مجھ سے سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال — کیا نارساسسٹ کبھی بدل نہیں سکتے؟
بلکل بدل سکتے ہیں لیکن یہ بدلاؤ کیسا ہوتا ہے آج اس پر بات کریں گے۔ اور آپ کو کیا لگتا ہے کہ محض لوگ نرگسیت پسند ہوتے ہیں لیکن آپ ہرگز نہیں؟ ہر انسان نرگسیت پسند یا پھر خود-غرض ہوتا ہے کسی نہ کسی حد تک، البتہ جس کو جتنے کٹھن بچپن سے گزرنا پڑا ہوگا، جس کی فیملی جتنی جذبات اور محبت سے خالی ہوگی وہ اتنا ہی خطرناک حد تک نرگسیت پسند ہوگا۔ جس کی روح پر جتنے زخم ہونگے وہ لوگوں کو اتنا ہی ستائے گا۔ بعض لوگوں میں یہ ڈساڈر کی شکل اختیار کرجاتا ہے جسے شفایاب کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے (اسکی وجہ بھی آرٹیکل میں زیرِ بحث لاؤں گی)۔
میں نے آج تک بہت کم لوگوں کو نرگسیت پسندی (جو کہ ایک ڈساڈر ہے) سے باہر آتے دیکھا ہے۔ اور اسکی ایک بہت اہم وجہ ہے جسکا ذکر میں اس آرٹیکل میں کروں گی۔ البتہ آپ بھی اگر چاہیں تو اپنے نرگسیت پسندانہ رویوں پر نگاہ ڈال کر اسے شفایاب کرسکتے ہیں، اس سے آپ کی ذہنی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔
نرگسیت پسندی کو آسان الفاظ میں سمجھایا جائے تو یہ بچپن میں والدین کی جانب سے جذبات کی ”عکس بندی“ (mirroring ) نہ ہونے کی وجہ سے جنم لیتی ہے، اور بعض اوقات غلط اور غیر حقیقت پسندانہ عکس بندی ہونے کی وجہ سے بھی جنم لے سکتی ہے۔ بلکل ویسے جیسے بہت لاڈ پیار یا پھر بچے کو بلکل نظر انداز کرنا، دونوں کے ہی نقصانات ہوتے ہیں۔ عکس بندی کیا ہوتی ہے اسکا ذکر میں نے ”جذبات — جدید دنیا کا اہم ترین علم“ میں کیا ہے۔ اب جن گھروں میں بچوں کے جذبات کی عکس بندی نہیں ہوتی وہ گھر غیر فعال ہوتے ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ سب ہی ایسے گھروں میں نرگسیت پسند ہوں، بلکہ زیادہ تر غیر فعال گھروں کے بچے ہی نرگسیت پسند افراد کے ہاتھوں دکھی ہوتے ہیں، اگر غیر فعال فیملی میں تربیت پائی ہے تو یا تو استعمال ہونگے یا پھر دوسروں کو استعمال کریں گے، جیسا کہ اکثر کہا جاتا ہے…..
Trauma Attracts Trauma..
نرگسیت پسندی عام طور پر ایک ممسوخ، منتشر اور ادھورے احساسِ ذات (incomplete sense of self) کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔ خود پسندی، دکھاوا اور غرور اکثر ایک دفاعی نقاب (defence mechanism ) کا کام کرتی ہے تاکہ نرگسیت پسندی کے ذریعے شرمندگی، نااہلی اور عدم تحفظ کی بنیادی کیفیات کو چھپایا جا سکے۔ یہ ایک نقاب ہے جس کے پیچھے انسان اپنی نااہلی، کمزوریاں، ٹروما اور شیم کو چھپاتا ہے۔
جب والدین سے جذبات کی عکس بندی نہیں ملتی تو بچہ خود اپنے ذہن اور اس کے پاس موجود ڈیٹا کی بنیاد پر اپنا احساسِ ذات (sense of self) بنا لیتا ہے۔ پھر یہی ادھورا غیر حقیقت پسندانہ احساسِ ذات ساری زندگی نہ صرف اسکے لیے نفسیاتی اذیت کا باعث بنتا ہے، بلکہ جو بھی اس کے رابطے میں آئے گا وہ نرگسیت پسند کے ادھورے غیر حقیقت پسندانہ احساسِ ذات کے بوجھ تلے دبتا جائے گا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نرگسیت پسندی کا علاج کیا ہے اور بدلاؤ کیسے آئے گا؟
سائیکوانالیسس (psychoanalysis)، ہیومینیسٹک سائیکالوجی (humanistic psychology ) کی مانند ایک اور شاخ ہے سائیکالوجی کی جسے سائیکوسینتھیسس(psychosynthesis) کہتے ہیں، مجھے ان کا طریقہ کار اور نظریات نرگسیت پسندی کو سمجھنے کے لیے بہتر اور کارآمد لگتے ہیں۔
سائیکوسینتھیسس کے تمام نظریات اور وجوہات کو بیان کرنا آرٹیکل میں ممکن نہیں البتہ ایک اہم وجہ جو اسے شفایاب کرنے میں حددرجہ تکلیف دیتی ہے وہ ”احساسِ ذات“ (sense of self) کا ”ٹوٹنا“ جسے روحانیت کی زبان میں ”انا کی موت“ (Ego Death) بھی کہتے ہیں۔
موت دکھ اور درد دیتی ہے، جسمانی موت ہو یا نفسیات میں موجود ”انا کی موت“ دونوں کا رنج اور دکھ سہنا بہت مشکل ہوتا ہے انسان کے لیے۔ نرگسیت پسند جب تھراپی میں آتے ہیں تو انہیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ انکا پورا کا پورا ”احساسِ ذات“ جھوٹ، برم اور فریب پر مبنی ہے، وہ جو بھی اپنے متعلق سوچتے اور محسوس کرتے ہیں وہ جھوٹ ہے، اسکا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، انکی حقیقت انکے ”احساسِ ذات“ سے مختلف ہے۔تھراپی کے اس عمل میں انکی ”انا کی موت“ ہوجاتی ہے جس کے بعد انسان کی نفسیات میں ایک گہرا سناٹا اور خالی پن رہ جاتا ہے، اور یہ وہ ٹائم ہوتا ہے جب شدید ”ڈپریشن“ (Depression) جنم لیتا ہے۔ بلکل ویسے جیسے ہمارا کوئی قریبی دنیا سے رخصت ہوجائے اور ہم رنج و غم (Grief and Bereavement ) نہ کرسکیں تو پھر وہ ”ڈپریشن“ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
یہ شدید ”ڈپریشن“ کا دورانیہ ایک نرگسیت پسند انسان کے لیے بہت تکلیف دہ ہوتا ہے، لامحدود کائنات جتنا خالی پن اس کے اندر ہوتا ہے۔ اپنی عادتیں، نظریات، لت، رویے، سوچ جب وہ بدلتا ہے تو نفسیاتی اذیت آڑے آتی ہے۔ بہت سے لوگ اس ڈپریشن اور خالی پن سے گھبرا کر تھراپی کو چھوڑ دیتے ہیں اور واپس اسی پرانے رستے پر چل پڑتے ہیں، انہیں اس بات سے خوف آنے لگتا ہے کہ وہ خاص نہیں، وہ ایک عام انسان ہیں جس کے ہونے نہ ہونے سے زیادہ فرق نہیں پڑتا، وہ بہت معمولی ہیں، ان میں ایسی کوئی طلسماتی خاص بات نہیں، انکے نظریات کی بھی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ انکے نظریات حرفِ آخر نہیں، انکا احساسِ حقداریت (entitlement ) فریب ہے جس کے سہارے وہ زندہ ہیں۔
البتہ کچھ افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں حالات گھسیٹتے ہوئے لے کر جاتے ہیں شفایابی کی جانب۔
بس ایک بار رنج (grief ) کا مرحلہ طے ہوجائے ، انسان نرگسیت پسندی والی جھوٹی انا کو دفنانے کے بعد ماتم کرلے، جذبات کو محسوس کرکے پراسس کرلے، تو ایک نیا ”احساسِ حقداریت“ اور ”انا“ تشکیل ہونے لگتی ہے جو حقیقت کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ اب کی بار فریب اور احساسِ حقداریت (entitlement ) کی جگہ ہمدردی (empathy) اور کھرا پن (authenticity ) لے لیتے ہیں۔ اس دوران کسی ایسے رشتے کا ساتھ ہونا مددگار ثابت ہوتا ہے جو آپ کے ساتھ اس رنج کو پراسس کرے، ڈپریشن کو سمجھے اور شفایاب ہونے میں ہمسفر بنے۔ یا پھر ایسا تھراپسٹ جو قابل ہونے کے ساتھ ہمدرد بھی ہو، اس رنج و ڈپریشن کے مرحلہ کو آپ کے ساتھ طے کرنے کی ہمت رکھتا ہو۔
میرے کئی کلائنٹ نرگسیت پسند ہیں، ان کے ساتھ نمٹنا اور انہیں سمجھنا بہت مشکل رہا میرے لیے کیونکہ نرگسیت پسند آپ کو محرک (trigger) کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ جب میں زیادہ تجربہ کار نہیں تھی تب محرک ہونے کے بعد میں تھراپی منقطع کردیتی تھی، مجھے شدید غصہ آتا تھا کیونکہ میری اپنی انا بھی کچھ کم بڑی نہ تھی، البتہ وقت گزرنے کے ساتھ مجھ میں صبر اور سمجھ آئی کہ اگر لوگوں کے ”احساسِ ذات“ اور ”انا“ کو سمجھنا ہے تو پہلے اپنی انا کو سمجھ کر ایک طرف کرنا ہوگا کیونکہ مشہور تھراپسٹ فلیپا پیری کہتی ہیں کہ ”تھراپی روم میں یا تو تھراپسٹ کی انا ہوگی یا پھر کلائنٹ کی“، تھراپسٹ کی انا اگر بڑی ہے تو کلائنٹ کی ”انا“ کو سمجھنے کے لیے تھراپی-روم میں کوئی جگہ باقی نہیں رہے گی۔
یہی اصول آپ اپنے بچوں اور ہمسفر کے ساتھ اپنائیے، اپنی انا کم کرکے ان کو سمجھنا سیکھیے۔
ہر انسان کے اپنے دفاعی طریقہ کار (defence mechanism) ہوتے ہیں، ہم جب بھی لوگوں کو بنا سمجھے انہیں نصیحتیں کرتے ہیں یا بار بار انکے غیر صحتمندانہ رویوں کی نشاندہی کرتے ہیں تو ان کے دفاعی طریقہ کار (defence mechanism ) متحرک ہوجاتے ہیں اور پھر وہ آپ کی کسی بھی بات کو سننے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں، چاہے آپ کی بات/نصیحت بلین ڈالرز کی کیوں نہ ہو!! اس لیے خود یا اپنے ارد گرد والوں (بچے اور فیملی کیونکہ دنیا کا ٹھیکا آپ نے نہیں لیا اور نہ ہی یہ آپکا فرض ہے اگر تو آپ ایک تھراپسٹ نہیں) کو نصیحت کرنے سے پہلے انہیں اور ان کے جذبات کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے کہ وہ کیوں ایسا کررہے ہیں۔
کوئی بھی نرگسیت پسند آج تک اس لیے نہیں آیا تھراپی میں کیونکہ اسے ایک بہتر اور صحتمند انسان بننا تھا، بلکہ زیادہ تر کو حالات لے کر آتے ہیں، جب بزنس، جاب، رشتے، صحت، لت میں مبتلا، کچھ بھی صحیح نہ چل رہا ہو تب انسان کے حالات اسے مجبور کردیتے ہیں کہ وہ غور کرے اپنے رویوں پر۔
وہ نرگسیت پسند جسے باہری پریشانی نہیں آئی وہ کبھی اپنے رویے پر غور نہیں کرے گا، جیسے ہی باہر سے کوئی آفت آتی ہے وہ مجبور ہوجاتا ہے سوچنے پر۔ اس لیے اکثر تھراپسٹ کا ماننا ہے کہ جب تک لوگوں کو ان کے عمل (action) کے برے نتائج (consequences) کا سامنا نہ کروایا جائے وہ کبھی اپنا رویہ نہیں بدلتے۔
نرگسیت پسندی ایک نفسیاتی مسئلہ ہے اور اسکا علاج بھی نفسیات کو سمجھ کر ہی ہوتا ہے، اسے ہم ”باطنی ہندسیات/تعمیر “ (Inner Engineering) بھی کہہ سکتے ہیں جہاں آپ کو اپنا نیا اور حقیقت پسندانہ ”احساسِ ذات“ (sense of self) تشکیل دینا پڑتا ہے کیونکہ بچپن میں غیر فعال فیملی میں رہنے کی وجہ سے آپ کے ذہن نے ایک خیالی، جھوٹا، مثالیاتی اور غیر حقیقت پسندانہ سیلف (self) تشکیل پایا جسے اب حقیقت سے روشناس کروانا ضروری ہوگیا ہے۔
چونکہ نرگسیت پسندی ایک سنگین نفسیاتی حالت ہے، یہ لوگ اپنے آس پاس والوں کی زندگی تباہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں اس لیے اس کا علاج بھی بہت مشکل اور طویل ہوسکتا ہے، اس سنگین سطح پر بدلاؤ لانا یقیناً ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی! اس لیے یا تو محنت اور ذہانت سے نرگسیت پسند کی زندگی سے باہر نکلنے کی منصوبہ بندی کیجیے یا پھر مصلیٰ بچھا کے دعا کیجیے کہ نرگسیت پسند کے حالات اسے اپنے رویے پر غور کرنے پر مجبور کردیں!
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں