کچھ فلموں کے سیمیاتی تجزیے (Semiotic Analysis) -ذوالفقار علی زلفی

 * تعارف  
فن کی دنیا میں سینما نسبتاً جدید ہے۔ اسے بمشکل سو سال سے کچھ ہی زیادہ ہوگا۔ فلموں کو اوائل میں محض وقت گزاری اور تفریح کا سامان سمجھا جاتا تھا۔ رفتہ رفتہ سینما انسان کی سماجی، ثقافتی اور نفسیاتی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والا موثر ترین فن ثابت ہوتا گیا۔
فلموں کی اثر پذیری نے مختلف ریاستوں اور سیاسی و مذہبی گروہوں کے کان کھڑے کر دیے اور انہوں نے قانونی و غیر قانونی سینسر بورڈز تشکیل دے کر فلموں پر اثر انداز ہونے کی کوششیں شروع کیں۔
جہاں سیاسی سطح پر یہ سب کچھ ہورہا تھا، وہاں اکیڈمک سطح پر سینما کو سمجھنے اور اس کے اسرار و رموز دریافت کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔
اوائل میں یہ شعبہ مختلف فلم ناقدین نے سنبھالا جو فلم کے فنی عیوب و محاسن پر رائے زنی کرتے تھے۔ بعد ازاں اس شعبے میں دانش وروں اور ماہرین کی آمد شروع ہوئی، جنہوں نے فلم کی اندرونی حرکیات اور تہذیبی پسِ منظر کو موضوع بنا کر فلم کو سمجھنے کی اکیڈمک کوششیں شروع کردیں۔
ان دانش وروں نے فلم کی سیمیاتی اور ساختیاتی مطالعے کی بنیاد ڈال کر سینما کو سمجھنے کے نئے دروازے کھول دیے۔
* سیمیاتی تجزیے کے لیے بنیادی امور  
فلموں کے سیمیاتی تجزیے کے لیے چند چیزوں کا جاننا اور سمجھنا ضروری ہے:
1. تجزیہ کار کو سب سے پہلے سینما کی زبان کا مطالعہ کرکے اس کے حوالے سے مختلف مباحث سے آگاہ ہونا چاہیے۔
2. فلم کا تعلق جس سماج سے ہے، اس سماج کی مائتھالوجی، سیاسی و سماجی ثقافت اور مختلف گروہوں و طبقات کے درمیان تضادات سے آشنائی ضروری ہے۔
3. ادب اور اس کے جملہ مباحث پر نگاہ رکھنی چاہیے۔
4. سیاسی نظریات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
5. انسانی نفسیات اور اس کے مختلف نظریات کا مسلسل مطالعہ کرنا چاہیے۔
* بنیادی کتابیں  
میری رائے میں درج ذیل کتابوں کا مطالعہ خاصا ضروری ہے:
جیمز موناکو (James Monaco) کی کتاب How to Read a Film
ڈینیئل آریجون (Daniel Arijon) کی Grammar of the Film Language
کرسٹین میٹز (Christian Metz) کی کتاب The Imaginary Signifier
یہ کتابیں سینما کے بنیادی مباحث کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔
اسی طرح روسی مونتاژ (montage) کا مطالعہ بھی از حد کارآمد ہے۔ روسی مونتاژ دراصل کارل مارکس کے جدلیاتی مادیت کے فلسفے کی سینمائی شکل ہے، جسے سابق سوویت یونین کے کمیونسٹ فلم سازوں نے دریافت کرکے سینما میں انقلاب بپا کیا۔
* سیمیاتی مطالعہ کی مثالیں 
سیمیاتی مطالعہ فلم کو گہرائی سے سمجھنے کا آلہ ہے۔
مثال کے طور پر بھارتی فلم مشن کشمیر (2000) کے ایک سین میں، ہیرو ہیروئن کو گلاب پیش کرتا ہے اور گلاب میں لگے کانٹے ہیروئن کی انگلیوں کو زخمی کر دیتے ہیں۔ ایک تجزیہ کار نے لکھا:
“یہاں گلاب محض ایک گلاب کا پھول نہیں ہے بلکہ یہاں گلاب کشمیر کا استعارہ ہے، جو بظاہر خوب صورت اور دلنشین ہے لیکن اس کی تہہ میں مختلف سماجی و ثقافتی تضادات کے کانٹے ہیں جو اس کے حصول کی کوشش کرنے والوں کو زخمی کرسکتے ہیں۔”
سیمیاتی مطالعہ مختلف سیاسی تناظر میں بھی کیا جاسکتا ہے۔ بعض بھارتی لبرل تجزیہ کار “فلم ہم آپ کے ہیں کون” (1994) کو ہندی سینما کی ترقی کا اہم پڑاؤ سمجھتے ہیں۔
میری نگاہ میں اس فلم نے سرمایہ دارانہ معاشی نظریات کو ہندی سینما کا حصہ بنا کر محنت کش طبقے کو مرکز سے نکالنے کی کامیاب کوشش کی، اس لیے اگر یہ کسی ترقی کی علامت ہے بھی تو لبرل معاشی نظام سے فائدہ سمیٹنے والے سرمایہ داروں کے لیے ہے۔
فلم “رام تیری گنگا میلی” ( 1985) اور پردیس (1997) کی ہیروئنز علامتی طور پر بھارت کی علامت ہیں۔ 1985 کی فلم میں راج کپور نے گنگا کو بھارتی محنت کشوں کے استعارے کے طور پر برتا، جبکہ دوسری فلم میں گنگا قوم پرستانہ نکتہِ نظر کی حامل بھارت ہے، جسے بیرونی دشمنوں کی سازشوں کا سامنا ہے ـ
تمل فلم “کالا” (2018) بھی ایک اچھی مثال ہے ـ اس فلم میں رجنی کانت کے علاقے (مزدور خطہ) میں مدھم روشنی (Low-Key Lighting) جب کہ نانا پاٹیکر کے خطے (سرمایہ دار علاقہ) میں تیز روشنی (High-Key Lighting) کا استعمال نظر آتا ہے ـ روشنی کا یہ متضاد استعمال طاقت ور اور کم زور یا صاف ستھرا و گندگی کا علامتی تضاد پیدا کرکے دونوں خطوں کے افراد کے درمیان کش مکش کو ظاہر کرتا ہے ـ
روشنی اور پسِ منظر کے تضاد پر ایک اور مثال بھی کارآمد ہوسکتی ہے ـ 1979 کی پنجابی فلم “مولاجٹ” کا پسِ منظر سبز اور روشن ہے جو پنجاب کی ذرعی ثقافت کو ظاہر کرتا ہے ـ یہاں سبز پسِ منظر دیہی تہذیب کو واضح کرتا ہے جہاں کسان و جاگیردار کا تضاد سامنے آتا ہے ـ
دوسری جانب “دا لیجنڈ آف مولا جٹ” (2022) کا پسِ منظر مدھم روشنی کے ساتھ مٹیالا ہے ـ مدھم روشنی اور مٹی کا پسِ منظر فلم کو بلوچستان کے بلوچ قبائلی تہذیب و تمدن کا پسِ منظر دیتا ہے جہاں کش مکش قبائلی تفخر کے درمیان ہے ـ
* نتیجہ 
فلموں کا سیمیاتی تجزیہ عام تبصروں کی نسبت مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں۔ مطالعہ اور مسلسل مشق سے یہ پہاڑ سر کیا جا سکتا ہے۔
نظریاتی تجزیے سے ناواقف قارئین عموماً یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ہدایت کار، مصنف یا اداکار کو اس کا علم ہوتا ہے، جتنا تجزیہ کار بیان کر رہا ہے؟ ـ اس سوال کا “ہاں” یا “ناں” میں جواب دینا مشکل ہے ـ بعض ہدایت کار/مصنف شعوری طور پر مخصوص علامات کا استعمال کرتے ہیں جب کہ بعض معروضی و موضوعی اثرات کے زیرِ اثر لاشعوری طور پر ایسا کرتے ہیں ـ البتہ تجزیہ کار کو عام طور پر یہ جاننے یا سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ایسا شعوری طور پر کیا گیا ہے یا لاشعوری طور پر، اسے صرف فلم کو پڑھ کر سمجھنا ہے ـ یہ بات یاد رکھنی چاہیے دنیا کا ہر انسان زندگی کے حوالے سے ایک مخصوص نظریہ رکھتا ہے جو اس کے قول و فعل سے جھلکتا ہے ـ
میں نے پہلی دفعہ امریکی فلم “The Shawshank Redemption” کا بلوچی زبان میں سیمیاتی تجزیہ کرنے کی کوشش کی۔ وہ تجزیہ کتنا درست ہے، اس کا درست جواب مستقبل کا کوئی بلوچ تجزیہ کار ہی دے سکتا ہے ـ
میں اب اپنے پرانے فلمی تبصروں کو سیمیاتی تجزیے میں بدلنے کی کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ سعی کر رہا ہوں کہ فلموں کے تجزیے لکھوں ـ
اردو میں فلموں کا نظریاتی و تہذیبی تناظر میں تجزیے کا رواج نہیں ہے۔ بھارت میں اگر کوئی کر رہا ہے تو میں لاعلم ہوں، مگر پاکستان میں کم از کم مجھے تاحال کوئی معتبر نام نہ ملا۔
میری دانست میں فلموں کے تجزیے کی یہ کوشش میرے محدود اور ناقص علم کے باوجود اہم آغاز ہے، اور یقیناً مستقبل میں مجھ سے کئی گنا بہتر اور باعلم تجزیہ کار آئیں گے جو اس سلسلے کو مزید آگے بڑھائیں گے ـ

Facebook Comments

ذوالفقارزلفی
ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply