غلط زیادہ تیزی سے رائج ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ طالب علمانہ گفتگو کرتے ہیں وہ کسی کی ترجمانی نہیں کر رہے ہوتے، وہ صرف اپنی بات کر رہے ہوتے ہیں اور اسے سننے میں کوئی حرج نہیں۔ اگر کسی اچھی بات کو پنپنے کی فضا دی جائے تو وہ پھیل سکتی ہے اور مزید لوگ اس کا حصہ بن سکتے ہیں۔
ہمارے ہاں بہت سی باتیں اصل میں سیاسی ہوتی ہیں لیکن انہیں مذہبی یا اعتقادی حدود میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ ہر سوال کا جواب مذہبی انداز میں یا تعلیمات کے مطابق ہی دینا چاہیے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مذہب اپنی پوری توانائی کے ساتھ ہمارے ہاں موجود ہی نہیں۔ ہماری ذاتی خواہشات کچھ بھی ہوں لیکن ہمیں اپنے آس پاس موجود آلاتِ فکر کی حقیقت کا اعتبار ضرور کرنا چاہیے۔ ان ضروریات کو فاضل یا غیر ضروری نہیں کہا جا سکتا جنہوں نے لوگوں کو بے چین کر رکھا ہے۔
ہماری ایک بڑی غلطی اصرار اور تکرار ہے۔ بات کو ایک بار مکمل طور پر کہنا چاہیے۔ جب آپ نے کوئی بات کہہ دی، تو آپ کی ذمہ داری پوری ہو گئی۔ اسے بار بار دہرانے سے بات کی شان اور تاثیر ختم ہو جاتی ہے۔ اگر دہرانا ضروری ہو تو پیرایہ بدل دیا جائے۔ اگر بیان کی پیچیدگی کی وجہ سے بات صحیح نہ پہنچ سکی ہو تو اسے زیادہ واضح طور پر کہنا چاہیے مگر بلاوجہ اسے طویل نہ کیا جائے۔ بات جتنی بھاری ہو ، اس کی پرواز اتنی کم ہو جاتی ہے۔ کوئی بات کہنے سے پہلے اسے درست طور پر متعین کرنا چاہیے پھر جتنی ضرورت ہو اتنا ہی کہنا چاہیے۔ معنی کو حد سے زیادہ پھیلانے والے آخرکار بری طرح ماخوذ ہو جاتے ہیں۔
اہلِ علم عموماً نااہلوں سے بات کرتے ہیں، عامیوں سے نہیں۔ عامیوں سے بات کرنے والا اکثر خجل ہوتا ہے۔ اہلِ علم کے مخاطب ہمیشہ اہلِ علم ہی ہوتے ہیں۔ عامیوں سے علمی خطاب نہیں ہوتا، انہیں حسن عمل، حسن اخلاق اور بہتر مقاصد کی طرف دعوت دی جا سکتی ہے۔عامی نہ کتابیں پڑھتے ہیں نہ علمی باتوں کا پس منظر جانتے ہیں۔ ان کے لیے ذرائع ابلاغ ہیں جو تمثیلات میں پیغامات نشر کرتے ہیں۔ لہٰذا اہلِ علم کو بات واضح طور پر کہنی چاہیے، کیونکہ ان کے مخاطبین وضاحت چاہتے ہیں۔
الفاظ مترادف نہیں ہوتے، ہر لفظ کا اپنا ایک مفہوم ہوتا ہے۔ ہمیں اپنی بات مختصر الفاظ میں کہنی چاہیے۔ ہم لوگوں کو لغت نہیں سکھا رہے، ہم انہیں مفاہیم دے رہے ہیں۔ زبان میں تکلف اور تصنع بھی ایک عیب ہے۔ زبان بذاتِ خود ایک صنعت ہے۔ بات کو غیرضروری طور پر مشکل الفاظ میں بیان کرنا بڑی بات نہیں، یہ ایک مسئلہ ہے۔ بعض اوقات ایسا کرنا ناگزیر ہو تو اور بات لیکن جان بوجھ کر مشکل الفاظ فٹ کرنا خوبی نہیں۔ جو بات سادہ طور پر کہی جا سکتی ہے اسے مشکل بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ زبان علم نہیں، علم کے ابلاغ کا ذریعہ ہے۔ اگر زبان زندہ نہ رہے تو خیال اور فکر کو ہلاک کر دیتی ہے۔
اہلِ علم کی خدمت یہ ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی دریافتوں کا عصارہ ہمیں دیں۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ تفصیلات سے واقف ہوتے ہیں اور اسی مالداری کی وجہ سے اہلِ علم سمجھے جاتے ہیں۔ ہمیں علمی مصطلحات اور تاریخی کوائف سے زیادہ مطالعے کے عملی نتائج کی ضرورت ہے۔ مشکل زبان اور پیچیدہ اندازِ بیان کلام کا سقم شمار ہوتا ہے۔ آرائشِ کلام فسق نہیں، لیکن نیتا ً آرائش مطلوب نہیں ہوتی۔ آگاہوں کو مغز اور مفہوم سے غرض ہوتی ہے، نہ کہ لفظی نمائش سے۔
ہمارے پاس دستیاب کوائف کبھی مکمل نہیں ہوتے اور یہ اصولاً درست ہے، کیونکہ کسی بھی ڈیٹا میں مستقبل شامل نہیں ہوتا۔ یہی کمی ہمارے ذہنی رشد کے آفاق کھلے رکھتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے درمیان ہر عہد میں ایسے کم رس لوگ موجود رہے ہیں جنہیں حجت ہونے کا مغالطہ لگا رہتا ہے۔ ان کی وجہ سے قومی سطح پر نقصان ہوا ہے۔ کسی ایک شخص کی حساسیت کو پیمانہ بنا دینا غیر فطری بھی ہے اور مخدوش بھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان کے قائم کردہ لوازم کی سختی جتنی خطرناک بتائی گئی، کبھی اتنی مہلک ثابت نہیں ہوئی۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ جہاں کہیں چند آوازیں فطری آزادیوں کی بات کر رہی ہوں، ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
کوئی شخص اتنا ہی بڑا ہوتا ہے جتنا بڑا اس کا عہد ہوتا ہے۔ کسی کا محض اتفاقاً اپنے عہد سے بڑا ہوجانا بھی اسے عملاً تنہا کھڑا ہونے پر مجبور کرتا ہے، لیکن ایسی مثالیں کم ہیں۔ وہاں بھی شخصیت کی بڑائی کو ارتباط کے بنیادی کردار سے الگ نہیں سمجھا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم میں کوئی بھی پچاس سال کا پیدا نہیں ہوا؛ ہر کوئی اپنے عہد کی اولاد ہے اور اسی کے رجحانات سے مالا مال ہے۔ اگر ابتدائی طور پر ہم اپنی مجموعی کمزوری کو قبول کر لیں تو تبدیلی اور شخصیت پذیری کے مراحل میں داخل ہو سکتےہیں۔ شاید ہمیں انتظار کرنا چاہیے اور زیادہ دیانت اور استقامت کے ساتھ عمل و ردِعمل کا آغاز کرنا چاہیے۔
ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ ہماری دانش ورانہ سطح کے مطابق ہماری استعدادِ کار نہیں بڑھ رہی۔ بڑے لوگ بڑے ادوار پیدا کرتے تھے، بڑی مہمات اختیار کرتے تھے۔ اب بڑی ایجادات اور صنعتوں کی خاطر انسان کے حجم کو چھوٹا کیا گیا ہے۔ سرمایہ ایسے انسان چاہتا ہے جس کا آسانی سے بندوبست کیا جا سکے۔ برسوں پہلے ایک ناراض نوجوان نے کہا تھا کہ جب ایک شخص بگڑتا ہے تو پچاس لوگوں کے لیے مسئلہ بن جاتا ہے۔ ہم میں سنورے ہوئے لوگ ضرور بہت ہیں، مگر انہوں نے کوئی بڑا فرق پیدا نہیں کیا۔ یہ سوچنے کی بات ہے۔
ہمارے ہاں غیر ہموار آراء کو برداشت کرنے کا رواج نہیں۔ اس لیے میں کسی کو یہ نہیں کہتا کہ آپ غلط ہیں، بلکہ کہتا ہوں کہ میں آپ کی بات سمجھ نہیں سکا۔ کسی کا عیب بتانا اچھی بات نہیں، مگر جو لوگ اپنے آپ کو بہت بڑی چیز سمجھتے ہیں، ان سے الجھنا بنتا ہے۔
مکالمے کے لیے احترامِ مخاطَب لازمی ہے۔ اہلِ علم کے لیے مشکل ہے کہ وہ کسی ایک نظریے پر کاربند رہیں، خاص طور پر جب وہ کسی دبستان سے جڑے نہ ہوں۔ دبستانیوں اور درسیوں کے درمیان مکالمہ ہمیشہ خوش آئند نہیں ہوتا۔ غور و فکر کے عادی لوگ عموماً مکتب گریز ہوتے ہیں۔ انہیں رخصت دینی چاہیے اور امید رکھنی چاہیے کہ وہ آگے چل کر کچھ اچھا کر گزریں گے۔
طنز بذاتِ خود قباحت ہے اور ہر طرف سے اس کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ جیتنے یا ہرانے کے ارادے سے مکالمے میں جانا پسندیدہ نہیں۔ اگر میں آگے بڑھنا چاہوں تو مجھے اپنے غلط ہونے کے امکان کو جگہ دینی ہوگی۔ معلوم باتوں پر امتحان لینے کے ارادے سے سوال کرنا دنایت ہے، اور ایسی قباحتوں سے گریز لازم ہے۔ ضد اور اصرار غیر علمی طریق کار ہے۔ اہلِ علم فطری رفیق ہوتے ہیں، انہیں اہلِ حرفہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ شاید پورا سچ کسی کے پاس نہیں؛ اپنی اپنی سمت کا سچ خیرخواہانہ کہنا چاہیے تاکہ سچائی کا مجموعی نقشہ سامنے آ سکے۔ لغو کہنا اور مسترد کرنا مخاطَب کو اس کی پوری ہستی کے ساتھ رد کرنے کے مترادف ہے، اور یہ رویہ تعلق کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔
اپنے معترض کو پہلے قدم پر خصم نہیں سمجھنا چاہیے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بعد میں آنے والے پہلے لوگوں کے کام کو آگے بڑھاتے اور کبھی مکمل بھی کرتے ہیں اور اس سے پہلے والوں کی فضیلت کم نہیں ہوتی۔ علم کی دنیا بھی تعاون اور تعامل سے بنتی ہے، اس لیے نیت میں بھی تعاون ہونا چاہیے کیونکہ نیت کا بھی اجر ہے۔

julia rana solicitors

مکالمے کی اہمیت،علم اور انا،سادہ زبان کی طاقت،علمی دیانت،طنز اور ضد کا نقصان،احترامِ مخاطب،فکری آزادی،سچائی کی تلاش،اہلِ علم کی ذمہ داری،سماجی اصلاح،زبان اور مفہوم،علمی مکالمہ،فکری گہرائی،انا پرستی،علمی تعاون

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply