مہنگائی بڑھ کر کال بنی، ساری بستی کنگال بنی / عمر شاہد

پچھلے کئی دہائیوں سے پاکستان کی معیشت پر افراط زر کا خوف طاری ہے مگر اب یہ خوف اب ایک دائمی بیماری کی شکل اختیار کرچکا ہے، ایک ایسی بیماری جس نے عوام کی ریڑھ کی ہڈی توڑ کر رکھ دی ہے۔ پچھلے سال فروری میں نگران حکومت نے دواسازی کے شعبے پر سے قیمتوں پر کنٹرول اٹھایا تو اس کے نتیجے میں ایک سو سے زائد عام استعمال ہونے والی ادویات کی قیمتوں میں 32 فیصد کا اوسط اضافہ ہوا۔ یہ کوئی معمولی اضافہ نہیں ہے. ایک غریب آدمی جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے پس رہا ہے، اس کے لیے ادویات کا حصول اب ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت اور بھی سنگین ہوجاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ یکم نومبر کو حکومت نے ایندھن کی قیمتوں میں ایک اور دردناک اضافہ کیا، پٹرول 2.43 روپے فی لیٹر بڑھ کر 265.45 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 3.02 روپے بڑھ کر 278.44 روپے ہوگیا۔ ایندھن کی قیمتوں میں یہ اضافہ صرف پمپوں پر ہونے والا اخراج نہیں ہے، یہ تو ہر شے کی قیمت میں اضافے کا پیش خیمہ ہے، کیونکہ نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ پورے معاشی ڈھانچے کو متاثر کرتا ہے، سبزی ہو یا دال، تعلیم ہو یا علاج، ہر چیز مہنگی ہوتی چلی جاتی ہے۔

پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق اکتوبر 2025 میں سرکاری افراط زر شرح 6.2 فیصد تک جا پہنچی، جو گذشتہ بارہ مہینوں کی بلند ترین سطح ہے۔ یہ کوئی حادثاتی اعداد و شمار نہیں ہیں، یہ ایک نظام کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سیلاب اور افغانستان کے ساتھ جنگ نے خوراک کی قیمتوں اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کو جنم دیا ہے، مگر یہ تمام تر صورتحال قدرتی آفات اور بیرونی محرکات کا نتیجہ نہیں ہے۔ یہ تو اس معاشی پالیسی کا منطقی نتیجہ ہے جس میں عوام کے مفادات کو بالائے طاق رکھ کر ایک مخصوص طبقے کے مفادات کو تحفظ دیا جاتا ہے۔ مہنگائی کی اس لہر نے غریب عوام کے گھروں میں جو آگ لگائی ہے، اس کی گرمی حکمران اشرافیہ کے شاہی محلات تک محسوس نہیں کی جاتی۔

یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اس مہنگائی کے دور میں سٹیٹ بنک کس طرح پانچ سے سات فیصد افراط زر کے ہدف پر قائم رہنے کا دعویٰ کررہا ہے۔ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ کو گیارہ فیصد پر برقرار رکھنا درحقیقت عوام سے کہنے کے مترادف ہے کہ تمہاری قوت خرید ختم ہوچکی ہے، تمہاری ضروریات زندگی پوری کرنا اب تمہاری استطاعت سے باہر ہے، لہٰذا ہم تمہیں مزید قرضہ لینے سے روک کر تمہاری مدد کررہے ہیں۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ مرکزی بینک مانگ دباتے ہوئے قرضوں کو مہنگا کررہا ہے جبکہ دوسری جانب حکومت خود تجارتی بینکوں سے بھاری قرضے لے کر مالی خسارے کو پورا کررہی ہے۔ یہ ایک گہرا تضاد ہے، ایک ایسا تضاد جو پالیسی کی ناہمواری اور حکمت عملی کے بکھراؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک طرف تو بینک کہتا ہے کہ قرضہ لینا بند کرو تاکہ مانگ کم ہو اور مہنگائی پر قابو پایا جاسکے، دوسری طرف حکومت بینکوں سے اتنا قرضہ لے لیتی ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر کے لیے قرضہ حاصل کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

یہ تضاد صرف کاغذوں تک محدود نہیں ہے، اس کے معاشرے پر گہرے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ State Bank of Practice کھلے بازار میں بڑے پیمانے پر liquidity انجیکشن کے ذریعے حکومتی قرضہ لینے کی حوصلہ افزائی کررہا ہے، جس کی وجہ سے بینکنگ سسٹم میں نقد رقم کی فراہمی تو بڑھ رہی ہے مگر پیداواری قرضہ خشک ہوتا جارہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ حکومت اپنے کام چلانے کے لیے اتنا پیسہ لے رہی ہے کہ کاروباری افراد، صنعتکار، کسان، چھوٹے تاجر، جو ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، وہ قرضہ حاصل نہیں کرپاتے۔ اس طرح پیداواری سرگرمیاں سست پڑجاتی ہیں، روزگار کے مواقع کم ہوتے ہیں، اور معیشت کا پہیہ رک جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا شیطانی چکر ہے جس میں قرضہ لے کر مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش کی جارہی ہے، مگر اس کوشش میں مہنگائی اور بڑھ جاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں افراط زر کا مسئلہ محض معاشی نہیں ہے، یہ ایک گہرا سیاسی اور سماجی مسئلہ ہے۔ یہ اس نظام کی پیداوار ہے جس میں وسائل پر چند خاندانوں کی اجارہ داری ہے، جس میں حکومتی پالیسیاں عام آدمی کے بجائے سرمایہ داروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ دواسازی کی صنعت ہو یا ایندھن کی تجارت، ہر جگہ ایک مافیا کام کررہی ہے جو حکومتی پالیسیوں کو اپنے مفادات کے لیے موڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

عوام کو یہ سمجھایا جارہا ہے کہ مہنگائی ایک عالمی مسئلہ ہے، کہ سیلاب اور جنگ نے معیشت کو تباہ کردیا ہے، مگر یہ سب جھوٹ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی اس نظام کی پیداوار ہے جس میں دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہوتی جارہی ہے۔ جب حکومت ایندھن کی قیمتیں بڑھاتی ہے تو اس کا فائدہ تیل کی کمپنیاں اٹھاتی ہیں، جب ادویات مہنگی ہوتی ہیں تو فارما سیوٹیکل مافیا کا منافع بڑھتا ہے، جب پالیسی ریٹ بڑھتا ہے تو بینکار امیر ہوتے ہیں۔ یہ سب مل کر ایک ایسی معیشت تشکیل دے رہے ہیں جس میں غریب کی جیب سے پیسہ نکال کر امیر کی جیب میں ڈالا جاتا ہے۔

یہ صورتحال اس وقت اور بھی سنگین ہوجاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ حکومت کے پاس اس مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے۔ وہ روزانہ نئی نئی شرائط عائد کررہی ہے، نئے ٹیکس لگارہی ہے، نئی شرائط نافذ کررہی ہے، مگر مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام ہے۔ درحقیقت، حکومت مہنگائی پر قابو پانا چاہتی ہی نہیں ہے، کیونکہ اس نظام میں مہنگائی ان کی مجبوری بن چکی ہے۔ جب تک یہ نظام قائم ہے، مہنگائی قائم رہے گی۔ جب تک دولت کی غیر منصفانہ تقسیم جاری ہے، مہنگائی جاری رہے گی۔ جب تک حکومتیں عوام کے بجائے سرمایہ داروں کے مفادات کی محافظ بنی رہیں گی، مہنگائی جاری رہے گی۔

ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کو روکنا ہوگا، کیونکہ یہ اضافہ پوری معیشت کو متاثر کرتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ٹیکسوں میں کمی کرے، غیر ضروری اخراجات میں کٹوتی کرے، اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر توجہ مرکوز کرے۔ مرکزی بینک کو چاہیے کہ وہ پالیسی ریٹ میں کمی کرے، تاکہ کاروباری افراد اور صنعتکار قرضہ حاصل کرسکیں اور ملک میں پیداواری سرگرمیاں تیز ہوسکیں۔ مگر سب سے بڑھ کر، ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام میں بیداری پیدا کی جائے، انہیں ان کے حقوق سے آگاہ کیا جائے، اور انہیں منظم کیا جائے، تاکہ وہ اس نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں جو ان کا خون چوس رہا ہے۔

julia rana solicitors

افسوس کی بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت اور مرکزی بینک ان بنیادی مسائل کو حل کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ وہ سطحی حل پیش کررہے ہیں، جبکہ مسئلہ گہرا ہے۔ وہ علامات کا علاج کررہے ہیں، جبکہ بیماری جان لیوا ہے۔ جب تک بنیادی بیماری کا علاج نہیں کیا جاتا، تب تک مہنگائی کا عفریت عوام کا خون پیتا رہے گا۔ یہ عفریت اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک عوام خود اس کے خلاف بغاوت پر آمادہ نہیں ہوتے۔ یہ جنگ محض معیشت کی جنگ نہیں ہے، یہ طبقاتی جنگ ہے، اور اس جنگ میں فتح صرف عوام کے ہاتھ میں ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply