سب سے خطرناک قسم کی بے خبری وہ ہے جب کوئی خود کو سب کچھ جاننے والا سمجھے۔ ہمارا سماج بھی کچھ اس طرح کے حالات سے دوچار ہیں۔ یہاں اگر کوئی باشعور بات کرے تو اسے دشمن سمجھا جاتا ہے اور شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اور سچ ڈھونڈنے والا باغی بن جاتا ہے۔ جو بھی سوال اٹھاتا ہے، ثبوت مانگتا ہے، یا روایتی باتوں کے بجائے عقل سے کام لیتا ہے، اسے معاشرے کیلئے خطرہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ پھر اس کے خلاف زوردار مہم چلائی جاتی ہے جس میں گھر سے لیکر معاشرہ اور عالم جاہل ایک پیج پر جمع ہو جاتا ہے ۔ ہمارے سماج میں بغیر سوچے سمجھے چلنے والوں کی ایک بڑی جماعت ہے جن کے نزدیک سوچنا جرم ہے اور سوال کرنا بدتمیزی۔ جو خاموش رہے وہ محفوظ، اور جو بولے وہ سیاسی سماجی اور معاشرتی مسائل سے بدترین دوچار ہوتے ہیں۔ یہ رویہ دراصل اس ڈر کو ظاہر کرتا ہے جو کسی بھی زندہ قوم کو مردہ بنا سکتا ہے۔ ہم نے اپنے اردگرد ایسا ماحول بنا لیا ہے جہاں کھوج لگانے کو خطرہ، کسی چیز میں نقص نکالنے کو گناہ، اور الگ رائے رکھنے کو دشمنی سمجھا جاتا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں کوئی بھی معاشرہ آگے نہیں بڑھ پاتا، ذہن بند ہو جاتے ہیں اور بہتری کا راستہ رک جاتا ہے۔
مہذب قوموں میں الگ رائے کو علم کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ وہاں کسی چیز پر تنقید کرنا بہتری کا ذریعہ بنتا ہے اور سوال اٹھانے والے کی عزت کی جاتی ہے۔ لیکن ہمارے یہاں تو معاملہ بالکل الٹا ہے۔ ہم الگ رائے برداشت کرنے کے بجائے اسے اپنی ذات پر حملہ سمجھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہم نے اپنی سوچ کے دائرے اتنے چھوٹے کر لیے ہیں کہ کسی نئی سوچ یا دیکھنے کے نئے انداز کے لیے کوئی جگہ ہی نہیں بچی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ ایک جگہ رک گیا ہے، اور ہم نے ذہنی غلامی کو زندگی کا طریقہ سمجھ لیا ہے۔
ہمارے ہاں قلم کو بھی ایک خطرناک چیز مانا جاتا ہے۔ کیونکہ قلم سوال اٹھاتا ہے، دلیل دیتا ہے، اور خاموشی کو توڑتا ہے۔ جو لکھتا ہے، وہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے، اور جو سوچنے پر مجبور کرے، وہ اس نظام کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں کھوج لگانا جرم بن گیا ہے، سوال پوچھنا گناہ قرار پا گیا ہے، اور باشعور شخص کو معاشرے کے لیے فساد کی جڑ سمجھا جاتا ہے۔
دکھ کی بات یہ ہے کہ باشعور انسان سب سے پہلے اپنے ہی گھر میں اجنبی ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے گھر والوں کی آنکھوں میں ڈر دیکھتا ہے۔ وہ ڈر جو کسی دشمن سے نہیں بلکہ سوچنے والے سے پیدا ہوتا ہے۔ ماں باپ اسے بگڑا ہوا کہتے ہیں، بہن بھائی اسے عجیب، اور معاشرہ اسے باغی قرار دیتا ہے۔ یوں ایک سوچنے والا انسان اکیلا رہ جاتا ہے، اور اس کی فکر کو غلط کہا جانے لگتا ہے۔ اس موقع پر بے خبری ایک ہو جاتی ہے، اور علم والا اکیلا رہ جاتا ہے۔ یہ برا وقت اچانک نہیں آیا۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلی وجہ یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو شعور دینے کے بجائے صرف نوکری حاصل کرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ ہمارے سکول اور کالج ڈگریاں تو دیتے ہیں مگر ذہین لوگ پیدا نہیں کرتے۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے مذہب کو کھوج سے الگ کر دیا اور معاشرے سے مکالمہ کا فکر ہی ختم ہوگیا ہے، حالانکہ مذہب خود عقل، سوچ بچار اور غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ تیسری اور شاید سب سے خطرناک عادت یہ ہے کہ ہم میں الگ رائے برداشت کرنے کی صلاحیت ختم ہو گئی ہے۔ اب ہر شخص اپنی رائے سے ہٹ کر کوئی بات سننے کو تیار نہیں۔ یہی وہ ذہنی زنجیر ہے جو معاشرے کو باندھے ہوئے ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے اندھیرے میں روشنی کرنے کی کوشش کی۔ سقراط نے جب سوال کیے تو اسے زہر کا پیالہ دیا گیا۔ منصور حلاج نے انا الحق کہا تو اسے سولی پر لٹکا دیا گیا۔ سرسید احمد خان نے جب تعلیم میں بہتری کی بات کی تو مذہبی لوگوں نے ان کی مخالفت کی۔ فیض احمد فیض نے جب شعور کی بات کی تو اسے جیلوں میں بند کیا گیا۔ ان سب کا قصور ایک ہی تھا، لوگوں کو سوچنے پر مجبور کرنا۔
اگر ہم واقعی میں ایک زندہ اور ترقی یافتہ سماج بننا چاہتے ہیں تو ہمیں شعور سے خوف کو ترک کرنا ہوگا۔ ہمیں سوال کو بدتمیزی نہیں بلکہ مکالمہ سمجھنا ہو گا۔ ہمیں اپنے تعلیمی اداروں میں مکالمہ، تنقید اور کھوج کو بڑھانا ہو گا۔ ہمیں ماننا ہوگا کہ الگ رائے دشمنی نہیں بلکہ بہتری کی علامت ہے۔ کیونکہ جس معاشرے میں سوال دب جائے، وہاں علم مر جاتا ہے۔ اور جہاں علم مر جائے وہاں زندگی صرف نقل بن کر رہ جاتی ہے۔ شعور انسان کی اصل پہچان ہے۔ جو معاشرہ شعور سے ڈرتا ہے، وہ اپنی تباہی کی بنیاد خود رکھتا ہے۔ جس سے آج پورا معاشرہ دوچار ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم فیصلہ کریں کہ کیا ہم شعور کے ساتھ جینا چاہتے ہیں، یا بغیر سوچے سمجھے تباہ ہونا ہے۔یقیناً اس بارے میں غور کرنے کی ضرورت ہے۔

شعور کی اہمیت,سوال کرنے کی آزادی,باشعور معاشرہ,ذہنی غلامی,تعلیم اور شعور,سچ بولنے کی سزا,مکالمہ کی ضرورت,الگ رائے کا احترام,قلم کی طاقت,معاشرتی رویے،سچ کی تلاش،باشعور نوجوان،فکری آزادی،تنقید اور برداشت،مذہب اورسیاست
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں