ایران میں چشم دید روزمرہ جرائم /سعد مکّی

میں تہران کے بس ٹرمینل جنوب کے باہر ٹیکسی کے انتظار میں کھڑا تھا ساتھ ہی میرا دوست بھی موجود تھا ۔ ہم خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ کال سننے کے لیے میں نے اپنا موبائل فون نکال کر کان سے لگایا ۔ ابھی سلام علیک شروع ہی ہوئی تھی کہ ایک پندرہ سولہ سالہ نوجوان موٹر سائیکل سوار بڑی تجربہ کاری سے زن کی آواز کے ساتھ میرا فون لے اُڑا ۔ مجھے سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا ،فون جا چکا تھا ۔ پریشانی فون کی مالیت کی بھی تھی مگر اس سے بڑھ کر اس میں موجود اہم فون نمبرز بھی جا چکے تھے ۔

میں نے اپنے ساتھی کے فون سے فوراً 110 پر فون ملایا ،تین چار منٹ میں سائرن بجاتی پولیس آن پہنچی ۔ وہیں موقع پر ایف آئی آر کٹی ۔ میں گھر آگیا بعد میں ایک آدھ مرتبہ تھانے گیا ۔ بنا بنایا تو کچھ نہیں مگر بوقت واردات ان کی پھرتی قابل داد ہے ۔ میرے ایک دوست سے راہ چلتے نو سر باز10، 12 ہزار روپے لے اُڑے ۔ اس نے ایف آئی آر ہی نہیں کٹوائی ۔ منشیات ، تریاق یعنی افیون اور شراب عام ہیں مگر چھپ چھپا کر بیچی جاتی ہیں ۔ چرس کا استعمال پاکستان کی نسبت کافی کم ہے مگر مل جاتی ہے ۔ کرسٹل ، آئس اور ہیروئن کا نشہ وہاں بڑھ رہا ہے مگر عام طور پر یہ سارے نشئی شہر کے کسی بد نام اور مخصوص ان آفیشل ریڈ لائٹ علاقے میں پائے جاتے ہیں ۔ یہ نشئی آپ کو وطن عزیز کی طرح شہر میں جا بجا بھیک مانگتے گرے پڑے یا چلتے پھرتے نظر نہیں آئیں گے بلکہ کچھ نہ کچھ کاٹھ کباڑ وغیرہ آپ کو بیچنے کی کوشش کریں گے ۔ چوریاں وہاں بھی ہوتی ہیں کہ یہ بھی ایک آفاتی حقیقت ہیں ۔ خطرناک راہزنی کے واقعات بہت کم رپورٹ ہوتے ہیں اور آتشیں اسلحے کے زور پر نہیں بلکہ خنجر اور چھری چاقو کے استعمال کے ساتھ ۔

ہمارے ایک پاکستانی دوست نے پاکستان سے اپنے بیوی بچے اور سالے کو تہران بلوایا ۔ ایئرپورٹ پر ہی ایک نوسرباز نے اس پاکستانی فیملی کو اپنی باتوں میں گھیر لیا ، اسے ٹوٹی پھوٹی اردو آتی تھی ۔ اس نے ایڈریس لیا اور اپنی ٹیکسی میں بٹھا کر انہیں کہیں سنسان جگہ پر لے گیا ۔ دوسری کار میں اس کے ساتھی بھی پہنچ گئے اور انہوں نے چاقو دکھا کر نقدی ، سامان ، موبائل چھین لیا ۔ اگلے دن ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ فیملی دستیاب ہوئی کہ وہ بھی ایک تھانے میں جا پہنچے اور ہمارے دوست موصوف بھی دوسرے تھانے رپٹ کرانے گئے ۔ تھانوں کے باہمی رابطہ کار کے نتیجے میں فیملی باہم اکٹھی ہوئی ۔ نقصان اچھا خاصا ہو گیا تھا۔ ہمارے دوست نے اپنی فیملی کے پاسپورٹ جو بچ گئے تھے ۔ وہ بھی ایف آئی آر میں درج کروا دئیے ۔ دو سال اپنے پاسپورٹ پر پاکستان آئے بغیر ویزا تجدید لیتے رہے اور فیملی بغیر پاسپورٹ ویزا دو سال فقط ایف آئی آر کے بل پر ایران میں آزادنہ گھومتی رہی ۔ دو اڑھائی سال میں ہمارے اس دوست نے اپنے ہونے والے نقصان سے کہیں زیادہ پیسے بچا اور کما لیے ۔

ایران میں پاکستان ، انڈیا ، بنگلہ دیش اور افغانستان کے لوگ غیر قانونی طور پر بارڈر کراس کر کے ترکی ، یونان اور پھر یورپ کی طرف نکلنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ان میں اکثریت پاکستانیوں اور افغانیوں کی ہوتی ہے ۔ “انسانی سمگلنگ” اس ریجن میں ایک انٹرنیشنل مافیا ہے ۔ پاکستان میں انسانی سمگلروں کے گروہ کام کر رہے ہیں جو نوجوانوں کو یورپ اور گرین کارڈ کے سبز باغ دکھا کر ورغلاتے ہیں ۔ وہ انہیں یہاں سے ایران لے جاتے ہیں ۔ غیر قانونی اور انتہائی خطرناک انداز سے بارڈر پار کراتے ہیں ۔

ایران میں ان انسانی سمگلروں کا کام انہیں تہران میں اگلے مرحلے کے ایرانی ایجنٹس تک پہنچانا ہوتا ہے جو انہیں تہران سے تبریز اور تبریز سے سرحدی شہر ارومیہ پہنچاتے ہیں ۔ جہاں سے ایرانی ، ترک اور کرد ایجنٹ انہیں ترکی کا سخت اور مشکل ترین اور دشوار و گزار بارڈر کراس کراتے ہیں ۔ انہوں نے ترکی کے شہر استنبول سے بلغاریہ ، یونان اور مقدونیہ پہنچنا ہوتا ہے ۔ اس دوران انسانی سمگلر ایجنٹ بدلتے رہتے ہیں ۔ ان نوجوانوں کی اگلی منزل ہنگری ، سلوینیا ، بوسنیا ،کروشیا ، آسٹریا اور فرانس ، اٹلی یا جرمنی ہوتی ہے ۔

بات ہو رہی تھی ایران میں جرائم کی ۔ ایرانی بلوچ ، کرد ، ترک اور فارسی ایجنٹ بہت بڑی تعداد میں انسانی سمگلنگ میں ملوث ہیں ۔ ان میں اچھے اور برے کی مزید تقسیم ہے ۔ اچھے سے مراد یہ ہے کہ یہ لوگ پیسے کے عوض آپ کو طے شدہ منزل تک پہنچائیں گے اور بہت سے ایسے انسانی سمگلر بھی ہیں جو نوجوانوں کو خرکاروں کو بیچ دیتے ہیں ۔ یہ لوگ نوجوانوں سے بیگار لیتے ہیں ۔ مار پیٹ اور سخت جسمانی تشدد کی ویڈیوز بنا کر نوجوانوں کے گھروں میں بھیج کر انہیں بلیک میل کر کے پیسے لیتے ہیں ۔ ھر لحاظ سے یہ اغوا برائے تاوان ہے ۔ ایران میں انسانی سمگلنگ سخت ممنوع ہے ۔ لہٰذا اس سے جڑے بعض افراد کو ایرانی قانون میں سخت سزائیں دی جاتی ہیں ۔ جبکہ بیشتر مک مکا کر کے رہا ہو جاتے ہیں مگر پھر بھی یہ سلسلہ رکتا نہیں ۔ بیشتر پاکستانی اور افغانی نوجوان ایران میں بارڈر پار کرنے کی نیت سے جاتے ہیں ۔ جسے انسانی سمگلروں کی اصطلاح میں ڈنکی لگانا کہا جاتا ہے یہ اپنی زندگی کا خطرناک ترین رسک لینے کے برابر ہے ۔ ایران انسانی سمگلروں اور یورپ جانے کے شوقین نوجوانوں کے لیے گیٹ وے “Gateway” کی حیثیت رکھتا ہے ۔

ایرانی جیلیں ان انسانی سمگلرز سے بھی بھری رہتی ہیں اور ان نوجوانوں سے بھی جو پکڑے جاتے ہیں ۔

ان نوجوانوں کو تو 10/15 دن جیل میں رکھنے کے بعد ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے اگر وہ کسی اور سنگین جرم میں ملوث نہ ہوں تو ۔

جبکہ انسانی سمگلرز بھی ایرانی قوانین میں موجود سقم کا فائدہ لے کر جلد یا بدیر چھوٹ ہی جاتے ہیں ۔ کئی ایک کو سخت سزا بھی ہوتی ہے ۔

قتل و غارت کے اکا دکا واقعات ہی رپورٹ ہوتے ہیں ۔ وجہ ایرانی سخت قوانین ہیں ۔ ایران سزائے موت پھانسی کی سزا دینے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے جہاں شرعی اور تعذیری قوانین کے تحت کثرت سے پھانسی دی جاتی ہے ۔ ریپ ، قتل عمد ، فساد فی الارض ، بغاوت ، جسم فروشی کے جرائم میں پھانسی لازمی ہے ۔ پہلے اس میں منشیات فروشی بھی شامل تھی مگر بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے اسے عمر قید میں بدل دیا گیا ہے ۔

ایران میں سٹریٹ کرائم بہت زیادہ ہیں ۔ آتشیں اسلحے کا تو خیر میں نے وہاں سنا تک نہیں مگر چاقو بازی کے چند مظاہرے دیکھے بھی ہیں ۔ رہزنی کے دوران چاقو مار دینا معمولی بات ہے اگر آپ کے ساتھ سر عام راہزنی ہو رہی ہے تو سوائے پولیس کے کوئی آپ کو بچانے نہیں آئے گا ۔ لوگ دیکھ کر گزر جائیں گے۔ ایکسیڈنٹ ہو گیا ہو تو تماشائی بہت سارے اکٹھے ہو جائیں گے مگر مدد کرنے والا کوئی پولیس کے سوا نہیں ہوگا۔ وہاں قتل بھی ہوتے ہیں مگر ان کا تناسب کم ہے ۔ قصاص و دیت وہاں رائج ہے ۔ ریپ قسم کے جرائم کی مدعی البتہ ریاست بھی ہوتی ہے اور اس کی سزا بھی عبر تناک دیتی ہے ۔ سنیچنگ کی  پوزیشن تو یہ ہے  کہ راہ چلتے آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا اور اپ کے ہاتھ میں موبائل یا پرس چھین کر یہ جا وہ جا ۔۔۔ نوسر بازی بھی کافی ہے ایک دن ہماری آنکھوں کے سامنے چند نوسرباز لڑکے اور لڑکیاں ہمارے ہی ہاتھوں سے تقریباً پاکستانی پندرہ ہزار روپے کے برابر رقم لے کر رفو چکر ہو گئے یہ ان کا ایک گُر ہے یہ ہمارے ہی ہاتھوں میں گھما کر وہ اس میں سے رقم اڑا لیتے ہیں ، اس ٹھگ بازی میں ایرانی دنیا بھر میں کئی دہائیوں سے مشہور و معروف ہیں ۔ ایک جنگلی پارک میں ہمارے ایک دوست کو بیسیوں فیملیز کے سامنے آٹھ دس ایرانی لونڈوں نے مارا ، سامان اور نقدی چھین لی ، سر عام چاقو سے ڈرایا دھمکایا ۔ ان میں سے ایک نے انہیں کہا کہ یار خارجی ، غیر ملکی ہے اسے چھوڑ دو تو وہ اسے بھی مارنے لگے ۔ سامنے بیٹھی 20 فیملیز دیکھتی رہی تھیں مگر ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ۔ ہمارا دوست منت سماجت کر کے سامان اور نقدی دے کر جان چھڑا کر واپس آیا ۔

میرے ایک معصوم صفت دوست اور شاگرد رشید سہیل مغل کو ایک خوبرو ایرانی دوشیزہ بہلا پھسلا کر اپنے گھر لے گئی اور اپنے شوہر اور ایک دیگر شخص کے ساتھ مل کر اس کی اس قدر مرمت فرمائی کہ موصوف بیس پچیس دن کے لیے صاحب فراش قرار پائے اور ہم نے انہیں گرم دودھ اور ہلدی ملے سرسوں کے تیل سے مالش کر کے حق استادی ادا کیا ۔ موصوف اس کے بعد کافی محتاط تو ضرور ہوئے مگر انہیں ہماری طرف سے کی گئی یہ خدمت اس قدر پسند آئی کہ محتاط ہونے کے باوجود کچھ عرصہ بعد دوبارہ حق استادی کے طلبگار ہوئے اور دس پندرہ دن مذید صاحب فراش رہے

julia rana solicitors london

اس مرتبہ پھر وہ ایک چالاک ایرانی خاتون کے پھسلاوے میں آ کر اس کے گھر پہنچ گئے مگر اس مرتبہ اس کی تواضع کرنے والے افراد کی تعداد تین چار سے زیادہ تھی ۔ کپڑے پھاڑ کر اتار لیے گئے ، فروختنی اور قیمتی سامان ، نقدی ، قیمتی موبائل وغیرہ چھین لیے گئے ۔ معقول سے کافی زائد ٹھکائی اور دھلائی کے دوران موصوف نیکر اور بنیان میں ہمسایوں کے گھر کی دیوار پھاندے اور پھر وہاں سے بھی بھاگے ۔ نصیب اچھے تھے کہ ایران جیسے ملک میں اس حلیے میں پولیس کے ہتھے نہیں چڑھے اور کسی درد مند نے انہیں سائز میں بہت بڑی اور ڈھیلی شرٹ پینٹ عنایت کی جسے موصوف نے اپنے ساتھ راہ زنی کی واردات بتائی اور پھر وہ لنگڑاتے ہوئے گھر پہنچ کر آئندہ 15 روز تک مسلسل ہلدی دودھ پینے اور تیل مالش کے لیے لیٹ گئے ۔ ہمیں اس نے حسب عادت سچ سچ معاملات بتائے کہ اسے عموماً ایرانی خواتین کیسے بار بار اس کے بھولپن کی وجہ سے پھانس لیتی ہیں اور یہ بھی بتایا کہ استاد جی یہ فقط دوسری مرتبہ نہیں ہوا ۔۔۔ بلکہ ماضی میں ہوئے بارہا ایسے واقعات کا تسلسل ھے ۔
(نوٹ) ۔ یہ مضمون بھی میرے زیر تکمیل سفرنامے ” مشاہدات ایران” کا اقتباس ہے جو رائلٹی کے عوض پبلشر کی عدم دستیابی کے باعث ابھی منصہ شہود پر آنے کیلئے بے قرار ہے ۔ قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اس پر منفی ، مثبت تبصرہ ، مکالمہ ضرور کیجئے ۔۔۔ تاکہ مصنف کی حوصلہ افزائی بھی ہو اور اپنی اغلاط کی درستی کے مواقع بھی دستیاب ہوں ۔۔۔ نیز اس پلیٹ فارم کا نام ہی مکالمہ ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply